وزیراعظم کا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی دادرسی کیلئے متعلقہ حکام کو نوٹس

خبر کا کوڈ: 1147450 خدمت: پاکستان
نواز شریف

وزیر اعظم "نوازشریف" نے سعودی عرب میں مقیم ہزاروں پاکستانی مزدوروں کی دادرسی کے لئے متعلقہ حکام کو فوری کارروائی کا حکم دیدیا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، سر زمین حجاز پہ کئی مہینوں سے تنخواہوں اور دیگر مراعات سے محروم 8520 پاکستانی مزدوروں کی مدد کے لئے بالاخر نوازشریف نے نوٹس لے لیا۔

رپورٹ کے مطابق، طائف، جدہ، مکہ، ریاض اور دمام میں کیمپوں میں مقیم ہزاروں پاکستانی مزدوروں کو ان کی کئی ماہ سے رکی تنخواہ دلوانے کے لیے پاکستانی وزیراعظم نے سعودی عرب میں موجود پاکستانی سفارتخانے کو مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، نواز شریف نے پاکستانی متاثرین کی مدد کرنے کے لیے سفارت خانے میں ایک خصوصی مرکز بنانے کی بھی ہدایت جاری کی ہے۔

دوسری طرف ترجمان دفتر خارجہ "نفیس زکریا" نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی حکومت اپنے ہم وطنوں کی مشکلات سے بخوبی واقف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانہ اپنے دیس کے مزدوروں کے حقوق دلوانے کے لئے ہر پل کوشاں ہے جبکہ وزیراعظم پاکستان کے نوٹس لینے کے بعد تمام متاثرین کی مشکلات بہت جلد حل ہو جائیں گی۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کی لیگل ٹیم نے سعودی لیبر کورٹ سے بھی رابطہ کیا ہے اور سعودی وزارت برائے لیبر نے ایک لاکھ سعودی ریال کی امداد بھی جاری کی ہے۔

یاد رہے سعودی عرب میں ہندوستان اور پاکستان کے لاکھوں شہری محنت مزدوری کرتے ہیں اور اس ملک کی معیشت اور ساخت و ساز میں برصغیر کے محنت کشوں کا بڑا کردار ہے لیکن سعودی حکام ہمیشہ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتے آرہے ہیں۔

یاد رہے کہ "ڈیلی پاکستان" نے کچھ عرصہ پہلے رپورٹ دی تھی کہ کم از کم 500 پاکستانی دمام کے ایک کیمپ میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

پاکستانی اخبار نے ان قیدیوں میں سے 4 افراد کے جاں بحق ہونے کی بھی خبر دی تھی جو اس کیمپ میں بھوک اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اسی طرح دیگر روزناموں نے بھی رپورٹ دی تھی کہ وزارت خارجہ نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بارے میں ریاض حکومت سے رابطہ برقرار کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں لیکن کئی مہینے گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی خاص اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری