پاکستان کا الطاف حسین کے خلاف برطانیہ سے کارروائی کروانے کا فیصلہ

خبر کا کوڈ: 1169619 خدمت: پاکستان
الطاف حسین

حکومت پاکستان نے برطانوی شہری الطاف حسین کے خلاف برطانوی عدالت سے ہی کارروائی کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، حکومت پاکستان نے برطانیہ سے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد الطاف حسین کی حوالگی کا مطالبہ کرنے کے بجائے ان کے خلاف برطانیہ میں ہی قانونی کارروائی کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانیہ میں الطاف حسین کے خلاف کارروائی کرنے میں معاون شواہد برطانوی حکومت کے حوالے کیے جائیں گے۔

اخباری جریدے ایکسپریس نیوز نے ذرائع وزارت داخلہ سے نقل کیا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ سے الطاف حسین کے خلاف کارروائی کے لیے رابطے میں ہیں اور حکومت پاکستان برطانیہ سے الطاف حسین کی حوالگی کا مطالبہ نہیں کرے گی بلکہ برطانوی عدالتوں سے ہی ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کہے گی۔

اس زمرے میں وفاقی حکومت چند روز میں متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد الطاف حسین کے خلاف اکٹھے کئے جانے والے شواہد برطانیہ کے حوالے کرے گی۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے پہلے ہی الطاف حسین  کے خلاف شواہد وفاقی حکومت کو پیش کر دئے ہیں۔

نیز الطاف حسین کے خلاف کاٹی گئی ایف آئی آر کی کاپی بھی وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، برطانوی حکومت نے الطاف حسین کے خلاف قانون کے مطابق باقاعدہ کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

چونکہ الطاف حسین برطانوی شہری ہیں اور پاکستان کا برطانیہ سے ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے لہٰذا الطاف حسین کی برطانیہ سے حوالگی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا بلکہ برطانوی حکومت سے ہی الطاف حسین کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل متحدہ قومی موومنٹ کے بانی و قائد الطاف حسین نے برطانیہ سے ویڈیو لنک پر کارکنوں سے اپنے خطاب میں پاکستان مخالف نعرے بازی کی تھی۔

نیز کارکنان کو تشدد پر اکساتے ہوئے میڈیا ہاؤسز پر حملے کا حکم دیا تھا جس کے نتیجے میں متحدہ کارکنان مشتعل ہو کر ذرائع ابلاغ کے نجی ادارے اے آر وائی کے دفتر پر ٹوٹ پڑے تھے اور توڑ پھوڑ کی تھی۔

فائرنگ کے سبب متعدد افراد زخمی جبکہ ایک شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

الطاف حسین کے ملک خلاف نعروں اور امن خلاف تقریر کے باعث پاکستانیوں میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی ہے اور ملک  بھر میں ان کے خلاف غداری کے مقدمات درج کیے جارہے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری