حزب اللہ اور ایران کے تعلقات شامی حکومت کے خاتمے سے منسلک ہیں، ہیلری کلنٹن

خبر کا کوڈ: 1129869 خدمت: دنیا
کلینتون موبایل

وکی لیکس وب سایٹ نے فاش کیا ہے کہ ہلیری کلنٹن کے خیال کے مطابق ایران اور اس کے علاقائی اتحادی بالخصوص حزب اللہ کے درمیان تعلقات شامی حکومت کے ساتھ منسلک ہیں لہذا ان کے تعلقات شامی حکومت کے برطرف ہوتے ہی خوبخود ختم ہو جائیں گے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وکی لیکس ڈیٹا بیس نے لکھا ہےکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار اور سابق امریکی وزیر خارجہ، ہیلری کلنٹن نے2000ء سے اپنی وزارت کے خاتمے تک کچھ ایمیل کا تبادلہ کیا تھا جو کہ ان دنوں کافی متنازعہ اور مشکلات کا سبب بنے ہوئے ہیں۔

ان مخفی ایمیلز کا متن 2015ء میں فاش ہوا اور اس متن سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات میں فتح کی صورت میں اس پارٹی کی مشرق وسطی کےلئے کیا پالیسی ہوگی۔

کلنٹن کے متنازعہ ای میلز میں ایران اور شام کے مندرجہ ذیل معاملات کو زیر بحث لایا گیا ہے:

امریکی وزارت خارجہ کے خفیہ ریکارڈز
نمبر: F-2014-20439
افشاء کی تاریخ: 2015/30/12

ایمیلز میں کہا گیا ہے کہ ایران کے بڑھتے ہوئے ایٹمی صلاحیتوں کے پیش نظر، اسرائیل کی مدد کرنے کا بہترین طریقہ بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں ہی ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے مذاکرات اسرائیل کی سلامتی کے مسئلے کو حل نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران کو یورینیم کی افزودگی رکوانے میں مدد گار ثابت  ہوں گے۔

ممکن ہے کسی کو ایسا لگے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور شام  میں  خانہ جنگی کا ایک دوسرے سے کوئی واسطہ نہیں لیکن دقت سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

اسرائیلی حکام کے لئے صرف جوہری ہتھیاروں سے مسلح ایران خطرہ نہیں ہے بلکہ ایرانی سپریم لیڈر کے حکم پر بغیر کسی دلیل کے اسرائیل پر جوہری حملے کا آغاز ایک دوسری دھمکی اور خطرہ ہے کہ جس میں دونوں ممالک تباہی کی طرف جا سکتے ہیں۔

جس چیز سے اسرائیل کی فوجی رہنما خوف کھاتے ہیں اور اس کا اظہار بھی نہیں کرسکتے وہ یہ ہے کہ صیہونی حکومت کو مشرق وسطی میں جوہری اجارہ داری کھونے سے کیسے بچایا جائے ۔

ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہ صرف اسرائیل کے جوہری اجارہ داری کوختم کردیتی ہے بلکہ دوسرے ممالک جیسے سعودی عرب اور مصر کو بھی جوہری ہتھیاروں کی طرف مائل کرتی ہے۔

اس بات کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خطے میں خطرناک ایٹمی عدم توازن قائم ہوگا، ایسی صورتحال میں اسرائیل کے لئے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ شام اور لبنان میں عسکری حملوں کا جواب دے۔

ایران ایک جوہری ریاست بننے کے راستے پر گامزن ہے اسوجہ سے نہایت آسانی کے ساتھ حزب اللہ اور شام سے درخواست کر سکتا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملہ کرے کیونکہ ایران بخوبی جانتا ہے کہ اس کے جوہری ہتھیار اسرائیل کو ایران پر حملے سے روکیں گے۔

اب ہم شام کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔  شام میں ایران اور اسد حکومت کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ایران، اسرائیل کی سیکیورٹی کو کمزور کرتا ہے لیکن براہ راست حملہ کرنا اس کے لئے ممکن نہیں کیونکہ براہ راست حملے ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کے تیس سال کے دوران بھی کبھی نہیں ہوئے ہیں۔

یہ حملے لبنان میں ایران کے جانشین یعنی حزب اللہ جو تسلیحاتی لحاظ سے بہت طاقتور  ہے (کیونکہ ایران نے شام کی توسط سے حزب اللہ کی عسکری تربیت کی ہے)، کے ذریعے کرواتا ہے۔

یہ خطرناک اتحاد اسد حکومت کے خاتمے سے ہی تباہ ہوجائے گی۔ صیہونی حکومت یہ بات بہت اچھی طرح جانتی ہے کہ اسد کی شکست ان کے مفاد میں ہے.

سی این این پر کچھ عرصہ پہلے ایک پروگرام میں اسرائیل کے وزیر جنگ نے کہا کہ اسد حکومت کا تختہ الٹنا ایران کے لئے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔

شام عرب دنیا میں ایران کی واحد پناہ گاہ ہے، شام میں اسد حکومت کی شکست حزب اللہ اور اسلامی جہاد حماس کو بھی کمزور کردے گی۔

اسد حکومت کی نابودی نہ تنہا اسرائیلی سیکورٹی کے لئے نہایت مفید ہے بلکہ اسرائیل کو اپنے جوہری اجارہ داری کو کھونے کے خوف کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

اسرائیل اور امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ایک مشترکہ نقطۂ نظر تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ اس وقت ممکن ہوگا جب ایران کے ایٹمی پروگرام بہت ہی خطرناک نظر آئے تب ان کے لئے ایران کے خلاف فوجی کاروائی کا جواز بھی فراہم ہوگا۔

فی الحال شام کے مسئلے میں ایران کے اسٹریٹجک اتحادیوں کا اتحاد اور ایٹمی پروگرام میں ایران کی مسلسل ترقی نے اسرائیلی رہنماؤں کو ایران پر اچانک حملہ کرنے کے لئے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔

اسد کے جانے کے بعد ایران، اسرائیل کو دھمکی دینے کے قابل نہیں رہے گا اور تب یہ ممکن ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل، ایران کے جوہری پروگرام  کی سرخ لائنوں کو عبور کرسکے اور ایک قابل قبول نظریے پر متفق ہوجائیں۔

وائٹ ہاؤس شام کی کشیدگیوں میں صحیح سمت کا انتخاب کرکے ایران کے ایٹمی پروگرام پر اسرائیل کے ساتھ اختلافات کو مختصر مدت میں ختم کرسکتا ہے۔ پہلے ہی شامی باغی ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزرجانے کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ نہ مخالفین پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں اور نہ ہی اسد حکومت باہر سے سفارتی حل کو قبول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لہذا صرف ڈکٹیٹر بشارالاسد اور اس کی فیملی کو دھمکا کر زور، زبردستی کے ذریعے سے ہی شام میں تبدیلی لا ئی جاسکتی ہے۔

2016 ء کے صدارتی انتخابات میں کلنٹن کی فتح ہی اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا وہ حکومت میں آنے کے بعد بھی مشرق وسطی کے بارے اس طرح کے خیالات کے نفاذ  کے لئےکوششیں کرتی رہی گی یا نہیں؟

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری