22پاکستانی سفیروں کا مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے دنیا کا سفر

خبر کا کوڈ: 1170240 خدمت: اسلامی بیداری
پارلمان پاکستان

وزیراعظم پاکستان نے مظلوم کشمیریوں کی حالت زار دنیا کے سامنے لانے کے لئے 22 ارکان پارلیمنٹ کو بطور سفیر مختلف ممالک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بے نقاب کرنے کے لئے 22 ارکان پارلیمنٹ کو مختلف ممالک بھیجنے کے لئے نامزد کیا ہے۔

بھارت کی بربریت، اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل نہ کرنے، پاکستان کا اس بارے میں مؤقف اور مسئلہ کشمیر کی حقیقت دنیا کے سامنے آشکار کرنے کے لئے وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے 22 ارکان پارلیمنٹ کو بطور سفیر مختلف ممالک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خبررساں ادارے ایکسپریس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اٹھانے کے لئے اور دنیا کو بھارتی مظالم سے روشناس کروانے کے لئے وزیراعظم نواز شریف نے 22 ارکان پارلیمنٹ کا ایک خصوصی وفد تشکیل دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، یہ خصوصی نمائندے مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے لائیں گے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کریں گے۔

یہ خصوصی نمائندے بیلجئم، چین، فرانس، روس، سعودی عرب، ترکی، برطانیہ، سویٹزرلینڈ، امریکہ اورجنوبی افریقہ کا دورہ کریں گے۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے اس خصوصی وفد کو پاکستانی عوام کی حمایت، کشمیری عوام کی دعائیں اور پارلیمنٹ کا مینڈیٹ حاصل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کے یہ وفد اقوام متحدہ کو کشمیریوں سے کیا ہوا وعدہ یاد دلائے گا کہ سلامتی کونسل نے کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت دیا تھا لیکن اس قرارداد پر بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو پایا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے سفیروں کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کے مظلوم اور نہتے کشمیری شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے متعلق بریفنگ دی ہے۔

جبکہ چند روز قبل وزیراعظم  پاکستان کے خصوصی مشیر برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی نے بھی بھارتی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے سفیروں کو بریفنگ دی تھی۔

تمام غیر ملکی سفیروں نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اس تنازعے کو پرامن مذاکرات سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری