ہندوستانی وزارت خارجہ:

پاکستان کو کشمیر کے معاملے میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں

خبر کا کوڈ: 1131004 خدمت: دنیا
وکاس سوارپ

ہنوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جموں و کشمیر کی صورتحال پر حکومت پاکستان کے فیصلوں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک کو کشمیر کے معاملے میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی وزارت خارجہ وکاس سوارپ نے جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کے حوالے سے پاکستانی کابینہ کے فیصلوں پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پاکستانی کابینہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں کی تردید کرتے  ہوئے کہا کہ ہندوستان کے اندرونی معاملات میں پاکستان کی مستقل طور پر مداخلت مایوس کن ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ پاکستان یا کسی دوسرے ملک کو کشمیر کے معاملات میں بولنے کا کوئی اختیار نہیں، جبکہ دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی حمایت سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ پاکستان ایسے گروہوں کی مکمل حمایت کرتا آرہا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت گورنرہاؤس لاہور میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں جموں و کشمیر کی صورتحال پر غور کیا گیا اور معصوم کشمیریوں پر ہندوستانی مظالم کی پرزور مذمت کی گئی۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اس اجلاس میں جموں و کشمیر میں ہندوستانی مظالم کے خلاف منگل 19 جولائی کو ملک بھر میں "یوم سیاہ" منانے کی تجویز دی جبکہ کشمیر کی صورتحال پر مزید مشاورت کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ بھی کیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 7 لاکھ ہندوستانی فوجی کشمیریوں کی تحریک کو دبا نہیں سکے، جبکہ کشمیری اپنا حق لے کر رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری