تجزیہ/ سید ہادی دادگر

امام رضا علیہ السلام کی سیرت میں شفقت اور مہربانی زیادہ نظر آتی ہے

خبر کا کوڈ: 1157974 خدمت: مقالات
گنبد امام رضا

شیعہ عقیدے کے مطابق، ائمہ علیہم السلام نور واحد ہیں اور ان بزرگواروں میں سے ہر کوئی اگر دوسرے کی جگہ پر ہوتا تو وہ بھی اسی رویے کا مظاہرہ کرتا لیکن ہر زمانےکے حالات کی وجہ سے کچھ صفات کا ظہور ان میں سے بعض میں زیادہ دکھائی دے رہے ہیں اور امام رضا(ع) کی سیرت میں زیادہ شفقت اور رحم دلی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

تسنیم نیوزایجنسی: شیعہ واضح اور صریح عقیدے کے مطابق، ائمہ علیہم السلام نور واحد ہیں  اور ان بزرگواروں میں سے ہر کوئی اگر دوسرے کی جگہ پر ہوتا تو وہ بھی اسی رویے کا مظاہرہ کرتا لیکن ہر زمانےکے حالات یا دیگر وجوہات جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں، کی بنا پرکچھ صفات کا ظہور ان میں سے بعض میں زیادہ دکھائی دے رہے ہیں مثال کے طور پر، امام حسین علیہ السلام قربانی، ایثار، شہادت اور اللہ کی بندگی کے نمونہ ہیں اور امام رضا(ع) تاریخی روایات اور علماء ربانی کے اقوال کے مطابق، ان کا علم اور احسان و شفقت باقی صفات سے زیادہ چھلکتے ہیں۔

امام کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ رسول خدا کو خواب میں دیکھا میرے بیٹےعلی رضا کی میرے لئے یوں صفات بیان کیں: ابنک ینظر بنورالله ... قد ملیء حکماً و علماً، تیرا بیٹا علی الہی نور سے دیکھتا ہے اور علم و حکمت الہی سے سرشار اور بھرا ہوا ہے۔

اس زمانے کےراہ حق سے بھٹکے ہوئے آل محمد علیہم السلام کے خلاف سرگرم منحرفین کو ناکام بنانا مختلف مذاہب کے رہنماؤں سے بحث و مباحثے برپا کرنا اور ان سب کو مغلوب کرنا اس مطلب  کی تایید کے لئے بہترین ثبوت ہیں۔

اس کو بہتر سمجھنے کے لئے اس سلسلے میں چند امور کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:

امام علیہ السلام کو مختلف زبانوں کا علم

امام رضا (ع) کے شخصیتی اور علمی کردار نے امام کے اطراف میں رہنے والے اور ان کو مشاہدہ کرنے والے لوگوں کو تو حیرت میں ڈال ہی دیا تھا تاہم اس کے علاوہ امام علیہ السلام کو مختلف زبانوں کا مکمل علم بھی تھا اس طرح سے کہ علمی جلسوں اور نشستوں میں مناظرہ اور بحث کے دوران یا دوسرے ملکوں سے شرفیاب ہونے والوں کے سوالات کی جواب دہی میں سامع اور مخاطب کی اپنی متداول اور رسمی زبان میں ان کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے۔ 

"ابا صلت ھروی" فرماتے ہیںکہ کان الرضا (ع)یکلم الناس بلغاتهم وکان والله افصح الناس واعلمهم بکل لسان و لغة۔ امام رضا علیہ السلام لوگوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے ان کی اپنی زبان میں بات چیت فرماتے خدا کی قسم کہ وہ ہر زبان اور ثقافت کے بارے میں سب سے زیادہ فصیح عقل مند اور دانا ترین لوگوں میں سے تھے۔

ابا صلت کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرے عرض کرنے پر کہ اے رسول خدا کے فرزند آپ کی مختلف زبانوں میں مہارت پہ مجھے حیرت ہے؟ فرمایا میں لوگوں پر خدا کی حجت ہوں کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا لوگوں کے لئے کسی فرد کو حجت اور حتمی ثبوت کے طور پر بھیجے لیکن وہ ان کی زبان نہ سمجھ سکتا ہو؟ مگر امیرالمًومنین کا کلام تم تک نہیں پہنچا ہے جس میں فرمایا ہے کہ ہمیں فصل الخطاب عطا ہوا ہے اور یہ فصل الخطاب زبانوں کی شناخت کے سوا کچھ نہیں ہے.

ان کے علم کا دشمنوں کو بھی اعتراف ہے

ایک دوسرے نقل میں یہ مطلب ذکر ہوا ہے کہ مامون عباسی نے امام رضا علیہ السلام سے کئی مسائل پوچھے اور پھر ان سب کا صحیح طریقے سے جواب پایا اور یوں کہا خدا تیرے بعد مجھے زندہ نہ رکھے، خدا کی قسم صحیح علم سوائے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان کے کہیں نہیں مل سکتا اور حقیقت میں آپ اپنے باپ دادا کے وارث ہیں اور تیرے تمام آباء و اجداد کے علوم آپ میں جمع ہیں۔

حضرت کا علمی مقام

اباصلت سے روایت ہے کہ انہوں نے خود امام سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں روضہ منورہ رسول خدا(ص) میں بیٹھا کرتا تھا اور مدینہ میں بہت سے علمائے کرام موجود تھے جب بھی کسی سوال میں پھنس جاتے تو سب کو میری طرف لوٹا دیتے اور سارے اپنے سوالات اور مشکلات کو میرے پاس لاتے پھر میں جواب دے دیتا۔

امام (ع) کی مہربانی اور شفقت

امام کی مہربانی اور شفقت کے سلسلے میں یہ کہا جانا چاہئے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں یا اپنی شہادت کے بعد ہمیشہ مشکلات میں گرفتار، زائرین ، اور ملتمسین دعا سب کی دستگیری کی ہے اس طرح سے کہ
دلچسپ کلام میں، پہنچے ہوئے عارف علامہ "طباطبائی" ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سارے ائمہ علیہم السلام رؤف اور شفیق ہیں لیکن امام رضا علیہ السلام کی رأفت اور شفقت قابل حس ہے یعنی اس امام کے حرم میں یہ مہربانی زیاہ محسوس ہوتی ہے۔

اس مختصر فہرست کے اختتام پر شیخ "حسنعلی نخودکی اصفهانیٖ" سے حضرت امام رضا علیہ السلام کی اپنے زائرین جو زیارت کر تے ہوئے گذر جاتے ہیں، پرمہربانی اور شفقت کے بارے میں ایک مطلب کو ذکر کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مکاشفہ یا (خواب) کی حالت میں، میں نے دیکھا کہ امام رضا (ع) اپنے روضے پہ کھڑے ہیں اور زائرین کرام ان کے سامنے سے گذر رہے ہیں اور حضرت ان سب کے سروں پر اپنا ہاتھ پھیر رہے ہیں لیکن جو چیز دلچسپ تھی اور جس نے شیخ کو متاثر کیا، یہ تھی کہ ان زائرین میں سے بعض جن کےسروں پراتنے پیار سے امام محبت کا ہاتھ پھیر رہے ہیں بنیادی طور پر انسان ہی نہی تھے بلکہ صرف انسان نما تھے.

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری