کوئٹہ دھماکہ؛ شہدا کی تعداد 70 سے تجاوز کرگئی/ حکمرانوں کی روایتی "مذمت" میں شدت

کوئٹہ دھماکے میں شہدا کی تعداد 70 سے تجاوز کر گئی ہے، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ، اکثر زخمیوں کی حالت نازک، مزید شہادتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

انفجار در کویته

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے میں اب تک 72 شہادتیں ہوچکی ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 112 سے زیادہ ہے۔

یاد رہے کہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونے والے بلوچستان بار کونسل کے صدر ایڈوکیٹ "بلال انورکانسی" کی میت جب سول ہسپتال میں لائی گئی تو وکلا اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اسی دوران ہسپتال کے شعبہ حادثات کے بیرونی گیٹ پر ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

صوبائی محکمہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر "مسعود نوشیروانی" نے شہید  ہونے والے شہریوں کی تعداد 70 تک پہنچنے اور کم از کم 112 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

شدید زخمی افراد کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کوئٹہ جبکہ کم زخمی ہونے والے افراد کو سول ہسپتال میں ہی طبی امداد دی جا رہی ہے۔

اس افسوسناک واقعے پر بلوچستان کی حکومت کی جانب سے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

صدر اور وزیراعظم پاکستان کی طرف سے دھماکے کی مذمت اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار سامنے آیا ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلی "نواب ثنااللہ زہری" نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی "را" کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا دیا ہے۔

وزیر اعلی کا یہ بیان عقل سے بالاتر ہے کیونکہ ابھی  تک دھماکے کی ابتدائی تحقیقات بھی مکمل نہیں ہوئیں جبکہ دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدہ ہونے والے دہشتگرد گروپ "جماعت الاحرار" نے دھماکے کی  ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

بہرحال، اس اندوہناک حادثے کا ذمہ دار بھارت ہو یا کوئی اور دہشت گرد گروہ، جن کے پیارے چل بسے وہ واپس نہیں آنے کے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشتگردی کے ایسے  واقعات کیسے روکے جائیں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری