برطانیہ نے یمن میں سعودی عرب کی جنگی جرائم سے متعلق اپنی رپورٹ مسترد کردی

خبر کا کوڈ: 1137675 خدمت:
عربستان یمن

برطانوی وزارت خارجہ نے گزشتہ رپورٹ "سعودی عرب کی طرف سے یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا" کو مکمل طور پر غلط قرار دیا اور کہا کہ عین ممکن ہےکہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہو۔

تسنیم نیوز نے میڈل ایسٹ آئی سے نقل کیا ہے کہ برطانوی وزیر خارجہ نے اپنے تین وزراء کی طرف سے جاری کی گئی سعودی عرب کی یمن میں جنگی جرائم سے متعلق رپورٹ کو مکمل طور پر غلط قرار دیا ہے۔

برطانوی  نے اپنے وزراء کی رپورٹ میں "برطانیہ اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ سعودی عرب، یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہوا ہے'' کی اصلاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

برطانوی وزارت خارجہ کے پارلمانی امور کے معاون ٹوبیاس ایلووڈ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وزراء کی یمن میں سعودی جرائم کے بارے میں سابقہ رپورٹ حقیقت پر مبنی نہیں ہے کیونکہ اس بارے میں برطانیہ کی حکومت نے صحیح معنوں میں سعودی عرب کی جنگی خلاف ورزیوں کی تحقیقات نہیں کی تھی۔

یہ بیان، برطانیہ کی اپوزیشن لبرل ڈیموکریٹس پارٹی کی حکومت برطانیہ سے یمن میں سعودی جنگی جرائم کے بارے میں تحقیقات کرنے کی درخواست کے بعد سامنے آئی ہے۔

اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت روک دی جائے۔

یاد رہے برطانوی حکومت کا کہنا ہےکہ حکومت کے لئے اس سلسے میں کہ ''سعودی عرب، یمن میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے یا نہیں'' تحقیقات کرنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ لندن کو یقین ہے کہ سعودی حکومت یمن میں اپنے فوجی طریقہ کار پر نظر رکھی ہوئی ہے اور اس بارے میں بالکل بصیرت رکھتی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ سے سعودی عرب کو یمن میں انسانی حقوق کی پاسداری کرنے اور اس کے بارے میں تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔

دوسری جانب، سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ حکومت، یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی خبروں کی تحقیقات کرے گی۔

یاد رہے یمن کے نہتے عوام پر سعودی عرب کی سرپرستی میں آئے دن آسمان سے بموں کی بارش کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    گردشگری
    خبرنگار افتخاری