براہمداغ بگٹی نے امریکہ سے پاکستان کی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کر دیا

خبر کا کوڈ: 1170228 خدمت: پاکستان
براهمداغ بگتی

امریکہ میں ہونے والی ایک تقریب میں بلوچ علیحدگی پسند رہنما براہمداغ بگٹی نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی فوجی امداد بند کردے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، امریکہ کے شہر واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں نواب اکبر بگٹی کی برسی کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی گئی۔

تقریب میں امریکہ میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے ساتھ ساتھ  دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا جبکہ بلوچ علیحدگی پسند رہنما براہمداغ بگٹی نے جنیوا سے وڈیو لنک کے ذریعے تقریر کرتے ہوئے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی فوجی امداد کرنا بند کر دے۔

انہوں نے امید ظاہر کی امریکہ کی نئی حکومت موجودہ حکومت کے برعکس بلوچوں کے حقوق اور مطالبات کو بہتر طور پر سمجھ سکے گی۔

بگٹی کا کہنا تھا کہ ہم حکومت پاکستان سے بلوچوں کے حقوق پر مذاکرات کیلئے تیار ہیں تاہم انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر موجودہ حکومت کسی بات پر متفق ہو بھی جائے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگلی حکومت یا فوج اس معاہدے کا احترام کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاسی لوگ ہیں، مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

اپنی تقریر میں انہوں نے بلوچستان اور کشمیر کے مسئلوں کو جدا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تاریخی پس منظر بھی الگ ہے۔

چونکہ تقریب میں پاکستانی اور بھارتی شہری شریک تھے لہٰذا مسئلہ کشمیر کے تذکرے کے بعد دونوں طرفین میں پر جوش
کلمات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا۔

براہمداغ بگٹی نے اپنے خطاب میں شکوہ کیا کہ پاکستان میں کسی کو بلوچوں کے مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں، پاکستانی حکومت اور عوام دونوں ہی بلوچوں کو نظرانداز کئے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ کو بھی بلوچوں کے مسئلے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ  امریکہ میں آئندہ حکومت بلوچوں کے مطالبات کا احترام کرے گی اور پاکستان کی فوجی امداد معطل کردے گی۔

امریکہ میں تعینات سابق پاکستانی سفیرحسین حقانی کے مطابق، ایک پاکستانی ہونے کے ناطے، میری خواہش تو یہی ہے کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ رہے تاہم اگر حکومت کی بھی یہی خواہش ہے تو انہیں بلوچوں کی شکایات کا ازالہ کرنا چاہئے اور ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری