'ذاکر نائیک" کی مشکوک سرگرمیوں سے متعلق رپورٹ حکومت کو پیش، بھارتی وزیر

خبر کا کوڈ: 1154472 خدمت: دنیا
ذاکر نایک

ہندوستان کی ریاست "مہاراشٹر" پولیس نے دیوبند فرقے سے تعلق رکھنے والے مذہبی اسکالر "ذاکرنائیک" کی مشکوک سرگرمیوں سے متعلق ایک رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں اس کی متعدد غیر قانونی مشکوک سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، ریاست مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ممبئی محکمہ پولیس نے حکومت کو ذاکر نائیک کی مشکوک سرگرمیوں سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی ہے۔

بھارتی اخبار "انڈین ایکسپریس" نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ ذاکر نائیک کی سربراہی میں چلنے والی تنظیم کی مختلف مشکوک سرگرمیوں کی تفصیلات سے حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے۔

وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ 'مہاراشٹر کی حکومت اس رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے کہ ایم ایچ اے سے مشاورت کے بعد ہی ذاکرنائیک کے خلاف کارروائی کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

کہا جاتا ہے کہ پچھلے مہینے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک ریسٹورنٹ پر حملہ کرنے والے دہشت گرد، ذاکر نائیک کی تعلیمات سے متاثر تھے جس کی وجہ سے بنگلہ دیشی حکومت نے پیس ٹی وی پر پابندی عائد کی ہے۔

واضح رہے کہ ذاکرنائیک، جس نے ممبئی میں اسلامی ریسرچ فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ہے، اپنے علاوہ باقی تمام اسلامی فرقوں کو غلط سمجھتا ہے۔  یزید جیسے پلید انسان کے ساتھ اظہار ہمدری کرتا ہے، پیغمبراکرم (ص) ، آئمہ اطہار علیہم السلام اور اولیاء کرام کی زیارت کو بدعت اور حرام سجمھتا ہے۔

نائیک پر برطانیہ اور کینیڈا میں مبینہ طور پر دیگر مذاہب کے خلاف مذہبی منافرت پر مبنی تقاریر کے باعث پابندی عائد ہے۔

نائیک کی متنازعہ تقاریر کی وجہ سے دنیا بھر میں دہشت گردوں کو تقویت مل رہی ہے، داعش، طالبان اور القاعدہ جیسے عناصر اب تک عراق، شام اور افغانستان میں سینکڑوں اولیاء اللہ کے مزارات منہدم کر چکے ہیں جبکہ نائیک ان تمام دہشت گرد گروہوں کی نہ صرف حمایت کرتا ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری