ضیاءالحق؛ پاکستان میں کلاشنکوف کلچر کا خالق


5 جولائی 1977ء کو پاکستان میں طویل ترین مارشل لاء لگانے والا آمر 17 اگست 1988ء کو ایک فضائی حادثے کا شکار ہوا۔ یہ پاکستان کی وہ شخصیت تھی جس نے ملک کے معصوم عوام کو کلاشنکوف کلچر کے علاوہ بہت سے ایسے تحائف دئے جن کا خمیازہ پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 31 سال قبل ایک فضائی حادثے کی بدولت پاکستان کو فوجی آمر جنرل ضیاءالحق کے نافذ کئے ہوئے 11 سالہ مارشل لاء سے تو نجات مل گئی تاہم اس دور کے بدترین اثرات نے آج تک پاکستان کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

5 جولائی کو آپریشن "فیئر پلے" کا نعرہ لگا کر ضیاءالحق نے پاکستان کے پہلے منتخب رہنما وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا کر ملک میں تیسرا مارشل لاء نافذ کر دیا۔

بعد ازاں، ایک شہری کے قتل کا مقدمہ چلا کر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے تختے پر لٹکا دیا گیا۔ یوں پاکستان پر ضیاءالحق نے اپنی 90 روزہ حکمرانی کا آغاز کیا جو 11 سال تک قائم رہنے کے بعد اس کی موت کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔

ضیاء دور کو بجا طور پر پاکستان کے سیاہ ترین دور کے حوالے سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ماضی کے جھروکوں سے ضیاءالحق کے تاریک دور حکومت کی چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔

  • خود ساختہ، عبوری اور آمرانہ آئین بنا کر ججوں سے زبردستی حلف لیا گیا اور انکار کرنے والے جج صاحبان کو برخاست کر دیا گیا۔
  • ملک میں 90 دن میں عام انتخابات کروا کر عوامی حکومت قیام کرنے کے بجائے 11 سال تک پاکستان کا سربراہ بنے رہا۔
  • ناپسندیدہ صحافیوں کو نہ صرف جیل میں ڈالا گیا بلکہ ان پر کوڑے بھی برسائے گئے۔
  • اپنے خلاف کھلنے والی زبانوں کو خاموش کرنے کے لئے سرعام پھانسیاں دی گئیں۔
  • 11 سال تک اسلامی نفاذ کا راگ الاپنے کے باوجود سودی نظام کو برقرار رکھا گیا۔
  • سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی اور علاقائی و لسانی سیاست کو فروغ دیا گیا۔
  • ملک بھر میں عوامی مقامات پر دہشتگردی بھی پاکستان کو اسی دور حکومت کا تحفہ ہے جس نے آج ایک عفریت کا روپ دھار لیا ہے۔
  • کراچی میں پہلی بار خانہ جنگی بھی اسی دور میں شروع ہوئی جس پر آج تک قابو نہیں پایا جا سکا۔
  • اہل تشیع برادری کے خلاف ٹارگٹ کلنگ جیسے مکروہ فعل کا آغاز بھی اسی آمر کے دور حکومت میں ہوا۔
  • اسی دور حکومت میں سیاچن کا ایک وسیع علاقہ بھی گنوا دیا گیا۔
  • مقبوضہ کشمیر میں مسلح دہشت گرد بھیج کر نہ صرف کشمیر کاز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا بلکہ دنیا بھر کے سامنے پاکستان کو بدنام بھی کیا گیا۔
  • مشرقی پنجاب میں سکھ دہشت گردوں کی مدد کی گئی جو کسی بھی حوالے سے پاکستان کے حق میں نہ تھی۔
  • نام نہاد افغان جہاد میں بےپناہ قومی وسائل جھونکے گئے جن کا پاکستان کو کوئی فائدہ نہ تھا۔
  • کلاشنکوف کلچر بھی وطن عزیز کو اسی آمر کا تحفہ ہے جس کا خمیازہ پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے۔

الغرض پاکستان کو جس قدر سیاسی، سفارتی اور امن و امان کے حوالے نقصان مذکورہ 11 سالوں میں پہنچا، اس کی تلافی شاید کبھی نہ ہو سکے۔

تحریر: سید عدنان قمر جعفری

(ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)