مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر امریکہ کی خاموشی معنی خیز ہے

خبر کا کوڈ: 1129885 خدمت: دنیا
اعتراضات خونین در کشمیر‎

امریکہ ایک بار پھر دوغلی پالیسی کا مرتکب ہو کر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے عوام پر انسانیت سوز مظالم پر اف کہنے سےگریزاں ہے جبکہ اس سلسلے میں ابھی تک مذمتی بیان بھی گوارا نہیں کیا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکا کا اہم اتحادی ہے اور پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات امریکا کے مفاد میں ہے۔

مارک ٹونر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی سے بہت زیادہ نقصان اٹھا چکا ہےاور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی دہشت گردی کے خلاف اقدامات قابل ستائش ہیں لیکن پاکستان کو تمام شدت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کرنا ہوگی۔

یہ ایسے حالات میں ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 35 سے زائد مسلمانوں کی شہادت اور فسادات کے بارے میں ذکر تک نہیں کیا۔

امریکہ کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلکہ اکثر امریکی سیاستدان کھلے عام اسلام مخالف بیانات دینے پر فخر کرتے ہیں جس کی زنده مثال 2016ء کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔  

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 6 روز قبل تحریک آزادی کے نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں اب تک 35 کشمیری شہید اور 1500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں مسلسل 6 روز سے کرفیو نافذ کر رکھا ہے جب کہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری