کشمیر کی صورتحال پر بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد


پاکستان نے آزاد جموں و کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں بھارتی وزیر دفاع کا بیان بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے  ایک بیان میں کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان پاکستان مخالف جنون کی عکاسی کرتا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ 5 اگست کا بھارتی اقدام مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش کا حصہ ہے اور ڈومیسائل جیسے قوانین کشمیریوں کے حقوق دبانے کی کوشش ہیں۔ 
ترجمان کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت بندوق کی نوک پر  10 ماہ سے مقبوضہ کشمیر کا لاک ڈاؤن کیے ہوئے ہے جب کہ کرفیو اور مواصلاتی پابندیاں عالمی و انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا جب کورونا وبا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے، ایسے میں بھارتی افواج نے جعلی مقابلوں اور گھرگھر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے نام پر ظلم و جبر مزید تیز کردیا ہے۔ 
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جنازوں کے لیے کشمیری شہدا کے جسد خاکی تک ان کے گھر والوں کو واپس نہیں کیے جا رہے، اختلاف رائے رکھنے والوں کو خاموش کرایا جارہا ہے یہاں تک کہ تمام حریت رہنما مسلسل قید وبند کا شکار ہیں۔ 
عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ پاکستان بے گناہ کشمیریوں کو درپیش مشکلات اور مصائب دنیا کے سامنے لاتا رہے گا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت ان کے آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ناقابل تنسیخ حق کی بھرپور حمایت کرتا رہے گا۔