راحیل شریف کی سعودی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے بعد مسلسل خاموشی قوم کیلئے لمحہ فکریہ


اگرچہ پاکستانی قوم کو توقع تھی کہ سابق آرمی چیف سعودی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے بعد ضرور وضاحت دیں گے تاہم انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اس عہدے کع بعد پہلی مرتبہ اظہار خیال کرتے ہوئے سعودی عرب کا نام تک نہیں لیا جو عوام کے اندر پہلے سے کہیں زیادہ سوالات اٹھائے جانے کا سبب بن گیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں معروف دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل نے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔

اس موقع پر قوم کو توقع تھی کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نہایت اہم عہدہ سنبھالنے پر روشنی ڈالیں گے تاہم انہوں نے سعودی عرب کا نام تک نہیں لیا۔

اگرچہ حامد میر جیسے بعض تجزیہ کاروں نے راحیل شریف کے سعودی اتحاد میں شمولیت کے فیصلے کو غیر اہم قرار دیا ہے تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ راحیل شریف کی سعودی اتحاد سے متعلق مسلسل خاموشی قوم کیلئے لمحہ فکریہ بن گیا ہے۔

سابق آرمی چیف نے اس پروگرام میں اپنی تین سالہ کارکردگی رپورٹ تو پیش کی لیکن سعودی اتحاد کی کمان سنبھالنے سے متعلق کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔

راحیل شریف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بطور آرمی چیف 3 سالہ دور میں بہت کچھ حاصل کیا لیکن کسی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں جس سے پاکستان کے تمام مسائل یکدم حل کرلیے جائیں۔

اس موقع پر جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا کہ پاکستان عزت و وقار کے ساتھ اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ امن کا خواہاں ہے جب کہ پاکستان کو تینوں عالمی طاقتوں سے یکساں تعلقات رکھنے چاہییں اور یہی اس وقت ہورہا ہے اورپاکستان کے تمام عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور آرمی چیف 3 سالہ دور میں بہت کچھ حاصل کیا لیکن ملک میں کسی کے بھی پاس جادو کی چھڑی نہیں جس سے تمام مسائل یک دم حل کرلیے جائیں۔

سابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اچھی اور مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھا جاسکتا ہے اور اسی سوچ نے مجھے چین، افغانستان اور خلیجی  ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے میں بہت مدد دی۔  انہوں نے کہا کہ میرے 3 سالہ دور میں افغانستان سے تعلقات میں بہتری آئی تھی، امید ہے نئے آرمی چیف کی جانب سے بھی اس پیش رفت کو آگے لے جایا جائے گا تاہم پاکستان اور افغانستان کی قیادت کو تعلقات بہتر بنانے کے لیے ابھی بہت کام کرنا ہوگا۔

جنرل (ر) راحیل شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مل کر دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی فضا کو بحال کرنا ہوگا جب کہ دونوں ممالک میں تعلقات کی بہتری کے لیے بہت ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے لیے گیم چینجر ہے۔

واضح رہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں موجود ہیں جہاں انہوں نے عالمی اقتصادی فورم کے ایک سیشن  میں اظہار خیال کرتے ہوئے سی پیک سمیت دہشت گردی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔