پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے باعث مردم شماری ایک بار پھر مؤخر

خبر کا کوڈ: 1147764 خدمت: پاکستان
سرشماری در پاکستان

محکمہ شماریات نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ آپریشن ''ضرب عضب'' اور فوج کے سرحدی علاقوں میں مصروف ہونے کے باعث اگلے سال مارچ یا اپریل میں ہی مردم شماری ممکن ہوسکے گی۔

تسنیم نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مردم شماری کے محکمے نے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کراتے ہوئے رواں سال بھی مردم شماری سے انکار کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ میں جمع کی گئی رپورٹ میں مؤقف اختیارکیا گیا ہے کہ 15 جولائی کو عدالت کی طرف سے مردم شماری کے لیے وقت کا تعین کیا گیا تھا جس کے پیش نظر وزارت دفاع اور ڈائریکٹوریٹ ملٹری آپریشن کے ساتھ رابطہ کیا گیا لیکن دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ''ضرب عضب'' اور فوج کے سرحدی علاقوں میں مصروف ہونے کے باعث اس سال مردم شماری کے لیے مطلوبہ تعداد میں فوج دستیاب ہونا ممکن نہیں تھا۔

ملٹری آپریشن ہیڈ کوارٹر نےکہا ہے کہ اس سال دسمبر میں فوج کی سرگرمیوں کا از سرنو جائزہ لینے کے بعد ہی مردم شماری کے لئے فوجی اہلکار تعینات کرنے کے بارے میں کچھ کہا جاسکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق؛ مردم شماری کی خاطر وزارت داخلہ کی توسط سے نادرا نے شناختی کارڈز کی تصدیق کا عمل شروع کردیا ہے، اس طرح دسمبر تک منسوخ اور بلاک کیے جانے والے شناختی کارڈز کی تفصیل بھی دستیاب ہوگی۔

واضح رہے کہ مردم شماری کے لیے بجٹ میں رقم مختص ہوچکی ہے، اس لیے اگلے سال مارچ یا اپریل میں مردم شماری ناگزیر ہے۔

دوسری طرف، چیف جسٹس نے کہا ہے کہ مردم شماری نہ کروا کر ملی بھگت کے تحت کام چلایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ حکومت پاکستان ملکی آبادی کے بارے میں صحیح اعداد شمار مہیا نہ کرنے پر بین الاقوامی سطح پردباؤ کا شکار ہے۔

پاکستان میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہوتی ہے۔ سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951ء میں ہوئی تھی۔ پھر 1961،1972،1981 اور 1998 میں ہوئی۔1972ء والی مردم شماری اصل میں 1971 کو ہونی والی تھی، مگر بھارت سے جنگ کی وجہ سے ایک سال تاخیر کا شکار ہوئی اور پھر 1991 کی مردم شماری سیاسی گہما گہمی کے باعث موخر ہوئی۔

پاکستان میں آخری بار مردم شماری 1998ء میں کرائی گئی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری