بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بدامنی کا الزام ایک بار پھر پاکستان کےسر تھوپ دیا

خبر کا کوڈ: 1164970 خدمت: پاکستان
ارون جیتلی

بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے مقبوضہ کشمیر میں امن و امان کی خراب صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، بھارتی حکام برہان وانی کی شہادت سے شروع ہونے والے کشمیری مجاہدین کے احتجاج اور ریلیوں کے سلسلے کو اسلحے اور ظلم سے روکنے میں ناکام ہوگئی ہے اور کشیدگیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق، بھارتی وزیروں کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے اور بی جے پی کے نریندر مودی اور راج ناتھ سنگھ کے بعد اب ارون جیٹلی نے بھی کشمیر میں جاری کشیدہ صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنتا پارٹی کی جانب سے منعقد کی گئی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نےبی جے پی کے دیگر بھارتی وزیروں کی طرح پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیر کو ہمارا اٹوٹ انگ تسلیم نہیں کرتا اور یہاں بدامنی پھیلانے کے نت نئے طریقے اختیار کرتا رہتا ہے۔

بھارتی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان اس کام میں تنہا نہیں بلکہ اس کو کچھ بیرونی طاقتوں کی امداد بھی حاصل ہے۔

ارون جیٹلی نے کہا کہ بھارت اس صورتحال کو ایک چیلنج سمجھتا ہے اور معاملے میں کوئی سمجھوتا کرنے پر تیار نہیں۔

یاد رہے کہ حریت پسند رہنما برہان وانی کی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں  شہادت کے بعد کشمیریوں کی تحریک آزادی نے ایک نیا زور پکڑا ہے جس کو دبانے میں بھارتی فوج اپنے تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود ناکام رہی ہے۔

بھارتی فوج کی پرتشدد کاروائیوں میں 8 جولائی سے اب تک 80 سے زائد بےگناہ کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

جبکہ پاکستان نے حال ہی میں کشمیر کی اس صورتحال میں بہتری لانے کے لئے بھارت کو پر امن مذاکرات کرنے کی با ضابطہ دعوت دی تھی جس کو بھارت نے یکسر مسترد کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو سنبھالنے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لئے اقوام متحدہ کو بھی خط تحریر کیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری