ترکی میں حالیہ سیاسی بحران پر ایرانی حکام کا اظہار تشویش

خبر کا کوڈ: 1131038 خدمت: دنیا
کودتا در ترکیه

ایرانی حکام نے ترکی میں فوجی بغاوت پر رد عمل کا اظہارکرتے ہوئے اسے تشویشناک سیاسی بحران قرار دے دیا ہے.

تسنیم نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا: تہران ہمسایہ ملک کے سیاسی بحران کے بارے میں نہایت فکرمند ہے۔ ترکی میں امن، استحکام اورجمہوریت سب سے اہم اور ضروری ہیں۔

محمدجواد ظریف نے مزید کہا کہ ترکی میں فوجی بغاوت کی کوشش کوناکام بنا کرعوام نے ثابت کردیا ہے کہ جمہوریت کے خلاف ہر قسم کی بغاوت ناقابل قبول ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے اعتراف کیا کہ ترک بہادر قوم نے جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے ثابت کردیا ہے کہ بغاوت کے لئے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں۔

ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے بهی اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ متصل سرحدوں کی پوری دقت اور نگرانی کے ساتھ مانیٹرنگ کررہے ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈرحضرت آیت اللہ العظمی سید علی الخامنہ ای کے نمائندے اور اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے مزید کہا کہ ایرانی حکام ترکی میں پیش آنے والے واقعات پر سنجیدگی کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں اس بحران پر سخت تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکی میں عدم استحکام وہاں کے لوگوں کی حفاظت اور سلامتی کے لئے نقصان دہ ہیں۔

شمخانی نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ ترکی کے تمام مشترکہ زمینی اور فضائی سرحدیں مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں اور پوری دقت کے ساتھ نگرانی کی جارہی ہے۔

دوسری طرف، ایران کی وزارت خارجہ نے ترکی میں مقیم تمام ایرانیوں سے اپیل کیا ہے کہ حالات سازگار ہونےتک اپنی رہائشگاہوں تک محدود رہیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کےسفارت خانے نے ترکی میں ایرانی سیاحوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنی رہائش گاہوں کو ترک نہ کریں، حالات سازگار ہونے تک بازاروں اور سیاحتی مقامات پر جانے سے گریز کریں اور ترکی کے سکیورٹی حکام کی احکامات کی پاسداری کریں۔

ترک میڈیا کے مطابق، اس ملک میں فوجی بغاوت کے نتائج میں کم از کم 90 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ مختلف واقعات میں 1000 سے زائد افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری