پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی کا ذمہ دار ادارہ تحفظ ماحولیات ہے؟


ہمارے ہاں ہمیشہ سے یہ روایت قائم رہی ہے کہ کبھی ذمہ دار کا تعین نہیں کیا جاتا اور اگر کوئی حقائق کی روشنی میں ذمہ دار کا تعن کرنے کی جسارت کر ہی لے تو نہ تو ذمہ دار کا احتساب کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: ہمارے ہاں ہمیشہ سے یہ روایت قائم رہی ہے کہ کبھی ذمہ دار کا تعین نہیں کیا جاتا اور اگر کوئی حقائق کی روشنی میں ذمہ دار کا تعن کرنے کی جسارت کر ہی لے تو نہ تو ذمہ دار کا احتساب کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ نتائج تو ظاہر ہے کہ بے حس و بے اختیار عام آدمی کو ہی بھگتنا پڑتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس تحریر پر بھی کچھ ایکشن نہیں ہونے والا لیکن جو راقم کی قومی ذمہ داری ہے ادا کر رہا ہے۔

کل بروز منگل لاہور اور اسکے گرد و نواح کے لوگوں نے پاکستان کی تاریخ کی ایک دن میں چوتھی سب سے زیادہ بارش کا ریکارڈ قائم ہوتا دیکھا۔ بارش کے پانی نے شاید ہی کوئی گلی یا محلہ ہو گا جسے اپنی آغوش میں نہیں سمو لیا۔ ہم میں سے شاید ہی کوئی خوش نصیب ہو گا جسے اس شدید بارش نے اثر انداز نہیں کیا۔ ادارہ تحفظ ماحولیات کو ذمہ دار کیوں مانتا ہوں؟ اس سوال کے جواب سے پہلے آپ چند ضروری حقائق جان لیں۔

انیس سو اکسٹھ سے انیس سو نوے تک لاہور میں جولائی کے مہینہ میں اوسط بارش دوسودو ملی میٹر ہوئی جبکہ پورے سال میں ہونے والی بارش کی اوسط چھ سو انتیس ملی میٹر رہی ۔ انیس سو نوے سے دو ہزار تین تک سالانہ اوسط  چھ سو چالیس ملی میٹر کے لگ بھگ رہی جبکہ دوہزار تین میں تین سو ستتر، دوہزار پانچ میں چار سو چھبیس، دوہزار چھ میں چھ سو چھ ، دوہزار سات میں پانچ سو اکتیس ، سوہزار آٹھ میں آٹھ سو ، دوہزار نو میں تین سو اٹھارہ، دوہزار دس میں سات سو گیارہ، دوہزار گیارہ میں ایک ہزار چار سو انتالیس ، دوہزار بارہ میں پانچ سو ستتر، اور دوہزار تیرہ میں گیارہ سو پندرہ ملی لیٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے درمیان ہونے والی بارش دوسواٹھارہ ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جو کہ تقریبا گیارہ سالوں میں ہونے والی بارش سے زیادہ ہے۔ یعنی آسان الفاظ میں قارئین کے سمجھنے کے لیئے کہوں تو ایک دن میں اتنی بارش ہوئی جتنی ماضی کے کچھ سالوں میں پورے پورے سال میں ریکارڈ کی گئی۔

لاہور شہر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے تو ہم سب ہی بخوبی واقف ہیں ۔ نوے کی دہائی تک سرد ترین موسم منفی دو اعشاریہ دو ڈگری سینٹی گریڈ تک جاتا تھا جبکہ گرم ترین دن اڑتالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا تھا۔ جبکہ اوسط درجہ حرارت گرمیوں میں تیس ڈگری سینٹی گریڈ اور سردیوں میں اٹھارہ ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا تھا۔ اب آج کی صورتحال ملاحظہ فرما لیں ۔ اکتیس دسمبر دوہزار اٹھارہ اس سال لاہور کا سرد ترین یوم تھا جس میں کم ترین  درجہ حرارت پانچ ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو سکا تھا۔ اوسط سرد درجہ حرارت چوبیس ڈگری سینٹی گریڈ اور  اوسط گرم درجہ حرارت بیالیس ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ یعنی آسان الفاظ میں بات کروں تو ہمیں پورا سال دس سے بارہ ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت زیادہ کرمی کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے انیس سو نوے کے مقابلہ میں۔

اب لاہور شہر کی فضائی آلودگی کا بھی احاطہ کر لیتے ہیں۔ جناب والا پاکستان ایئر کوالٹی انیشئیٹو کی جاری کردہ دوہزار سترہ کی رپورٹ کے مطابق دوہزار سترہ میں صرف دو دن کے فضائی موسم کو انسانی صحت کے لیئے اچھا جبکہ چھتیس  دن کے فضائی ماحول کو انسانی صحت کے لیئے انتہائی مضر قرار دیا جبکہ مجموعی طور اس رپورٹ کا خلاصہ بیان کروں تو یہ رپورٹ کہتی ہے کہ لاہور کے رہائشی مضر صحت آب و ہوا کے بین الاقوامی معیار سے نو گنا زیادہ ماحولیاتی آلودگی میں زندہ رہ رہے ہیں ۔

انتہائی اختصار کے ساتھ مسئلہ کی نشاندہی کرنے کے بعد اب آتے ہیں ادارہ تحفظ ماحولیات کے کردار اور کارکردگی کی طرف۔ کیا واقعی ادارہ تحفظ ماحولیات اس تمام کا ذمہ دار ہے؟  اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ ادارہ تحفظ ماحولیات کے کام کرنے کا مقصد نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کو روکنا ہے بلکہ ایک عام پاکستانی یہ ہی سمجھتا ہے کہ جو بھی چیز ہمارے ماحول کے لیئے نقصان دہ ہے اس کی ذمہ داری اس ادارہ کے نازک کندھوں پر ہے! لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے ۔ مال روڈ پربارش کے باعث گڑھا پڑ گیا۔ کیوں؟ جناب یہ گڑھا اورنج لائن کے زیر زمین بنائے جانے والے اسٹیشن کے قریب پڑا۔ ہیوی مشینری نے دن رات تھرتھراہٹ پیدا کی جن کی وجہ سے زمین دھنستی چلی گئی اور اس کے اوپر سڑک اپنی جگہ اس وقت تک قائم رہی جب تک کہ اس پر پانی کا دبائو نہیں آیا ۔ پانی کے دبائو نے پہلے ایک سوراخ کیا اور پھر سطح زمین جہاں تک جا سکتی تھی نیچے دھنس گئی اور ایک گڑھا ساری دنیا کے سامنے آگیا۔ لیکن اس اورنج لائن کی تعمیر سے بہت پہلے ایک میٹرو بس لاہور میں چلائی گئی اور اس کے لیئے جاپان کی ایک ایجنسی جائیکا نے ادارہ تحفظ ماحولیات کی مدد سے ایک ماحولیاتی اسٹڈی مکمل کی ۔ اس اسٹڈی کے منظر عام پر آنے سے پہلے پہلے ہی ادارہ تحفظ ماحولیات کے دائرہ اختیار سے ارتعاش کی صورت میں پیدا ہونے والی مشکلات اور زیر زمین تبدیلیوں کے بروقت تدارک کے اختیارات کو واپس لے کر لوکل گورنمنٹ کے حوالہ کر دیا گیا اور وہاں سے دو سال بعد یہ اختیار ایک ڈی اے کو ٹرانسفر کر دیا گیا۔ اور ایل ڈی اے کے احد چیمہ والی کہانی سے تو سب واقف ہی ہیں ۔ لہذا آج اس کا اور اسطرح کے دیگر واقعات کا کوئی ذمہ دار ہی نہیں لیکن میری گفتگو کا حاصل یہ بالکل بھی نہیں۔

لاہور میں اس وقت ایک ہزارایک سو ستر کے لگ بھگ مختلف مٹیریل تیار کرنے کے بڑے کارخانے کام کر رہے ہیں جبکہ چھوٹے کارخانوں کی تعداد لاکوں میں نہ سہی ہزاروں میں ضرور ہے ۔ آپ کو سن کر حیرانی ضرور ہو گی کہ ان تمام کو مانیٹر کرنے کے لیئے کل پانچ انسپکٹر موجود ہیں جن میں سے ایک ریٹائرمنٹ کے متلاشی ہیں  جبکہ ایک انسپکٹر کو دو اسسٹنٹ کی سہولت دستیاب ہے۔ گو کہ کل طلب آٹھ انسپکٹرز کی ہے اور دیگر عملہ کی طلب بھی عرصہ دراز سے سرد خانہ کی نظر ہوئے پڑے ہیں  ۔ تمام اضلاع کا یہ ہی حال ہے اور دوسری جانب فنڈز کی عدم دستیابی کا نوحہ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ یعنی نہ تو ماحولیات اور نہ ہی محکمہ تحفظ ماحولیات حکومتی ترجیح کا حصہ نہیں ہے۔

دوسری جانب جہاں احتساب اور جواب دہی کا کوئی پرسان حال ہی نہیں وہاں کرپشن کا ہونا ایک عمومی سی بات ہے۔ تحقیقی رپورٹ کسی دوسرے دن شائع کروں گا جس میں محکمہ کے افراد کو رشوت لیتے دیکھا جا سکے گا لیکن یہاں ایک معاملہ نہیں جمیع معاملہ زیر بحث ہے۔

لاہور شہر جسے کبھی باغات کا شہر کہا جاتا تھا آج پوری محنت کے بعد بھی چند ایک درخت دکھائی دیتے ہیں لیکن  درخت کاٹنے والوں کا ہاتھ روکنے کے ذمہ داران تو کم نفری کا رونا رو رہے تھے، ہر فیکٹری ٹائر بطور ایندھن استعمال کر رہی ہے لیکن مجال ہے کہ کسی فیکٹری کے خلاف کوئی کاروائی عمل میں آئی ہو، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں ہو یا فیکٹریوں کی جانب سے زہریلے فضلہ کا اخراج ، محکمہ تحفظ ماحولیات کے اہلکاروں کو شاید کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ اور اس پر المیہ یہ ہے کہ کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے کہ جو یہ سوال ہی کر سکے۔ جس طرح شہر میں راہزنی کا ذمہ دار پولیس کو ٹھرایا جاتا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کی ذمہ دار پولیس ہوا کرتی ہے اسی طرح محکمہ تحفظ ماحولیات ہمارے ماحول کے تحفظ کی ضامن ہے لہذا ماحولیاتی آلودگی، سموگ، اور غیرفطری ماحولیاتی تبدیلیوں  سے شہریوں کو محفوظ رکھنے اور بروقت خطرات سے آگاہ کرنے کا ذمہ دار بھی محکمہ تحفظ ماحولیات ہی ہے۔ اب اگر آپ کام نہیں کر سکتے تو گھر جائیں اور اگر کوئی رکاوٹ ہے تو عوام آپ کے ساتھ ہے لیکن آپ عوام کو اعتماد میں لے کر اپنے ہاتھ اور ماحول کو محفوظ بنائیں ۔ یہ ہی آپکا قومی اور ملی فریضہ بھی ہے اور آپکی تنخواہ کا اصل مقصد بھی۔ لیکن اگر آپ صرف ہاتھ پر ہاتھ دھر کر افسر شاہی کے مزے بغیر کام کیئے لوٹنا چاہتے ہیں تو ڈریں اس وقت سے جب آپ کو عوام کے سامنے جواب دہ ہونا پڑجائے اور عدالتی فیصلہ سے پہلے عوامی فیصلہ آپکا استقبال کر رہا ہو۔ مثالیں آپکے سامنے ہیں شاید آپ اس نوشتہ دیوار کو سمجھیں ۔