وہ خطرہ جو فلسطینیوں کو ہمیشہ کے لئے دھمکاتا اور ستاتا ہے

گزشتہ چند سالوں میں صہیونی حکومت امریکہ اور یورپی ممالک کے تعاون اور آشیر باد سے فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کےمسئلے کو، فلسطین سےمتعلق کسی بھی قسم کے بین الاقوامی مذاکرات میں حذف اور ختم کرنے کے درپے ہے جس کے عملی ہونے کی صورت میں فلسطین ایک بہت بڑے خطرے سے دوچار ہوگا۔

فلسطین

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، چارجانبہ بین الاقوامی کمیٹی جس کا کام فلسطین کے اندر امن قائم کرنا ہے اور اس کمیٹی کو روس، امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے چار نمائندے تشکیل دیتے ہیں، نے حالیہ دنوں میں اس مسئلے کو حل کرنے سے متعلق ایک ایسی رپورٹ جاری کی ہے کہ جس نے مفاہمت کے حامیوں کی بھی صدائیں بلند کی ہیں، چہ رسد بہ مقاومت کے حامی، جو اس کمیٹی کو استکبار اور عالمی تسلط کے نظام کا آلہ کار گردانتے ہیں۔   

اس رپورٹ نے سازشی عناصر کے حامیوں کی بھی چیخیں بلند کروائی ہیں۔

یہ کمیٹی اپنی رپورٹ میں صہیونیوں کو بغیر اس کے کہ فلسطینیوں کی سرزمین پر صہیونیوں کے لئے بستیاں بنانے بسانے سے منع کرے، التماس کی ہے کہ بستیاں بنانے سے گریز کیا جائے۔

یہ ایسے حالات میں ہے کہ اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں صہیونیوں کو حکم کے بجائے درخواست کی ہے۔

یہ رپورٹ دوسری طرف فلسطینیوں کی تشدد کی طرف جانے سے ممانعت کرتی ہے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ کچھ اسطرح منظرعام پہ آئی ہے کہ سازشی عناصر کے حامیوں یعنی فلسطینی اتھارٹی کو بھی سخت طیش دلایا ہے۔ چارجانبہ کمیٹی نے اس حال میں اس رپورٹ کو جاری کیا ہے کہ اس کمیٹی کے نمائندے پورے چار سال سے اس پر مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے۔

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ یہ کمیٹی کیسے اچانک سرگرم ہوئی ہے اور فلسطینیوں کے خلاف رپورٹ بھی جاری کی ہے؟

پیرس کانفرنس، چار جانبہ کمیٹی کا فعال ہونا سکے کا دوسرا رخ

چارجانبہ کمیٹی پیرس کانفرنس کے منعقد ہونے کے بعد گزشتہ دو ماہ میں سرگرم ہوئی ہے۔

جب فرانس نے ایک کانفرنس پیرس میں منعقد کیا اوراعلان کیا کہ اس اجلاس سے اس کا مقصد بین الاقوامی کانفرنس کے لئے منصوبہ بندی ہے جس میں سارے بین الاقوامی نمائندوں کی موجودگی میں تنازع کے دونوں فریقوں کے درمیان مسئلہ فلسطین حل ہو۔

اس مقدماتی اجلاس جو پیرس میں منعقد ہوا، کے آخری اور حتمی اعلامیے میں سب سے زیادہ جو چیز مورد تاکید قرار پاِئی، چارجانبہ بین الاقوامی کمیٹی کا فعال ہونا تھا۔

لیکن دو چیزیں اس اجلاس میں قابل ذکر تھیں۔ پہلی یہ کہ اجلاس کے آخری اعلامیے میں ماضی کے مذاکرات میں موجود تمام مسائل کی طرف اشارہ کیا گیا تھا تاہم سوائے فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کے اور دوسری یہ کہ اعلامیہ اتنا کمزور اور غیر مؤثرلکھا گیا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی اور سازشی عناصر اور مذاکرات کے حامیوں کی نارضایتی اورعدم اطمینان کا باعث بنا۔

فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کا مسئلہ دونوں فریقوں کا نقطہ ثقل

نہ پیرس کے اجلاس میں نہ چارجانبہ کمیٹی کی رپورٹ میں کہیں بھی کسی مفہوم میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کا مسئلہ ذکر ہی نہیں ہوا۔ پیرس کے اجلاس کے بعد مزاحمتی گروہوں نے اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس اجلاس کو فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلے کو حذف کرنے کے لئےسازش قرار دیا ہے جبکہ قدس کا مسئلے پر بھی پیرس کے اجلاس میں کوئی واضح مؤقف نہیں اپنایا گیا، یہ امر بھی فلسطینی اتھارٹی کے احتجاج کا سبب بنا۔

فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلے کو حذف کرنے کی آخری کوشش

اگر گزشتہ 4 سال سے فلسطین کی پوزیشن پرنظر دوڑایا جائے تو سمجھ جائیں گے کہ مغربی شاخ (The West Wing) نے امریکہ کی قیادت اور صہیونی حکومت کی سرکل ہینڈلنگ میں اس دوران کوشش کی ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلے کو حذف کریں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ مسلسل صہیونی حکومت کے لئے سرخ لکیر رہا ہے، اس حکومت کے عہدے داروں میں سے ابھی تک کوئی بھی کسی بھی موقع پر پناہ گزینوں کے مسئلے کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوا اور اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے کیوںکہ پناہ گزینوں کی واپسی کے مسئلہ سے پھر اسرائیل کا کوئی وجود نہیں رہے گا۔

صہیونیوں کی فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلہ کو حذف کرنے کےلئے چارہ جوئی:

"یہودی پناہ گزینوں" کے نام سے جعلی مسئلہ پیدا کرنا

2012ء سے صہیونیوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کوحذف کرنےکے لئے ایک نیا راہ حل پیش کرنے کی کو شش کی۔

صہیونیوں نےایک نیا مسئلہ "یھودی پناہ گزینوں" کے نام سے پیدا کیا اور مقبوضہ سرزمین میں کہیں ایک مرکز وجود میں لاکر ان تمام یہودیوں جو عرب ممالک سے ہجرت کرکے آئے تھے، سے کہا گیا کہ آئیں اور عرب ممالک میں اپنی یادداشتوں اور اثاثوں کا اندراج کروائیں۔

صہیونیوں نے یہ کوشش اسلئے کی کہ یہودی مہاجرین کو بے گھر فلسطینی مہاجرین کے ساتھ متوازی قرار دے کر فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کو حذف کریں۔

اس وقت سے "کنیسٹ" قرارداد کی بنیاد پر صہیونی حکومت اس بات پر مامور ہوئی ہے کہ اس کے بعد سے ہونے والے تمام مذاکرات میں یہودی پناہ گزینوں کے مسئلے کو پیش کیا جائے گا۔

مذاکرات کے اسناد سے فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کو ہٹانا

صہیونیوں کی بعد والی کارروائی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ 2014ء میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہوئے۔

امریکیوں نے اعلان کیا کہ فلسطینی مہاجرین اور سرحدوں کے مسئلوں کے کیس انتہائی متنازعہ ہونے کی بنا پر اور اسلئے کہ ایجنڈے میں شامل دوسرے بہت سارے کیسز نتیجہ خیز ہوں، دو مقدموں کو مذاکرات کی میز سے ہٹا دیا جائے۔

اس طرح امریکہ کی قیادت میں فلسطینی مہاجرین کا مسئلہ وہی صہیونیوں کیلئے سرخ لائن تھا اور ابتدا سے دوطرفہ مذاکرات کا حصہ تھا جو مذاکرات سے خارج کیا گیا۔

مھاجرکیمپوں میں المناک صورتحال

آج فلسطینی مھاجر کیمپ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے علاوہ شام، اردن اور لبنان میں بھی موجود ہیں۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی سب سے بڑی آبادی ان ملکوں میں رہتی ہے تاہم کیمپوں کی صورتحال اس حد تک المناک، افسوس ناک اور نامناسب ہے کہ زبان بیان کرنے سے قاصر ہے۔

اردن

اردن کے کیمپ اس ملک کے سیکورٹی اداروں کے شدید دباؤ میں ہیں کیوںکہ اس ملک کے سیکورٹی ادارے مغربی اور صہیونی حکومت کے سکیورٹی اداروں کے ماتحت ہیں جس کی وجہ سے فلسطینی مھاجرین اردن میں سخت دباؤ کا شکار ہیں۔

شام

فلسطینی مھاجر کیمپوں میں سب سے بہترین حالات زندگی شام میں فلسطینی کیمپوں میں تھی لیکن شام بحران کے آغاز سے یہ سارے کیمپ تکفیری گروہوں کے لئے اکٹھا ہونے کی جگہیں یا ان گروہوں کا شامی حکومت کے ساتھ مسلح تصادم کے میدان بنے ہوئے ہیں لہٰذا آج یہ کیمپ تقریبا رہنے والوں سے خالی ہوگئے ہیں اس لئے کہ ان میں موجود فلسطینی یا تو مارے گئے ہیں یا تکفیری گروہوں میں شامل ہوگئے ہیں یا دوسرے ملکوں بالخصوص اکثر نے لبنان کی طرف ہجرت کی ہے۔

لبنان

حالات زندگی کے اعتبار سےلبنانی کیمپوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے اور ان کی فضا غربت اور کرپشن سے بھری پڑی ہے۔

اس کے علاوہ  لبنانی قانون کے مطابق، مہاجرین کو سرکاری سروسز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

یہ امر کیمپوں میں بے روزگاری اور غربت کا باعث بنا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جائے کہ لبنانی کیمپوں میں مختلف فلسطینی گروہوں کی جھڑپوں نے کیمپوں کو میدان جنگ بنادیا ہے۔

خود فلسطین کے اندر کے کیمپ

مغربی کنارے میں قائم کیمپوں میں غربت کا راج ہے۔ اس کے علاوہ ان کیمپوں کے باسی فلسطینی اتھارٹی اور مسلح گروہوں کی جانب سے بھی دباؤ میں ہیں۔ بے روزگاری بھی ان کیمپوں میں شدید غربت اور کرپشن کا باعث بنی ہوئی ہے۔ غزہ کی پٹی میں قائم کیمپ مسلسل متعدد جنگوں کی وجہ سے انتہائی ویران اورشدید غربت کے شکار ہیں۔ لوگ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ اسطرح سے کہ یہ کیمپ صرف کھنڈرات اور ملبے اور خراب گھر ہیں اور ان کے باشندوں میں سے زیادہ تر غریب اور پسے ہوے لوگ ہیں۔

یورپ والوں کا آخری تیر

ہم نے درجہ بالا سطروں میں  کیمپوں کی جو صورتحال دیکھی تو مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ جن جن علاقوں میں فلسطینی کیمپوں کے نام سے لوگ آباد ہیں، بدترین حالات زندگی سے دوچار ہیں۔ یہ لوگ کئی سالوں سے ایسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں میں یورپی ممالک نےفلسطینیوں کو شہریت دینے کی کوشش کی ہے۔ مختلف یورپی ممالک کئی دہائیوں سے زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم بے گھر پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے وعدے کا سبز باغ دکھا کر ان کو جذب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اہم بات یورپی ممالک کی تجاویز میں یہ ہے کہ اپنے ملکوں کی شہریت دے کر فلسطینیوں کو اپنے شہری بنائیں گے جبکہ انکی فلسطینی شہریت کو منسوخ کردیں گے۔

آزاد اور ہوشیار فلسطینی

کئی فلسطینیوں نے یورپی ممالک کی غیر منصفانہ تجاویزکے معاملے پر مزاحمت کرکے اس کو مسترد کردیا ہے۔ زیادہ تر کیسوں میں فلسطینی شہریت کی تحفظ کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک میں جانے اور ان کی شہریت لینے کے لئے ہجرت کر گئے ہیں۔

سب سے بڑا خطرہ

تاہم سب سے بڑا خطرہ جس سےفلسطینی دوچار ہیں، اس عمل کا جاری رہنا اور اس کو کمزور کرنا ہے۔

یورپ والوں نے اب تک یہ ثابت کیا ہے کہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کئی دہائیوں تک اپنے ایک مؤقف پر اصرار کریں۔

اب اگر یورپی شہریت کی تجویز، کیمپوں کی المناک صورتحال کے مقابلے میں جاری رہی تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، فلسطینی ںئی شہریت کے مقابلے میں اپنی فلسطینی شہریت سے ہاتھ دھو سکتے ہیں اور یہ فلسطینی نسل کی بدلتی ہوئی نوعیت سب سے بڑا خطرہ ہے جوفلسطین اور فلسطینیوں کو دھمکاتا اور ستاتا ہے۔

آخری نکتہ

مزاحمت کے تجربے نے یہ ثابت کیا ہے کہ مغرب والے اس وقت تک اپنی حکمت عملی کو ناکارآمد قرار نہیں دیتے جب تک کوئی اپنا حق ان سے چھین نہ لے، نہ یہ کہ وہ انتظار کرے کہ کوئی ان کو ان کا حق دلوائے گا ور یہ تجربہ مزاحمت کے گزشتہ کئی سالوں میں بھی محقق نہیں ہوا ہے۔

اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری