فاٹا عوام نے حکومت کو "یوم آزادی" کے دن "یوم سیاہ" منانے کی دھمکی دیدی

خبر کا کوڈ: 1130904 خدمت: پاکستان
مردم مناطق قبایلی پاکستان

آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس کے صدر نے کہا ہے کہ اگر حکومت 14 اگست تک فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے میں ناکام رہی تو قبائلی علاقوں میں "یوم آزادی" کے دن "یوم سیاہ" منایا جائے گا۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس نے پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم نہ کرنے پر 14 اگست کو یوم سیاہ منانے کی دھمکی دی ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق، پشاور پریس کلب میں نیوز کانفرنس میں آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس کے صدر حاجی اقبال آفریدی نے کہا کہ اگر حکومت 14 اگست تک فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے میں ناکام رہی تو فاٹا میں یوم آزادی کے دن یوم سیاہ منایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام پہلے ہی حکومت سے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی درخواست کرچکے ہیں لیکن کچھ ملک دشمن عناصر اس حوالے سے رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی عوام فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) کو ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ برطانوی حکمرانوں نے فاٹا میں ایف سی آر قانون نافذ کیا تھا، لیکن اب فاٹا پاکستان کا حصہ بن چکا ہے، فاٹا میں پاکستانی قوانین کا نفاذ ہونا چاہئے۔

اس موقع پر فاٹا کے مختلف جماعتوں کے نمائندگان جماعت اسلامی کے زار نور آفریدی، نیشنل پارٹی کے اعجاز آفریدی، اے این پی کے نثار خان اور قومی وطن پارٹی کے مصطفیٰ خان بھی موجود تھے۔

آل فاٹا پولیٹیکل پارٹیز الائنس نے ایف سی آر کو ختم کرکے فاٹا میں نئی اصلاحات لانے کا مطالبہ بھی کیا۔

مجوزہ سفارشات کے ڈرافٹ کے مطابق، پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا کو 5 سال کے لیے خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

یاد رہے کہ فاٹا اصلاحات کمیٹی نے بهی گذشتہ مہینے وفاق کے زیر انتظام علاقے کو صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے لئے سیاسی، انتظامی، عدالتی اور سیکیورٹی اصلاحات سمیت تعمیرنو اور بحالی پروگرام کی سفارشات پیش کی تھیں۔

ان تجاویز میں پاکستان کے قبایلی علاقے فاٹا کو 5 سال کے لئے خیبرپختونوا میں شامل کرنے پر تاکید کی گئی تھی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری