ہیومن رائٹس واچ: سعودی عرب یمن میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے

ہیومن رائٹس واچ نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سعودی کی معطلی کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن میں "جنگی جرائم" کے مرتکب ہوئے ہیں

عربستان در یمن

تسنیم نیوز ایجنسی نے النشرہ نیوز سے  اقتباس کیا ہے کہ ہیومن رائٹس واچ  نے  سعودی عرب   سے آزادانہ  تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس ملک نے  یمن میں غیر فوجی اقتصادی علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اس تنظیم نے تاکید کی ہے کہ اس قسم کے ہوائی حملے  جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں  17ہوائی حملے یمن کے 13معیشتی علاقوں من جملہ کارخانے اور تجارتی اسٹاکس، ایک کھیتی باڑی فارم اور بجلی کے دو پاور پلانٹس پر کئے گئے جو کہ سراسر غیر قانونی تھے۔ ان حملوں میں 130 شہری شہید اور171  زخمی ہو گئے.

اس تنظیم نے مزید کہا کہ یمن میں آزادانہ، معتبر اور بے طرف تحقیقات نہ ہونے کی وجہ سے  حالات مزید خراب ہورہے ہیں، لہذاسعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو چاہیے کہ  آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ تعاون کرے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے  کہا: یمن کی  معیشت پر فضائی حملوں کے نتائج خطرناک اور تشویشناک ہیں۔

اس  تنظیم  کی رپورٹ میں مزید  کہا گیا ہے کہ سویلین فیکٹریوں اور یمن میں دیگر اقتصادی تنصیبات پر حملے سنگین خدشات کے حامل ہیں کیونکہ سعودی عرب کی قیادت میں یہ تمام تر حملے جان بوجھ کر یمن کی اقتصادی  طاقت کو ختم کرنے کے لئے کئے جارہے ہیں۔

اس تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب کی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں رکنیت معطل کر دی جائے۔ جب تک یہ ملک یمن میں ہوائی حملوں کو نہیں روکتا ہے اور آزادنہ تحقیقات کی اجازت نہیں دیتا ہے تب تک اس کی رکنیت معطل رہنی چاہیئے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے  گزشتہ جون  کے آخر میں  سعودی عرب کو   اقوام متحدہ  کے انسانی حقوق کونسل سے اخراج  کرنے کا مطالبہ  کیاتھا اور تاکید کے ساتھ  کہا تھا کہ سعودیہ یمن میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے اور انصاف کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کررہا ہے۔

اختتام/*

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری