افغانستان میں داعش کے لئے پاؤں ٹکنے کی جگہ تک نہیں/ امریکی داعش سے غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں

افغان طالبان کے ترجمان نے اس ملک کے سیاسی مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ امارت اسلامی کے ہوتے ہوئے داعش کےلئے افغانستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

افغانستان میں داعش کے لئے پاؤں ٹکنے کی جگہ تک نہیں/ امریکی داعش سے غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں

تسنیم نیوز خبر رساں ادارے کے مطابق، افغانستان حالیہ واقعات کی وجہ سے ایک نئے اور حساس مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔

وحدت ملی نامی موجودہ حکومت کو قریب تین سال کا عرصہ ہونے کو ہے اس مدت میں داعش کی موجودگی کے بارے میں خبروں کا گردش کرنا، غیر ملکی فوجیوں کی افغانستان میں رہنے کی آخری تاریخ کا معلوم نہ ہونا اور حالیہ دنوں میں طالبان کے ساتھ افغان سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں نے افغانستان کو ایک حساس اور خطرناک موڑ پر کھڑا کیا ہے۔

اسی وجہ سے تسنیم نیوز نے افغان طالبان کے ترجمان ''ذبیح اللہ مجاہد'' سے رجوع کیا ہے کہ وہ افغانستان کے حالیہ مسائل کے پیش نظراپنا مؤقف بیان کرے۔

مندرجہ ذیل متن میں آپ طالبان کے ترجمان کا تسنیم نیوز سے گفتگو کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔

1۔ طالبان رہنماؤں نے چینی حکام سے ملاقات کی غرض سے چین کا دورہ کیا تھا، اس سفر کا اصلی ہدف کیا تھا؟

''امارت اسلامی'' کے سیاسی دفتر کے مسئولین دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص ہمسایہ اور علاقائی ملکوں کے دورے کرتے

رہتے ہیں اور چین کا حالیہ دورہ بھی اسی سلسے کی ایک کڑی تھی۔

اس قسم کے دوروں کا مقصد دنیا کے ساتھ امارت اسلامی کے تعلقات کو فروغ دینا ہے اور دنیا کی توجہ کو افغانستان پر غیر ملکی افواج کے ناجائز قبضے کی طرف مبذول کرانا ہے۔

2۔ افغانستان کے شمال اور مغرب میں طالبان کے حملوں میں شدت دیکھا گیا ہے اس قسم کے حملوں میں اضافے کی کیا وجوہات ہیں؟

جی ہاں! امارت اسلامی کے مجاہدین نے نہ صرف مغرب اور شمال میں بلکہ پورے افغانستان کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے، اس قسم کے حملے طالبان کی منصوبہ بندی اورصلاحیت ظاہر کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ حملوں میں تیزی لانے کا ایک اور مقصد ملکی سطح پر عوام کو غیر ملکی افواج کے افغانستان پر ناجائز قبضے کے خلاف بیدار کرانا ہے۔

پس امریکی جتنا بھی افغانستان میں رہنے کی کوشش کریں گے، افغان قوم اتنا ہی امارت اسلامی کے ساتھ امریکہ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں جہادی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے اور افغانستان کے شمال اور مغرب میں امارت اسلامی نے قابض فوج کے خلاف کمر کس لی ہے۔

3۔ پچھلے دنوں امریکی اور افغان حکام نے قندوز صوبے کا سفر کیا ہے، اس قسم کی ملاقاتوں کے  بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

کابل اور غیر ملکی اداروں کو جاننا چاہئے کہ اس قسم کے دوروں، ملاقاتوں اور دیکھاوے کے تبلیغات سے کچھ نہیں ہونے والا، اس ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی بلکہ اس قسم کی ملاقاتیں کابل اور غیر ملکی افواج میں تشویش کی عکاسی کرتی ہیں اور داخلی مسائل پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ قندوز میں ہمارے حملے اور کارروائیاں تیز ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے ہم نے بہت بڑے علاقے پر قبضہ بھی کرلیا ہے۔ اب امریکی اور کابل پریشان دکھائی دے رہے ہیں، چند ایک جنرلوں اور افسروں کی ملاقاتیں ان کو کہیں پہنچانے والی نہیں ہیں۔

4۔ ان ملاقاتوں کے دوران طالبان قیادت کی سکیورٹی سخت کرنے کے بارے میں کچھ خبریں گردش کرنے لگی ہیں، کیا طالبان قیادت کو نشانہ بنانے کی طرف کوئی اشارہ تو نہیں ہے؟

امارت اسلامی کی قیادت پہلے سے ہی سکیورٹی مسائل سے آگاہ ہے لہٰذا دشمن کی طرف سے کسی بھی قسم کی دھمکیوں سے خائف نہیں ہے کیونکہ اللہ کی راہ میں شہادت پانا ہمارے اہداف اور مقاصد میں سے ایک ہے لیکن قوم اور مجاہدین کی صفوں کو منظم رکھنے کے لئے قیادت کی زندگی ہمارے لئے بڑی اہمیت رکھتی ہے، اس لئے ہم نے کچھ سخت قسم کے اقدامات بھی کئے ہیں۔

5۔ وحدت ملی حکومت کے سلسلے میں معاہدے کے دوسال پورے ہونے والے ہیں، کچھ خبریں ایسی ہیں کہ شاید "عبداللہ عبداللہ" کو جنرل "دوستم" کی جگہ بٹھایا جائے گا اور وہ کابل حکومت کا نائب اول ہوگا۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

کابل حکومت کی سرگرمیاں بہت کمزور ہیں کیونکہ تمام سیاسی، اقتصادی، سکیورٹی اور دوسرے ملکی مسائل افغان حکمرانوں کے بجائے غیر ملکیوں کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں یعنی ملکی نظام غیر ملکیوں کے ہاتھ میں ہے لہٰذا عبداللہ اور دوستم کے ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ حکومتی عہدوں پر تقرری اور ہٹانا امریکیوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے نہ کہ افغانیوں کے ہاتھ میں، ایسی حالت میں اس قسم کی کرسیاں اور عہدے افغان قوم کے کسی فائدے میں نہیں ہیں اور اس سے نہ ہی قابض فوج کے لئے فائدہ پہنچے گا۔ اس بارے میں مجاہدین امارت اسلامی کو بھی کوئی تشویش نہیں ہے کیونکہ اس قسم کے منصوبے افغانستان میں کمیونسٹ حکومتوں کے دور میں بھی موجود تھے اور وہ کسی کام کے نہیں ہوتے تھے۔

6۔ کہا جاتا ہے کہ داعش نے صوبہ ''جوزجان'' میں اپنے قدم جما لئے ہیں، اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ کیا یہ خبر سچ ہے؟

امارت اسلامی افغانستان میں قابض فوج کے خلاف جد و جہد کررہی ہے اور جہاد کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔

امارت اسلامی داعش کے فتنے سے بھی آگاہ ہے اورقوم کے تعاون سے اب تک داعش کو افغانستان میں قدم رکھنے کی جگہ تک نہیں چھوڑی ہے۔

داعش افغانستان کی سرحد کے ایک مختصر ٹکڑے پر موجود ہے، اس گروہ کی حالت ناگفتہ بہ ہے، داعش کے جو اراکین ہیں ان کا تعلق افغانستان سے نہیں ہے بلکہ وہ سب غیر ملکی ہیں۔

میں تاکید کے ساتھ کہہ دیتا ہوں کہ صوبہ جوزجان میں داعش کا وجود نہیں ہے اور ہم ان کو افغانستان میں آنے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔

کابل اور امریکی حکمران داعش سے غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس گروہ کو برا اور خطرناک دکھا کرقابض فوج کے لئے مزید افغانستان میں رہنے کا جواز فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی انٹرویو خبریں
اہم ترین انٹرویو خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری