پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کا خیر مقدم کریں گے، ترجمان بھارتی وزارت خارجہ

خبر کا کوڈ: 1157494 خدمت: پاکستان
وکاس سوارپ

ترجمان بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ممبئی حملے کے ٹرائل اور پٹھان کوٹ ایئربیس حملے کی تحقیقات سے ہندوستان کو آگاہ کرے جبکہ اسلام آباد کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان "وکاس سوارپ" نے سماجی ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹ، ٹوئیٹر پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت دی گئی تو ہندوستان اس کا خیر مقدم کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان سے "حافظ سعید" سمیت دیگر اہم معاملات پر کارروائی چاہتے ہیں۔

وکاس سوارپ نے پاکستان سے ممبئی حملے کے ٹرائل اور پٹھان کوٹ ایئربیس حملے کی تحقیقات سے ہندوستان کو آگاہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مشیر خارجہ پاکستان "سرتاج عزیز" نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سیکریٹری خارجہ جلد اپنے ہندوستانی ہم منصب کو خط لکھیں گے جس میں خصوصی طور پر کشمیر پر بات چیت کرنے پر زور دیا جائے گا۔

اس زمرے میں پاکستان کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ کشمیر کے شہریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں حریت پسند کمانڈر "برہان مظفر وانی" کی شہادت کے بعد 8 جولائی سے حالات شدید کشیدہ ہیں اور ہندوستانی فوج کی جانب سے مظاہرین پر فائرنگ اور وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں اب تک 70 سے زائد کشمیری شہید اور 4 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی فوج کی جانب سے پرامن مظاہرین پر جانوروں کے شکار میں استعمال ہونے والی چھروں والی بندوقوں کا بھی بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے جس سے سینکڑوں کشمیری نوجوان آنکھوں میں شدید زخم آنے کی وجہ سے اپنی بینائی ہمیشہ کے لئے کھو چکے ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان مسئلہ کشمیر کا پر امن مذاکرات سے حل چاہتا ہے مگر بھارت نے ہمیشہ اپنی روایتی ڈھٹائی کی وجہ سے ٹال مٹول سے کام لیا ہے۔ 

مقبوضہ وادی میں گذشتہ ایک ماہ سے جاری بھارتی جارحیت کے بعد اچانک اس ملک کے حکام کی جانب سے ایسے بیان کے سامنے آنے سے کیا بھارت دنیا کے سامنے فقط اپنے آپ کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے خواہش مند ثابت کرنا چاہتا ہے یا وہ قیام امن کے لئے واقعی سنجیدہ ہے؟؟

اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا تاہم تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے کم از کم مسئلہ کشمیر سے متعلق کیا ہوا کوئی وعدہ کبھی پورا نہیں کیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری