بھارت میں پاکستانی ہندوؤں کے قتل کے خلاف حیدرآباد سے لانگ مارچ کا آغاز


بھارت میں پاکستانی ہندوؤں کے قتل کے خلاف پاکستان ہندو کونسل کی اپیل پر حیدرآباد سے اسلام آبادتک لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، پاکستانی تارکین وطن ہندوؤں کے بھارت کے شہر جودھ پور میں بہیمانہ قتل کیخلاف سندھ کی ہندو برادری سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئی۔

پاکستانی ہندو برادری کے افراد کی بڑی تعداد نے روہڑی بائی پاس پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے بھارتی مظالم کیخلاف نعرے بازی کی اور جودھ پور میں پاکستانی تارکین وطن ہندوؤں کے بہیمانہ قتل کیخلاف عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا عندیہ دیدیا۔

پاکستان ہندو کونسل کی اپیل پر حیدرآباد سے شروع ہونیوالے لانگ مارچ کے شرکاء روہڑی بائی پاس پہنچے، شرکاء میں خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی جو کہ سیکڑوں گاڑیوں میں سوار ہوکر روہڑی پہنچے۔

شرکاء نے بائی پاس پر احتجاجی مظاہرہ کیا، نریندر مودی اور بھارتی حکومت کیخلاف نعرے بلند کئے۔

 مظاہرین کا کہنا تھا کہ سیکولرازم کے دعوے دار بھارت میں پاکستانی ہندوؤں کے ساتھ مظالم کا سلسلہ جاری ہے، جس کی مثال گیارہ پاکستانی ہندوؤں کا قتل ہے، اس واقعہ نے بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔

بھارتی حکومت پاکستانی تارکین وطن کے ساتھ مظالم بند کرے اور انصاف کرے ورنہ ہم عالمی عدالت کادروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اس واقعہ کا نوٹس لینے، آر ایس ایس اور را کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کیا۔

شرکاء نے پاکستانی حکومت سے اپیل کی کہ وہ عالمی عدالت سے رابطہ کرکے بھارت میں قتل ہونیوالے افراد کے ورثاء کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

 لانگ مارچ کے شرکاء کچھ دیرتک روہڑی میں قیام کے بعد اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگئے۔