خصوصی رپورٹ/

کیا حکومت پاکستان "گولن" کے "پاک ترک اسکولز" بند کردیگی؟

خبر کا کوڈ: 1147581 خدمت: دنیا
پاک ترک اسکولز

جیسا کہ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ پاکستان اور دوسرے ممالک میں "گولن" کے اسکولز اور دوسرے ادارے شدت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں تاہم دوسری جانب اس امکان کو مسترد بھی کیا گیا ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں ان اداروں سے ہزاروں طالب علم اور دیگر افراد وابستہ ہیں جن کی بندش کی صورت میں ان افراد کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان اور ترک حکومت کے درمیان پچھلے کئی دنوں سے جاری بات چیت کا نتیجہ بالاخر سامنے آ نے والا ہے۔

روزنامہ امت نے لکھا ہے کہ حکومت پاکستان نے ترک حکومت کی ایماء پر ملک بھر میں پاک ترک اسکولز «pakturk.edu.pk» بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں  طالب علموں کا مستقبل خطرے میں ہو سکتا ہے۔

امت نیوز کے مطابق،  ترک حکومت کے اصرار پر پاکستان نے پاک ترک اسکولز سمیت گولن فاونڈیشن کے تحت چلنے والے تمام اداروں کو بند کرنے کا مشروط اعلان کر دیا ہے۔

پاکستان کے اس اعلان پر ترک حکومت نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گولن کی تنظیم ہر اس ملک کے لئے خطرہ ہے جہاں اس کی موجودگی ہے۔

ترک وزیر خارجہ "مولود چاوش اوغلو" اپنے ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں جہاں انہوں نے مشیر خارجہ "سرتاج عزیز" سمیت پاکستان کے دیگر عہدہ داروں سے بھی ملاقات کی ہے۔

روزنامہ امت کے مطابق، ملاقات کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے مندرجہ بالا اعلان سامنے آیا ہے۔

ترک حکومت کا خیال ہے کہ گذشتہ ماہ حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش میں امریکہ میں جلا وطنی اختیار کرنے والے "فتح اللہ گولن" کا ہاتھ ہے جبکہ وہ اس الزام کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں 28 پاک ترک اسکولز موجود ہیں جن میں نہ صرف تقریبا دس ہزاربچے زیر تعلیم ہیں بلکہ اس نیٹ ورک سے ہزاروں پاکستانیوں کا روزگار بھی وابستہ ہے۔

دوسری جانب، "روزنامہ اکسپرس" نے اپنے بیان میں مشیر ذخارجہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیشتر ترک اسکولز پاکستان میں اچھی تعلیم فراہم کررہے ہیں لیکن اگر کوئی اسکول غیرقانونی کارروائیوں میں ملوث پایا گیا توکارروائی کریں گے جبکہ پاکستان میں فتح اللہ گولن حمایتی اسکول کی جانچ پڑتال کریں گے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت پاکستان ترک حکومت کی خشنودی کیلئے اپنے طلباء کا مستقبل داؤ پر لگائے گی یا یہ کہ اس سلسلے میں مکمل انکار کرتے ہوئے ہزاروں طلباء کا مستقبل روشن کریگی۔

امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ پاکستان اور دوسرے ممالک میں گولن کے اسکولز اور دیگر ادارے شدت پسندی کو فروغ دے رہے ہیں جو ایک معاشرے کیلئے ناسور بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب بعض ماہرین اس امکان کو سختی سے مسترد کر رہے ہیں اور ان اسکولوں کو پاکستان کے دوسرے پرائیویٹ اسکولز کی طرح قرار دے رہے ہیں جن میں صرف دنیوی تعلیم دی جاتی ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگر حکومت پاکستان ان اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس سے پہلے ان میں پڑھنے والے ہزاروں طالب علموں کیلئے متبادل راستہ بھی ڈھونڈنا چاہئے، اس طرح سانپ بھی مر جائے گا اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری