پاک ایران بارڈر؛ پاکستانی طالب علموں کو ایران جانے سے روک لیا گیا

خبر کا کوڈ: 1137932 خدمت: دنیا
زائران پاکستانی در تفتان

پاکستان کو یورپ سے ملانے والے واحد بارڈر پر ناقص انتظامات اور سیکیورٹی کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو نہایت سخت مشکلات برداشت کرنا پڑ رہی ہیں جبکہ حالیہ واقعات میں پاکستانی حکام نے المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طالب علموں کو ایران جانے سے روک لیا ہے۔

تسنیم نیوز کی رپورٹ کے مطابق، تفتان بارڈر پرموجود سرکاری اہلکاروں نےایران جانے والے المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے طالب علموں کو ایران جانے سے روک دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہر طالب علم کے پاس علاقائی کمشنر کی طرف سے طالب علم ہونے کا تصدیق نامہ ہونا چاہئے بصورت دیگر، ان کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کہا جاتا ہے کہ المصطفی انٹرنیشنل  یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس ایران جاتے رہتے ہیں جنہیں اب بارڈر پر روک کر بغیر کسی وجہ کے تنگ کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان سے سالانہ ہزاروں زائرین ایران، عراق زیارات کی غرض سے جاتے ہوئے حکومتی عدم دلچسپی کی بناء پر کوئٹہ اور تفتان میں پھنس جاتے ہیں اور کئی دنوں تک ان کو تفتان کی تپتی دھوپ میں رہنا پڑتا ہے۔

موجودہ صورتحال کے  پیش نظر، حکومت زائرین کی مشکلات کا مستقل حل نکالنے کے لئے فوری طور پر احکامات جاری کرے۔

گزشتہ تین چار سالوں سے زائرین کی بسوں کو دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس سے اب تک 250  سے زائد پاکستانی زائرین شہید ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ تفتان باڈر پاکستان کو یورپ سے ملاتا ہے، یہاں سے سالانہ ہزاروں زائرین کے علاوہ  سینکڑوں غیر ملکی بھی ایران کے راستے پاکستان آتے جاتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری