"پاک ترک اسکولز"؛ کوئٹہ میں ترک حکومت کی درخواست کیخلاف مظاہرہ

خبر کا کوڈ: 1150110 خدمت: پاکستان
پاک ترک اسکولز

کوئٹہ میں پاک ترک اسکول کے اساتذہ، طلبا اور ان کے والدین نے ترک حکومت کی پاکستان سے ان اسکولوں کی بندش کی درخواست کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،  ترک حکومت نے پچھلے ہفتے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ "فتح اللہ گولن" سے منسلک تمام اسکولز اور فاؤنڈیشنز بند کرا دے۔

اس درخواست کے خلاف کوئٹہ میں پاک ترک اسکول کے اساتذہ، طلبا اور ان کے والدین نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے میں موجود پاک  ترک  اسکول کے استاد "جمیل احمد کاکڑ" کا کہنا تھا کے اس وقت پاک ترک اسکول کوئٹہ برانچ میں کم از کم 1500 سے زائد طلبا و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں سے 200 کے قریب غریب و مستحق طلباء کو اسکالرشپ کے تحت مفت تعلیم دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان غریب بچوں کا تعلق بلوچستان کے دور دراز و پسماندہ علاقوں سے ہے، جن میں آواران، تربت، خضدار، موسیٰ خیل، لورالائی و دیگر اضلاع شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پہلے سے تعلیمی میدان میں پیچھے ہے، ایسے میں پاک ۔ ترک اسکول سسٹم کی بندش کا مطالبہ صوبے کو مزید تعلیمی پسماندگی سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔

واضح رہے کہ ترک حکومت کا کہنا ہے کے اس ملک میں حالیہ فوجی بغاوت کی ناکام کوشش کے پیچھے گولن تحریک کا ہاتھ ہے، اس وجہ سے ترک حکومت نے اپنے دوست ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ممالک میں فتح اللہ گولن گروہ کی سرگرمیوں کو روکیں۔

پاکستان میں گولن کے زیر انتظام 21 اسکولز،ایک رومی فورم اور ایک انٹیلیکچوئل اینڈ انٹر کلچرل ڈائیلاگ پلیٹ فارم چلایا جارہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری