بحرینی اسلامی تحریک کے نائب جنرل سیکریٹری سے گفتگو

8 ممالک کی فوج بھی بحرین کے عوامی انقلاب کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکی

خبر کا کوڈ: 1090591 خدمت: مشرق وسطی
شیخ عبدالله صالح

’’شیخ عبداللہ صالح‘‘ بحرینی اسلامی تحریک کے نائب جنرل سیکریٹری نے کہا ہے کہ بحرینی عوام کے انقلاب کو روکنےاور اسکی سرکوبی کے لئے آل خلیفہ کا فوجی کاروائی کرنا اب بے فائدہ ہے۔

’’شیخ عبداللہ صالح‘‘ بحرینی اسلامی  تحریک کے  نائب جنرل سیکریٹری نے کہا ہے کہ بحرینی عوام کے انقلاب کو روکنےاور اسکی سرکوبی کے لئے آل خلیفہ کا فوجی کاروائی کرنا اب بے فائدہ ہے۔

’’شیخ عبداللہ صالح‘‘ بحرینی اسلامی تحریک کے نائب جنرل سیکریٹری نے بین الاقومی نیوز ایجنسی تسنیم کے ساتھ گفتگو میں جمہوری اسلامی ایران کے خلاف آل خلیفہ کی دھمکیوں کے رد عمل میں  کہا کہ بحرین میں آل خلیفہ ایسے کا انجام دے رہے ہیں جنکا نہ کوئی معیار ہے اورنہ ہی کوئی سیاسی بہانہ بنایا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی ملک کسی ملک کا تابع رہنا چاہتا ہے تو وہ بھی ایک پروگرام اور پلاننگ کے تحت ہوتا ہے نہ اس طرح جیسا کہ آل خلیفہ سعودیوں کی اتباع کررہے ہیں۔
انہوں نےکہا:ایک ملک تمام جزئی مسائل میں کسی کا تابع ہوجائے یہ تعجب کی بات ہے۔ آل خلیفہ نے بعض ایسے فیصلے کئے ہیں جو اس بات کی علامت کے انہیں حقیقت کا ادراک نہیں ہے۔ وزیر مملکت کا ایران اور حزب اللہ پر حملہ کرنے، وزارت دفاع کی جانب سے تخریب کاروں اور اہل  فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کا بیان اور تیسرا بیان جمعیت ’’اصالت ‘‘کا تھا جس نے ضرورت پڑنے پر رضاکارانہ طور پر بحرینی فوج میں داخل ہونے کے لئے آمادگی کا اعلان کیا تھا۔ یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے،آخر ملک میں ایسا کیا ہوگیا ہےکہ رضاکارانہ طور پر فوج میں داخل ہونے کی ضرورت پڑرہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چوتھے بیان میں پارلیمنٹ نے حکومت سے ایران اور حزب اللہ پر حملہ کرنے کی درخواست کی تھی ۔ان کے گمان میں اس بیان  سے حزب اللہ اور جمہوری اسلامی ایران ڈر کر کہیں چھپ جائیں گے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر تمہارے پاس ہے کیا کہ تم حزب اللہ اور ایران پر حملہ کروگے؟تم تو بحرین کے غیر مسلح اور صلح پسند عوام سے،جو اپنے جائز حقوق کے طلبگار ہیں،مقابلہ کے لئے 8 ممالک کی فوجوں کو بلالیتے ہو۔
شیخ عبداللہ نے اؒل خلیفہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم تو اس نہتھی عوام سےجو صرف صلح آمیز مظاہرے کرتی ہے، مقابلے کے لئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،قطر، اردن کی فوج، پاکستانی مزدوروں کی مدد لینے پرمجبور ہوگئے اسی طرح امریکہ کے پانچویں جنگی بیڑے اور برطانیہ کو اپنی فوجی چھاؤنی کو تعمیرنو کے لئے آنے کی اجازت دے دی۔ اور دوسری طرف دیگر ممالک سےحمایت کی درخواست بھی کرڈالی جس کے نتیجے میں پاکستان، ترکی، مراکش، مصر، انڈونیشیا اور ملایشیا تمہاری حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود تم اس عوامی تحریک کو روکنے میں ناکام ہوگئے۔
انہوں نے سعودی حکومت کے مفاد کو پورا کرنے کے آل خلیفہ کے اس ھدف کے بارے میں کہا کہ درحقیت آؒل خلیفہ کا یہ حیران کن عمل سعودیوں کو راضی کرنے کے لیے ہے۔ سعودی حکومت  خود پیچدہ حالات میں گرفتار ہے اور اپنی دولت کے ذریعہ پٹھو، ذرائع ابلاغ، اور اسلحے خریدنا چاہتے ہیں لیکن ان سب کا نتیجہ کیا ہوگا؟ اور کیا وہ اس طرح  علاقہ کے مختلف مسائل حل کرلیں گے؟

شیخ عبداللہ نے کہا کہ علاقہ کی وہ آمرانہ حکومتیں جو اپنے تخت و تاج کو بچانےکے لئے استعماری حکومتوں کے لئے علاقہ میں راہ ہموار کررہی ہیں، درحقیقت وہ شدید بے آرامی اوربے چینی کا شکار ہیں۔ان کے اس قسم کے کوئی اقدامات بھی علاقہ کی مشکل حل نہیں کرسکتے،آج علاقہ سے دہشتگردی اور اس کی وجود میں لانے والوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسا بابصیرت حکمران چاہئے جو عوام کے مفاد کے لئے اقدامات کرے۔ لوگوں پر فوجی کاروائی اورانکو ڈرانے، دھمکانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

    تازہ ترین خبریں