طالبان کا دعوی؛

چین، طالبان مذاکرات/ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق

خبر کا کوڈ: 1144489 خدمت: دنیا
طالبان و چین

افغان طالبان نے دعوی کیا ہے کہ اس گروہ کے ایک وفد نے رواں ماہ چین کا دورہ کرکے افغانستان میں سلامتی کی صورت حال پر چینی حکام سے بات چیت کی ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے روزنامہ'' اکسپرس ٹریبیون'' سے نقل کیا ہے کہ طالبان کے ایک اہلکار کے مطابق، قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ایک وفد نے حال ہی میں چین کا دورہ کرکے چینی حکام سے امریکی اور نیٹو ممالک کی غلط پالیسیوں اور افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے اخراج پر گفتگو کی۔

افغان طالبان نے دعوی کیا ہے کہ ان کے نمائندوں نے حالیہ چین دورے کے دوران چینی حکام سے مشترکہ مفادات اور افغانستان پر غیروں کے غیر قانونی قبضے پر گفتگو کی ہے۔

طالبان کے ایک اہم رکن نے کہا کہ وہ اس خبر کی تصدیق کرسکتا ہے کہ طالبان کے ایک وفد نے حال ہی میں چین کا دورہ کر کے اس ملک کے حکام کے ساتھ افغانستان پر غیر ملکی قبضے اور طالبان چین مشترکہ مفادات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

طالبان اہلکار نے مزید کہا کہ چینی حکام کے ساتھ ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر'' امارت اسلامی'' کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

طالبان اہلکارنے افغان حکومت کے ساتھ اس گروہ کے مذاکرات کے بارے میں کچھ ذکر نہیں کیا۔

ایک افغان حکومتی اہلکار کہ جسے طالبان چین ملاقات کا علم تھا، نے بھی کہا ہے کہ طرفین نے ایک ایسے وقت میں مذاکرات کا انعقاد کیا ہے کہ چین افغانستان میں امن کے عمل کو شروع کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

دوسری جانب طالبان مخالف ایک گروہ کا دعوی ہے کہ'' شیر عباس استانکزئی'' اس وفد کی قیادت کررہے تھے۔

''فدائی محاذ ''گروپ کے ترجمان ''قاری حمزہ'' نے بھی اعتراف کیا ہے کہ طالبان اہلکاروں نے 18 جولائی سے 22 جولائی تک چین کا دورہ کرکے وہاں کے حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں اور چین کے ساتھ امریکی اور دیگر غیر ملکی افواج کے افغانستان میں موجودگی پر اہم معاہدے کئے ہیں۔

افغانستان،پاکستان، امریکہ اور چین کے نمائندوں نے عرصہ پہلے طالبان کے ساتھ ''اسلام آباد'' میں براہ راست مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن طالبان کی قیادت نے اسے مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے، افغانستان میں امن و مصالحت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے قائم چار ملکی گروپ میں افغانستان اور پاکستان کے علاوہ چین اور امریکہ بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان کے سابق رہنما "ملا اختر منصور" کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا جس کی وجہ سے طالبان کے ساتھ چار جانبہ امن مذاکرات معطل ہوگئے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری