بحرین کی آمرانہ حکومت کو امریکہ اور برطانیہ کی مکمل حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے

بحرین، اسرائیل کے مابین خفیہ معاہد ہ

خبر کا کوڈ: 1090607 خدمت: مشرق وسطی
الوفاق

’’الوفاق‘‘ تنظیم بحرین کے ایک اعلیٰ رکن نے بتایا کہ بادشاہ بحرین کے صیہوںی حکومت کے ساتھ بہت اچھے روابط ہیں، اور بحرین کے وزیر خارجہ نے صیہونی دشمن کے وزیر خارجہ سے متعدد بار ملاقات کی ہے۔

’’الوفاق‘‘ تنظیم بحرین کے ایک اعلیٰ رکن نے بتایا کہ بادشاہ بحرین کے صیہوںی حکومت کے ساتھ بہت اچھے روابط ہیں، اور بحرین کے وزیر خارجہ نے صیہونی دشمن کے وزیر خارجہ سے متعدد بار ملاقات کی ہے۔

’’محمد جلال فیروز‘‘ بحرینی تنظیم ’’الوفاق‘‘کے ایک اعلیٰ رکن اور بحرینی پارلیمنٹ کے سابق رکن نے بین الاقوامی نیوز ایجنسی تسنیم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بحرین میں انسانی حقوق کی حالت  زار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی حکومتیں (مسلمان) قوموں کی طرف آنا چاہتی ہیں اور سب سے بڑا قدم انہوں نے ان حکومتوں بالخصوص بحرین کے سلسلے میں اٹھایا ہے۔ اس وقت بحرین کی آمرانہ حکومت کو امریکہ اور برطانیہ کی مکمل حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے۔ جبکہ ان ممالک میں پارلیمنٹ اور شہری اور بلدیاتی مراکز پر حکومتوں کی طرف سے یہ دباؤ ہے کہ عوامی افکار کو گمراہ کرنے کے لئے ان سے کہا جائے کہ حکومت ان کی فلاح و بھبود کی فکر میں ہے۔

مغربی حکومتوں کا ان ممالک میں آنے کا مقصد اپنا مفاد حاصل کرنا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی حکومتیں صرف اپنے مفاد کے چکر میں ہیں اور اس کے حصول کے خاطر دیگر اقوام کے مفادات کو پیروں تلے روند دیتے ہیں، امریکہ اگر واقعی طور پر عوام کے فلاح اور بھبود اور حقوق انسانی کی رعایت کے لئے حکومتوں پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے تو اس کے پاس اس ضرورت کو پورا کرنے کے وسائل موجود ہیں لیکن اس کے پاس الگ الگ ممالک کے لئے مختلف معیارات ہیں۔ روس، اسلامی جمہوریہ ایران، شمالی کوریا اور عراق پرتو دباؤ ڈالتا ہے کہ انسانی حقوق کی رعایت کریں۔ لیکن سعودی عرب، اور خلیج فارس کے ساحلی دیگر عرب ممالک جو انسانی حقوق کو پامال کررہے ہیں، ان کو کچھ نہیں کہتا ہے کیونکہ یہ ممالک امریکہ کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ ہیں۔
انہوں نے خلیج فارس کے ساحل پر واقع ممالک کے سلسلے میں  کہا کہ یہ ممالک امریکہ کے مفادات کو محٖفوظ کرنے اور صیہونی حکومت کو امن فراہم کرنےکا کام کرتے ہیں۔’’جنیوا‘‘ میں انسانی حقوق کی بڑی تنظیمیں اور انسانی حقوق کونسل اگرچہ آل خلیفہ کی حکومت پر دباؤ تو ڈالتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ دباؤ مطلوبہ تبدیلی کے لئے کافی نہیں ہیں۔ حکومت آل خلیفہ مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے اور اس کی نگاہ میں انسانی حقوق کونسل کی ملامت اور سرزنش کی  کوئی اہمیت نہیں ہے کیوں کہ اس کو مغربی ممالک خصوصا برطانیہ کی خاص حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے۔

برطانیہ بحرینیوں پر ظلم میں شریک ہے

انہون نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی عوام کا اعتقاد ہے کہ ان کے خلاف ظلم و ستم میں برطانیہ ،آل خلیفہ کے ساتھ شریک ہے۔
بحرینی پارلیمنٹ کے اس سابق نمائندے نے بحرین کی عوامی انقلاب کی تحریک کے سلسلہ میں کہا کہ بحرینی مزاحمتی قوتیں ایک دوسرے سے روابط  مضبوط کرنے کے لئے کوشاں ہیں تاکہ بہترین ماحول تیار کیا جاسکے اور یہ اس صورت میں ہے کہ بحرین کا انقلاب دو سمتوں سے اپنے قدم آگے بڑھا رہا ہے۔ پہلا یہ کہ عوام اور انقلاب پر ظلم و ستم ہورہا ہے اور دوسرا یہ کہ بحرینی قوم اپنے کم سے کم جائز حقوق کے طلبگار ہیں۔

الوفاق بحرین کے اعلیٰ رکن کے مطابق کے، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی طرف سے آل خلیفہ کو بہترین ہتھیار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی کوشش ہے کہ بین الاقوامی حلقہ میں آل خلیفہ کی ملامت نہ کی جائے لیکن دوسری طرف یہ عوام پر حکومت کی طرف سے ہونے والے ظلم ستم پر تنقید بھی نہیں کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود عوام 5 سالوں سے صرف پر امن مظاہرے کررہی ہے اور صبر کے ساتھ اپنے حقوق کے مطالبات پر قائم ہیں۔

جیلوں میں بحرین کی سیاسی شخصیات کی حالت افسوس ناک

محمد جلال فیروز کہتے ہیں کہ انسانی حقوق کی تنظمیں 5 سال سے بحرین آکر جیلوں اور قیدیوں کے حالات جاننا چاہتی ہیں لیکن آل خلیفہ حکومت ان کو ملک آنے کی اجازت ہی نہیں دے رہی ہے کیوں کہ اس صورت میں قیدیوں پر اس کے ظلم و ستم کا پردہ فاش ہوجائے گا۔

صیھونی حکام کا آل خلیفہ سے متعدد بار ملاقات کرنا اور بحرین آنا

بحرین اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ صیہونی حکومت کے تعلقات کے سلسلے میں الوفاق کے اس رکن نے بتایا کہ میں نے بادشاہ بحرین کو شیمون پرز اور ایہود اولمرٹ کےساتھ متعدد بار بین الاقوامی محافل میں ملاقات کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ قابل غور بات ہے کہ اسرائیلی اور بحرینی وزیر خارجہ کے ایک دوسرے سے روابط ہیں جووقفے وقفے سے مسلسل ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔

اسرائیل نے مختف وفد بحرین بھیجے ہیں۔اسی طرح جب اسرائیل نے اپنی کھلاڑیوں کی ٹیم قطر بھیجی تو وہاں کے اسٹیڈیم میں اسرائیل کا پرچم لگایا گیا جو عربی ممالک کے لئے باعث شرم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور بحرینی حکومت کے درمیان ایک معاھدہ ہوچکا ہے جسے ابتک ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ جب بحرین کا بادشاہ برطانیہ گیا تھا تو اس نے یہودیوں سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی کے حقوق کا احترام کرتا ہے۔ اسی طرح آپ سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ روابط کا مشاہدہ کرسکتے ہیں جو بحرین کا بڑا بھائی ہے اور اس کی سیاست کا تعین کرتا ہے، ۔

    تازہ ترین خبریں