پاکستان کا ایران، عراق اور شام زیارتوں کی پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ + تصاویر


پاکستان کی وزارت برائے مذہبی امور نے ایران، عراق اور شام کی زیارتوں کی پالیسی کو مرتب کرنے کے لئے کام شروع کردیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کی زیر صدارت ایک اجلاس میں ایران، عراق اور شام زیارتوں کی پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق زیارت پالیسی کے تحت حج عمرہ کی مانند ٹوور آپریٹرز ماڈل برائے زائرین تیار کی جائے گی اور زیارت پالیسی کی حج 2019 کے بعد کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔
اجلاس میں ایران اور عراق زیارتوں کی پالیسی کے خدوخال پر ایڈیشنل سیکرٹری وزارت مذہبی امور نے بریفنگ دی۔
وزارت مذہبی امور کے حکام نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ محرم کے دوران ہر سال 60ہزار سے ایک لاکھ زائرین ایران عراق جاتے ہیں۔ ایک سال میں تقریبا 6 لاکھ سے زائد زائرین ایران عراق جاتے ہیں۔

 


اس موقع پر پیر نور الحق قادری نے کہا کہ اس سال ایران، عراق زائرین کے لئے محرم سے قبل کابینہ سے منظوری لی جائے گی، شعیہ علماء کے ساتھ ملکر زیارات پالیسی مرتب کریں گے۔
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ امسال زائرین حج عمرہ کی مانند زیارات پر جائیں گے، زائرین مکمل سہولیات اور سیکورٹی فراہم کرے گی۔
اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان ممالک کی زیارات میں حضرت امام حسین علیہ السلام، حضرت غازی عباس علمدار علیہ السلام، حضرت امام رضا علیہ السلام، بی بی معصومہ قم سلام اللہ علیہا، حضرت عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالی اور امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی کے مزارات سمیت بہت سے مقدس مقامات شامل ہیں۔

 


اس اجلاس میں شعیہ علماء میں علامہ راجہ ناصر عباس، علامہ امین شہیدی، علامہ عارف واحدی اور غضنفر مہدی کے علاوہ پارلیمانی سیکرٹری جہانگیر آفتاب اور وفاقی سیکرٹری محمد مشتاق احمد نے شرکت کی۔ جبکہ وزیراعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانی زلفی بخاری نے بھی خصوصی شرکت کی۔