کیا پاک - ایران کی بڑھتی نزدیکیاں دیرپا ثابت ہوں گی؟

پاک-ایران تعلقات میں گرمجوشی یقینی طور پر ایک دیرپا روشن مستقبل کی نوید ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی خوش آئند بھی ہے۔ بجا طور پر بہت سے شکوک، شبہات اور خدشات عوام کے ذہنوں میں موجود ہیں جن کا حل تلاش کرنے سے یقیناً برادرانہ تعلقات کی نئ اونچائیوں کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کیا پاک - ایران کی بڑھتی نزدیکیاں دیرپا ثابت ہوں گی؟

پاکستانی تجزیہ کار "حافظ مسعود چوہدری" نے پاک – ایران تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران وہ واحد ملک ہے جس نے تمام اقوام عالم سے پہلے مملکت خداداد پاکستان کو معرض وجود میں آتے ہی تسلیم کرلیا۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان آج بھی وہ واحد مملکت ہے جس نے ملت اسلامیہ ایران اور امت مسلمہ کے ازلی دشمن اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا.یہ وہ لازوال تعلق ہے جس کی نوید کہیں اور ملنا ناممکن ہے.

کسی بھی تنے کی مضبوطی جانچنے کے لئے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کی جڑ کتنی گہری ہے۔ ایران اور پاکستان دو ایسے برادر اسلامی ممالک ہیں جن کی حکومتی و عوامی سطح پر سیاسی، ثقافتی، معاشی اور معاشرتی تعلقات کی گہرائی کسی سے پوشیدہ نہیں۔

جب اقبال لاہوری نے کشمیر کو "ایران صغیر" کے نام سے یاد کیا تھا تو اس وقت انہیں بالکل بھی شک نہیں تھا کہ وہ کسی مختلف مملکتوں کی بات کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے ایک ہی تنے کے دو مضبوط حصوں کی جانب ہی اشارہ کیا۔

بے شک ایران کے ساتھ پاکستان کا دیرینہ رشتہ پاکستان کے وجود میں آتے ہی جڑ گیا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ رشتہ صدیوں پرانا ہے لیکن یہاں ہمارا مقصود پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کے تناظر کو مد نظر رکھنا ہے۔

دو بھائیوں کے درمیان جس دن دشمنان ملت اسلام نے نفرت کی لکیر کھینچی اس روز سے آج تک دونوں اطراف کے مقتدر حلقے منافقین کی پھیلائی ہوئی نفرت کی گندگی کو صاف کرنے میں مصروف ہیں۔

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل (ر) "ناصر جنجوعہ" کا حالیہ دورہ ایران ہو یا ایرانی صدر "حسن روحانی" کا مارچ میں پاکستان تشریف لا کر وزیراعظم "نواز شریف" سے دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کرنا، مقصد صرف اور صرف نفرت کی گندگی کو صاف کرنا ہی نظر آتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں جانب سے کی جانے والی مخلص کوششیں کافی حد تک کامیاب رہی ہیں اور اس وقت جماعت المنافقین دن رات انتھک کوششوں میں لگی ہے کہ کسی طرح سے اس اعتماد سازی کے جاری سلسلے کو سالوں پرانی بداعتمادی کی جانب دوبارہ دھکیل دیا جائے۔ اس ہی کا نتیجہ ہے کہ کبھی ہمیں پاکستانی اخبارات میں منفی اور من گھڑت باتیں برادر اسلامی ملک ایران کے بارے میں پڑھنے کو ملتی ہیں اور کبھی پاکستان کے خلاف ایران کو اکسانے کی ناکام کوششیں کی جاتی ہیں جس میں پراپیگینڈے کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔

دشمنان ملت کے مزموم ارادے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ہم سرحد کے دونوں پار بسنے والے عام لوگ بد گمانی کو اپنی صفوں میں جگہ نہیں دے لیتے۔ مستقبل قریب میں تو ایسا کوئی درخت لگتا نظر نہیں آرہا جس کی جڑ کو بد گمانی سے آبیار کیا جا سکے۔

مجھے یہ بات کہتے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہو رہی کہ دونوں جانب ابھی بھی حکومتی سطح پر رابطے کا فقدان پایا جاتا ہے۔ 

رابطوں کو حکومتی سطح سے نکل کر عوامی سطح پر بھی آنا چاہئے تاکہ اغیار مستقبل میں بد گمانی پھیلا ہی نہ سکیں۔ سیکریٹری خارجہ سطح کی ایک ملاقات بالکل بھی کافی نہیں ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیکریٹری خارجہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کیلئے ایک اچھا قدم تھا جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نہ صرف مزید بہتری آئی ہے بلکہ ایک دوسرے پر اعتماد کی فضا بھی بحال ہوئی ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ ملاقاتوں کی وجہ سے رابطوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن اگر ان رابطوں کو تاریخی اونچائی تک لے کر جانا ہے تو بہت سے مختلف عوامل کی جانب بھی نظرثانی کرنی ہوگی۔

کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ دونوں ہاتھ مل کر داد وصول کرتے بھی ہیں اور داد دیتے بھی ہیں۔ بڑھتی نزدیکیوں کے راستے میں حائل مشکلات کی درست انداز میں نشاندہی ہی ہمارا فرض ہے۔ اقتصادیات سے معاشرت تک تمام ہی معاملات میں دونوں اطراف سے صرف نظر دیکھنے میں آتا ہے۔ دونوں ممالک ہی ایک دوسرے کی تکنیکی، فنی اور تعلیمی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ دونوں برادر اسلامی ممالک کا دہشتگردی کے خلاف تعاون اور داعش جیسے سفاک دشمن کے خلاف اکٹھے ہونے پر اتفاق کا ارادہ تو واضع طور پر نظر آیا ہے جو کہ ایک انتہائی قابل تحسین عمل ہے لیکن عملداری میں فقدان کا کیسے سامنا کیا جانا ہے اس پر دونوں برادر تا حال خاموش دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب، چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پر پاکستانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا بیان آ چکا ہے جس میں انکا کہنا ہے کہ ایران اور افغانستان بھی مستقبل میں اس منصوبہ کا حصہ ہوں گے۔ گیس پائپ لائن منصوبہ "سیستان" کے بارڈر تک لایا جا چکا ہے تاہم پاکستانی حدود میں اسکی تعمیر ابھی تک باقی ہے۔ یہ تمام عوامل ایک دیرپا روشن مستقبل کی جانب اشارہ کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ یقین بھی دلاتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ایسی قوت برسر پیکار ضرور ہے جو کہ اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیئے کارفرما ہے۔

مذہبی منافرت پھیلانے والے خواہ پاکستان میں ہوں یا ایران میں، اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم باہمی امور پر توجہ دیتے ہوئے ایسے نادیدہ و ناعاقبت اندیش عناصر کا سختی سے قلعہ قمع کریں اور ان بڑھتے ہوئے تعلقات کو نئی اونچائیوں تک لے جائیں۔

تمام حقائق و میسر معلومات کی روشنی میں یہ بات واضح طور پر کہی جا سکتی ہے کہ پاک - ایران حکومتی سطح پر بڑھتی نزدیکیاں بلا شبہ دیرپا ثابت ہوں گی۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری