افغان شہریوں کو دہشتگردوں سے زیادہ نیٹو اور افغان فورسز نے قتل کیا


اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں رواں برس اب تک نیٹو اور افغان فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد اس سے زائد ہے جو دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ نے دنیا کو چونکا کر رکھ دیا ہے۔
رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ رواں سال اب تک افغانستان میں نیٹو اور افغان فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد اس سے زائد ہے جو عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق رواں برس کی پہلی ششماہی میں نیٹو اور افغان فورسز کے ہاتھوں مجموعی طور پر 717 عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ انہی عرصے کے دوران طالبان اور داعش نے 531 شہری قتل کئے۔
افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (یواین اے ایم اے ) نے اپنے اعداد و شمار میں کہا ہے کہ زیادہ تر امریکی طیاروں کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں 363 افراد لقمہ اجل بنے ہیں جن میں 89 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اموات 2019ء کے پہلے 6 ماہ میں ہوئی ہیں۔
دوسری جانب امریکی افواج نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اپنے اعداد و شمار قدرے درست ہیں کیونکہ امریکی افواج ہمیشہ ہی شہریوں اور غیرمسلح افراد کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتی ہیں تاہم انہوں نے اپنے اعدادوشمار پیش نہیں کیے۔
بہرحال اگر اس رپورٹ کو سچ تسلیم کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر افغانستان کو طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو عام عوام کا اتنا نقصان نہیں ہوگا جتنا افغان شہریوں کی حفاظت پر مامور امریکی فوج کر رہی ہے۔