تجزیہ/ محمد علی دستمالی

ایران کے روس اور ترکی کے ساتھ بیک وقت رابطوں کی بہترین حکمت عملی

خبر کا کوڈ: 1165141 خدمت: مقالات
دستمالی

ایران کی جانب سے شام کے معاملے میں مختلف اہداف اور مقاصد کےحامل دو ممالک یعنی روس اور ترکی کے ساتھ ایک ہی وقت میں رابطوں کا آغاز کرنا حقیقت میں تہران کی ہوشیاری، تعاون، سفارتی صلاحیتوں اور مختلف اختیارات کا مناسب طریقے سے استعمال کرنے کو ظاہر کرتا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترک وزیر خارجہ چاوش اوغلو کا اچانک تہران دورہ اس ملک کے میڈیا کی طرف سے بھارت دورے سے پہلے ایک مختصر وقفے کے طور پر بیان ہوا ہے لیکن ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ محمد جواد ظریف نے ان کے ساتھ 5 گھنٹے کی طویل ملاقات کی ہے۔

چاووش اوغلو کے تہران دورے کی اہمیت اور اس دوران 5 گھنٹے طویل وقفے کو اس وقت بہتر سمجھ سکتے ہیں جب ہم پیوٹن ،علی اوف ،روحانی کے درمیان سہ فریقی ملاقات، اردو گان اور پیوٹن ملاقات، ظریف کے ترکی کے دورے، تہران میں میخائل بوگڈانوف کے اپنے ایرانی ہم منصب جابری انصاری کے ساتھ ملاقات، چاووش اوغلو کی تہران میں ہونے والی مفصل ملاقاتوں کے بعد نئی دہلی جاکر امریکی وزیر خارجہ سے ٹیلی فون کے ذریعے سےکئی بار ہونے والی گفتگو کو غور میں لائیں۔

اگر ان دوروں کو شامی میدان جنگ کے تحرکات کے ساتھ موازنہ کرکے تجزیہ کریں اور حلب اور منبج سے متعلق خصوصی حیثیت کی تبدیلیوں کو غور سے دیکھیں اور اسی طرح مسئلہ نوژہ کو بھی ان موازنے میں اضافہ کریں توعام طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایران، روس اور ترکی کا مثلث اس کوشش میں ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو حلب اور شام میں کام کو یکطرفہ کرکے بحران کے خاتمے کے لئے مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کریں۔

لیکن کیا واقعی ایسا کرنا ممکن ہے؟ علاوہ بر اس کے کہ حلب کی مکمل آزادی میں کس قسم کے فضائی آپریشن اور زمینی حمایت اور مدد کی ضرورت ہے خود مسئلے کے ساتھ کیسے نمٹنا ہے اور کیسے افہام و تفہیم تک پہنچنا ہے جو کہ ایران، ترکی اور روس کے درمیان اصل اختلافات کی وجوہات ہیں.

ہمیں نہیں بھولنا چاہیے چند اہم مسئلے، بشارالاسد کا مستقبل، مستقبل میں شام میں طاقت کی تقسیم پر نہ صرف اختلاف رائے ہے بلکہ اختلاف اور مفادات کا تصادم بھی ہے۔

ایک اہم مسئلہ جس پر ایرانی وزارت خارجہ کے افریقی اور عربی امور کے سابق معاون امیرعبداللهیان کی ذمہ داری کے زمانے میں تمام انٹرویوز اور مذاکرات میں ہمیشہ "دہشت گرد گروہوں" کی تعریف پر تاکید ہوتی رہی ہے۔ اس بارے میں ایران اور روس کے خیالات تقریبا مکمل طور ایک جیسے ہیں ما سوائے اسد کے اندرونی مخالفین جو کونسل آف کوآرڈینیشن کے طور پر جانے جاتے ہیں، کے علاوہ  جیش الاسلام سمیت تمام دیگر فورسز کو دہشت گرد گردانتے ہیں اوراس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان گروہوں کے رہنماؤں اور نمائندوں کو مذاکرات میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے لیکن اس معاملے میں ترک حکومت دوسری طرح سے سوچتا ہے اور نہ صرف، جیش الاسلام، فری آرمی، شامی حزب اختلاف مقیم استنبول اور گازی عنتاب کو دہشت گرد نہیں سمجتا بلکہ یقین رکھتا ہے کہ شام کے مستقبل کو ان لوگوں کے ہاتھوں سونپ دینا چاہئے۔

دوسری طرف، بشارالاسد کے بارے میں بھی ایران اور ترکی کے درمیان اختلاف نظرہے۔

جبکہ اس دوران شام میں روسی فوج کی موجودگی، بمباری، مسئله نوژه، ہوا اور زمین کے درمیان ہماہنگی کے طریقہ کار کی امریکہ اور یورپ کی طرف سے تائید نہیں کی گئی ہے۔ امریکہ کی قیادت میں ترکی کی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کا خیال ہے کہ فضائی کارروائیوں میں روس اور شام کبھی کبھار داعش کے علاوہ اسد کے مخالفین یہاں تک کہ کچھ عام شہریوں کو بھی داعش کو نقصان پہنچانے کی غرض سے مارنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

اب ہمیں پوچھنا چاہئے کہ مسئلہ کیا ہے؟ اتنے واضح اختلاف نظر کے ہوتے ہوئے آیا ترکی، روس اور ایران کے نظریات کو نزدیک کرنے کا کوئی طریقہ کار ہے اور مذاکرات کا جاری رہنا سود مند ہے یا نہیں؟

کوئی شک نہیں، یہاں تک کہ اس سے زیادہ گہرے اختلافات اور دھند سے بھی زیادہ کالے حالات کیوں نہ ہو پھربھی ایران، روس اور ترکی کے اتفاق اور تعاون سے متعلق پرامید رہنا چاہئے۔

اس لئے کہ کم از کم تین ممالک کے درمیان، داعش کے نام سے ایک خطرناک دہشت گرد گروہ کی دہشتگردی کے خطرے کو ختم کرنے کی ضرورت کے بارے میں خیالات اور مفادات کا اشتراک پایا جاتا ہے۔

ایک سادہ تجزیے میں تہران میں چاووش اوغلو اور ظریف کی 5 گھنٹے کی طویل ملاقات کو گہری ہماہنگی اور زمینی آپریشن سے متعلق لاوروف، ظریف اور اوغلو کے درمیان سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے کے لئے لازمی کوششوں کی ایک نشانی سمجھنا چاہئے۔

لیکن ایک عملی نقطہ نظر سے اس میں کچھ شکوک و شبہات کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ 5 گھنٹے کوئی کم وقت نہیں ہے اور شاید اب بھی ایران اور ترکی کے درمیان  اسد کےمخالفین اور شام میں روس کے کردارکے بارے میں اختلاف موجود ہو اور ممکن ہے چاووش اوغلو اور ظریف کے 5 گھنٹے اسی بحث میں صرف ہوئے ہوں تاہم ایران، ترکی اور روس تینوں ممالک کےدرمیان مذکورہ ملاقاتیں تعلقات، خیالات اور مقاصد کو قریب لانے کے لئے مشترکہ کوششیں لائق تحسین اور قابل قدر ہیں لیکن عقل سلیم اور حقیقت پسندی حکم کرتے ہیں کہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ گزشتہ چند سالوں میں تین ممالک میں سے ہر ایک نے شام کے معاملے میں کسی نہ کسی طرح سے کوششیں کی ہیں اور اس دوران ترکی کے اعمال اور مقاصد ایسے ہیں کہ صرف امید ہی رکھی جاسکتی ہے۔ اس بھث کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ نیٹو کے رکن ملک اور امریکہ کے ایک قریبی اتحادی نے اپنے اہداف سے پسپائی اختیار کی ہے اور مشرق کے نزدیک ہوا ہے۔

موجودہ حالات میں تینوں ممالک کے لئے جو چیز اہم ہے، اس امر سے قطع نظر کرکے کہ شام میں سیاسی تبدیلی کا پیچیدہ منظرنامہ کس طرح انجام پائے گا، تینوں ممالک یہ کوشش کریں کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگ کا جو مشترک نقطہ ہے اس میں اپنی صلاحیتوں کو باہمی ہماہنگی سے استعمال میں لائیں۔ دوسری طرف، شام کے معاملے میں مختلف اہداف اور مقاصد کے حامل دو ممالک ترکی اور روس کے درمیان ایک ہی وقت میں رابطے حقیقت میں ایران کی ہوشیاری، بہترین تعاون، سفارتی صلاحیتوں اور مختلف اختیارات کو احسن طریقے سے استعمال کرنے کو ظاہر کرتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری