امام حسن علیہ السلام کے دور حکومت کی مشکلات


شیعہ اور اہل سنت منابع میں امام حسنؑ کے فضائل اور مناقب کے سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپؑ اصحاب کساء کے چوتھے رکن ہیں آپ کے متعلق آیہ تطہیر نازل ہوئی ہے جس کی بنا پر ہم ان ہستیوں کو معصوم سمجھتے ہیں۔

✍️ تحریر: رضوان نقوی

تسنیم خبررساں ادارہ: امام حسن مجتبی علیہ السلام شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپ امام علی علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کے پہلے فرزند اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بڑے نواسے ہیں۔ آپ کی امامت کا دورانیہ دس سال (40-50ھ) پر محیط ہے۔ تاریخی شواہد کی بنا پر پیغمبر اکرمؐ نے آپ کا اسم گرامی "حسن" رکھا اور حضور اکرم آپ سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ آپ نے اپنی عمر کے سات سال اپنے نانا رسول خداؐ کے ساتھ گزارے، بیعت رضوان اور نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ میں اپنے نانا کے ساتھ شریک ہوئے۔

شیعہ اور اہل سنت منابع میں امام حسنؑ کے فضائل اور مناقب کے سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپؑ اصحاب کساء کے چوتھے رکن ہیں آپ کے متعلق آیہ تطہیر نازل ہوئی ہے جس کی بنا پر ہم ان ہستیوں کو معصوم سمجھتے ہیں۔ آیہ اطعام، آیہ مودت اور آیہ مباہلہ بھی انہی ہستیوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ امام حسن علیہ السلام نے دو دفعہ اپنی ساری دولت اور تین دقعہ اپنی دولت کا نصف حصہ خدا کی راہ میں عطا کیا۔ آپ کی اسی بخشندگی کی وجہ سے آپ کو "کریم اہل بیت" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے 20 یا 25 دفعہ پیدل حج ادا کیا۔

21 رمضان 40ھ کو امام علیؑ کی شہادت کے بعد آپ امامت و خلافت کے منصب پر فائز ہوئے اور اسی دن تقریبا 40 ہزار سے زیادہ لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔ جب معاویہ تک یہ خبر پہنچی کہ امام حسن مسند خلافت پر بیٹھ گئے ہیں تو اس نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ تاریخ میں نقل ہوا ہے کہ اس نے ایک لاکھ پچاس ہزار کے لشکر کو امام کے خلاف جنگ کے لئے روانہ کر دیا۔ امام حسن نے سپاہ معاویہ کی پیش قدمی روکنے کے لئے لشکر اسلام کو عبید اللہ ابن عباس کی قیادت میں شام کی طرف روانہ کیا۔ دونوں فوجوں کا آمنا سامنا "مسکن" کے مقام پر ہوا۔ ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ امام تک خبر پہنچی کہ عبید اللہ دس لاکھ درہم کے عوض اپنے آٹھ ہزار فوجیوں کے ساتھ سپاہ معاویہ میں شامل ہو گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد لشکر امام کے حوصلے پست ہو گئے۔ عبید اللہ کے بعد لشکر کی سپہ سالاری قیس بن سعد کے پاس آ گئی۔ معاویہ نے قیس کو بھی دھوکے اور لالچ کے ذریعے سے اپنی طرف بلانے کی کوشش کی لیکن قیس بن سعد نیک اور با بصیرت انسان تھے، معاویہ کے چنگل میں نہ آئے۔

معاویہ نے فقط اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ امام اور اس کے ساتھیوں کے درمیان شگاف ڈالنے کے لئے سر توڑ کوششیں کیں۔ وہ اپنے جاسوسوں کے زریعے سے مختلف افواہیں پھیلاتا۔ کبھی کہا جاتا کہ قیس امام کا ساتھ چھوڑ کر معاویہ کے ساتھ مل گیا ہے۔ کبھی افواہ پھیلائی جاتی کہ امام حسن نے معاویہ کے ساتھ صلح کر لی ہے۔ معاویہ نے کچھ افراد کو امام حسن سے ملاقات کے لئے بھیجا۔ وہ لوگ امام سے ملاقات کے بعد جب خیمہ سے باہر آئے تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ امام حسن نے صلح کے لئے آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ اس افواہ کو سنتے ہی لوگ سخت غصہ میں آ گئے۔ انہوں نے امام پر حملہ کر دیا یوں امام کی فوج آپس میں تقسیم ہو گئی۔ اس طرح امام حسن کے دور حکومت کی مشکلات کا آغاز ہوا۔

امام حسن علیہ السلام کے دور حکومت کی سب سے بڑی مشکل خود معاویہ تھا جو شام کی حکومت پر زبردستی مسلط تھا۔ وہ امیرالمومنین بننے کے خواب دیکھ رہا تھا اور اپنی بادشاہت قائم کرنا چاہتا تھا۔ تاریخ میں معاویہ کے بہت سے سیاہ کارناموں کا ذکر ہے۔ ہم فقط دو اہم ترین کو یہاں بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام پر لعن طعن کرنے کا سرکاری حکم تھا۔ شام میں خطباء اور مولوی کھلے عام امیرالمومنین پر لعن کرتے تھے۔ یہ لوگ اس عمل کو ثواب سمجھ کر انجام دیتے۔ اس لعن طعن کا نتیجہ آج بھی ہم دیکھ سکتے ہیں جو داعش اور تکفیریت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

اس کا دوسرا سیاہ کارنامہ یہ تھا کہ اس نے جعلی حدیثوں کی فیکٹری لگائی ہوئی تھی۔ معاویہ ایسے لوگوں کو بہت بڑی رقم دیتا تھا جو معاویہ کے حق میں جعلی احادیث گھڑتے تھے۔ ایسی حدیثیں جو اہل بیت کی شان میں تھیں ان کو بنی امیہ کی طرف نسبت دی جاتی۔ یہ ایک بہت بڑا ظلم تھا جو معاویہ نے تاریخ میں انجام دیا۔ افسوس یہ کہ لوگوں نے بھی ایسی بدعتوں کو قبول کیا۔ حال یہ تھا کہ معاویہ نے جمعہ کی نماز بدھ کو پڑھا دی اور لوگوں نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی مشینری اور اس زمانے کے ذرائع ابلاغ کس قدر لوگوں پر اثر انداز تھے کہ لوگ حکومت اور معاویہ کے ہر کام کو عین اسلام سمجھتے تھے۔

معاویہ نے امام حسن علیہ السلام کی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے کئی اقدامت انجام دئے جن میں سے ایک امام کے لشکر کے سپہ سالاروں کو فریب اور لالچ کے زریعے سے اپنے ساتھ ملانا تھا۔ امام علیہ السلام نے امیرالمومنین کی شہادت کے بعد ایک بلیغ خطبہ دیا اور لوگوں کو شام کے باغیوں کے خلاف جنگ کے لئے تیار کیا۔ جنگ کی سپہ سالاری عبید اللہ ابن عباس کے سپرد کی اور اسے شام کی طرف پیش قدمی کرنے کا حکم دیا تاکہ دشمن کی فوج کا راستہ روکا جا سکے۔ عبید اللہ ابن عباس وہ تھے جن کے دو بیٹوں کو معاویہ کے ایک سپاہی نے امیرالمومنین کے دور میں بڑی بے دردی سے شہید کر دیا تھا۔ معاویہ کو جب خبر پہنچی کہ امام حسن نے سپہ سالاری عبید اللہ کو سونپ دی ہے۔ اس نے عبید اللہ کو ایک خط لکھا۔ اسے دس لاکھ درہم کی پیشکش کر دی۔ عبید اللہ لالچ میں آ گیا اور معاویہ کی پیشکش قبول کر لی۔ عبید اللہ شب کی تاریکی میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ معاویہ کی فوج سے جا ملا۔ صبح امام کا لشکر دیکھتا ہے کہ ان کا سپہ سالار ہی موجود نہیں۔

دوسرا کام جو معاویہ نے انجام دیا وہ منافقین اور جاسوسوں کے زریعہ سے امام کی حکومت کو کمزور کرنا تھا۔ جب امام، دشمن کے خلاف اپنے لشکر کو تیار کر رہے تھے۔ ادھر معاویہ کے جاسوس بھی اپنے کام میں مصروف تھے جو منافقین کے زریعہ سے امام کی فوج کو تقسیم اور کمزور کر رہے تھے۔

تیسرا کام جو معاویہ نے انجام دیا، زبردستی صلح کے لئے امام کو مجبور کرنا تھا۔ جب معاویہ، امام کے خلاف جنگ کے لئے تیار بیٹھا تھا۔ امام کے بعض قریبی ساتھی واضح کہتے تھے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔

اہل سنت کے معروف مورخ ابن اثیر اپنی کتاب "اسد الغابة" میں نقل کرتے ہیں کہ امام حسن نے ایک خطبہ میں لوگوں کو معاویہ کے خلاف جنگ و جہاد کی دعوت دی اور فرمایا: اگر جنگ و جہاد کے لئے تیار ہو تو اپنی تلواروں کو نیام سے نکالو اور اگر دنیاوی زندگی پسند کرتے ہو تو واضح بتا دو آپ لوگ کیا چاہتے ہو؟ اکثریت نے بلند آواز سے کہا: "البقیة البقیة" یعنی ہم باقی رہنا چاہتے ہیں۔ بہر حال ایسی صورت حال میں امام مجبور تھے کہ معاویہ کے ساتھ صلح کریں جب امام کے حقیقی چاہنے والوں اور پیروکاروں کی تعداد بہت محدود تھی۔

شیخ مفید اپنی کتاب "الارشاد" میں فرماتے ہیں: امام کے پاس صلح کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ امام کے ساتھی با بصیرت اور وفادار نہیں تھے۔ یہ لوگ تیار تھے کہ امام کو معاویہ کے حوالے کر دیں حتی امام کے قریبی رشتہ دار اور فوج کے سپہ سالار عبید اللہ ابن عباس نے بھی امام کو دھوکہ دے دیا اور معاویہ کے ساتھ مل گیا۔

امام کے پاس دو راستے تھے یا معاویہ کے خلاف جنگ کرتے جس میں کامیابی کی کوئی امید نہ تھی یا صلح کر لیتے۔ امام نے مصلحت اسلام کے تحت معاویہ کے ساتھ مجبورا صلح کر لی تاکہ اس زریعہ سے معاویہ کے چہرے سے نقاب اتاریں اور اس کی سازشوں کو بے نقاب کریں۔ آخر کار جب امام نے دیکھا کہ اس صورت حال میں صلح کے علاوہ چارہ نہیں۔ امام اس وقت کے حالات کے مطابق مجبورا صلح کے لئے تیار ہو گئے۔ صلح کی شرائط درج ذیل تھیں۔

1- حکومت معاویہ کے سپرد اس شرط پر کی جائے گی کہ معاویہ کتاب و سنت اور خلفائے راشدین کی سیرت پر عمل کرے گا۔

2- معاویہ کے بعد حکومت امام حسن اور پھر امام حسین کا حق ہو گی۔

3- معاویہ منبروں پر امام علی علیہ السلام پر لعن طعن کو بند کروائے گا۔

4- عراق، شام، حجاز، یمن اور ایران کے لوگوں کو امن و امان سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو گا۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام حسن معاویہ کی کرتوتوں سے واقف تھے اس کے باوجود صلح کو کیوں قبول کر لیا، جب کہ امام کو معلوم تھا معاویہ صلح کی شرائط پر کبھی بھی عمل نہیں کرے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ امام اس ذریعہ سے معاویہ کی اسلام کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرنا چاہتے تھے۔ امام نے اپنی صلح کو صلح حدیبیہ سے تشبیہ دی اور فرمایا میری معاویہ سے صلح اس طرح ہے جس طرح رسول اللہ نے مشرکین کے ساتھ صلح کی تا کہ اسلام کی حفاظت کی جا سکے۔

صلح کے بعد آپ سنہ 41ھ کو مدینہ واپس آئے اور زندگی کے آخری ایام تک یہیں پر مقیم رہے۔ مدینہ میں آپؑ علمی مرجعیت کے ساتھ ساتھ سماجی اور اجتماعی طور پر بھی قدر و منزلت کے حامل تھے۔ مدینہ میں امام نے لوگوں کی ہدایت اور تربیت کے لئے چند بنیادی اقدامات انجام دئے۔

1- امام نے معاویہ کے اسلام کے مقابلے میں حقیقی اسلام ناب محمدی کی ترویج اور اشاعت فرمائی۔

2- امام معاویہ کی بدعتوں کو لوگوں کے سامنے آشکار کرتے اور اس کی سیاسی پالیسیز پر تنقید فرماتے۔

3- امام نیازمندوں اور محتاجوں کی مدد فرمایا کرتے۔

4- امام لوگوں کے سامنے حقیقی اسلام کو بیان فرماتے اور معاویہ کی کارستانیوں سے لوگوں کو آگاہ فرماتے۔

5- مدینہ میں امام کے شاگردوں میں کئی عظیم صحابی بھی شامل تھے جن میں جابر بن عبداللہ انصاری، حبیب ابن مظاہر، حجر بن عدی، زید بن ارقم، سلیمان بن صرد خزاعی، کمیل بن زیاد، میثم تمار اور ابوالاسود دوئلی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ابو مخنف نے کربلا سے متعلق اپنی کتاب میں عبداللہ ابن جعفر طیار، عبداللہ ابن عباس، عبد الرحمن ابن عوف اور محمد بن اسحاق کے نام بھی ذکر کئے ہیں۔

امام حسنؑ کی ذوجہ جعدہ نے آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا۔ آپؑ نے اپنے نانا رسول خداؑ کے جوار میں دفنائے جانے کی وصیت کی تھی لیکن مروان بن حکم اور بنی امیہ کے بعض دوسرے لوگوں نے اس کام سے منع کیا یوں آپ کو جنت البقیع میں سپرد خاک کر دیا گیا۔