الکعبی:

سعودیوں کے خریدے ہوئے امریکی میزائل ترکی کے راستے شام میں دہشت گردوں کوفراہم کئے جاتے ہیں

خبر کا کوڈ: 1170843 خدمت: اسلامی بیداری
شیخ اکرم الکعبی

عراق کی نجباء اسلامی مزاحمت تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ سعودی بھاری قیمت ادا کرکے امریکی میزائل خریدتے ہیں جو کہ ترکی کی سرحدوں سے گذرکر شام میں سرگرم تمام دہشت گرد تنظیموں کو فراہم کئے جاتے ہیں۔

تسنیم خبررساں ادارے کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، عراق کی نجباء اسلامی مزاحمت تحریک کے سیکریٹری جنرل شیخ اکرم الکعبی نے آج [ہفتہ 27 اگست کو]، اپنے دورے کے پہلے باضابطہ پروگرام کے طور پر ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر علی لاریجانی سے ملاقات کی، اور اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے عراقی عوام کی مدد و حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: میں ملتِ ایران اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جو عراق اور شام میں ہمارے دوش بدوش کھڑے ہوئے۔ ان دو ملکوں میں ـ دہشت گرد ٹولوں کے خلاف جنگ میں ـ ایرانی مجاہدین کا خون، عراقی اور شامی مجاہدین کے ساتھ، زمین پر گرا۔

حجت الاسلام والمسلمین شیخ اکرم الکعبی نے مزید کہا: اللہ کے فضل و کرم سے عراق میں داعش کے زیر قبضہ بہت سے علاقے ایران کی مدد سے آزاد ہوئے اور ہم نے اس دہشت گرد ٹولے کے خلاف جہاد میں بہت ساری کامیابیاں حاصل کیں۔

انھوں نے کہا: عراق میں داعش کے زیر قبضہ زیادہ تر علاقے آزاد ہوئے اور اس وقت داعشی دہشت گرد صرف موصل اور صحرائے الانبار کے بعض محدود علاقوں میں موجود ہیں۔

انھوں نے عراق میں داعش کی دراندازی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا: جس وقت قابض امریکی فوجی عراق میں تھے، تو وہ سمجھ رہے تھے کہ کچھ فوجی کاروائیوں کے نتیجے میں القاعدہ کا خاتمہ ہوگا، لیکن القاعدہ کو عراق میں فکری بنیادیں حاصل تھیں، چنانچہ یہ دہشت گرد ٹولہ عراق میں رہ گیا اور داعش معرض وجود میں آئی۔

الکعبی ـ جو عراق کی الحشد الشعبی نامی رضاکار عوامی افواج کے اعلی کمانڈر بھی ہیں، نے تزویری لحاظ سے اہم شہر موصل کی آزادی کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عراق میں موصل کی جنگ ایک فیصلہ کن جنگ ہے جو عراق میں اسلامی مزاحمت تحریک کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ موصل کی جنگ امریکہ اور بارزانی کی جماعت کے خلاف لڑا جانے والا معرکہ ہے۔ بارزانی عراقی کردستان میں اسرائیل کی حامی حکومت کے قیام کے درپے ہے۔

الکعبی نے زور دے کر کہا کہ اگر ایران کی حمایت یافتہ مزاحمتی جماعتیں نہ ہوتیں تو عراق افسوسناک صورت حال سے دوچار ہوتا اور نجباء اسلامی مزاحمت تنظیم جو اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت یافتہ جماعتوں میں شامل ہے، عراق کی تمام جنگی علاقوں میں موجود اور سرگرم عمل ہے؛ نیز یہ تنظیم مختلف اوقات میں شام میں بھی حلب کے محاذ پر موجود رہا اور اسی وقت بھی ہمارے مجاہدین حلب میں تعینات ہیں اور انہیں اس علاقے پر غلبہ حاصل ہے۔

انھوں نے حزب اللہ لبنان کے ساتھ نجباء اسلامی مزاحمت تحریک کے تعاون کے بارے میں کہا: ہم دمشق کے منطقۂ "زینبیہ" میں حزب اللہ لبنان کے مجاہدین کے ساتھ حاضر تھے؛ نیز ایک موقع پر ہم اور حزب اللہ کے مجاہدین حلب کے محاصرے کے دوران بھی ساتھ ساتھ تھے اور مل کر خناصر نامی قصبے کی طرف ایک راستہ کھولنے کے لئے کوشاں تھے۔

عراق کی نجباء اسلامی مزاحمت تحریک کے سیکریٹری جنرل نے حال ہی میں آزاد ہونے والے حلب کے شمالی نواحی قصبوں "النبل اور الزہراء" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارے مجاہدین نے النبل اور الزہراء کی آزادی میں بھی مؤثر کردار ادا کیا۔

الکعبی نے تکفیری دہشت گرد ٹولوں کا چہرہ بےنقاب کرتے ہوئے کہا کہ جبہۃ النصرہ کو قطر کی مکمل اور براہ راست حمایت حاصل ہے تاہم سعودی عرب اور امریکہ بھی اس دہشت گرد ٹولے کو مدد پہنچانے میں کوئی موقع یاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

انھوں نے کہا: مختلف قسم کے میزائل سعودیوں کی دولت سے بھاری قیمت پر امریکہ سے خریدے جاتے ہیں اور ترکی کی سرحدوں سے شام پہنچائے جاتے ہیں اور آخرکار شام میں سرگرم تمام دہشت گرد ٹولوں کو فراہم کئے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا: دہشت گردوں کو مختلف ممالک کی طرف سے اس قدر فوجی سازو سامان اور ہتھیار فراہم کئے جاتے ہیں کہ وہ حتی ایک فرد کو مارنے کے لئے بھی مہنگے داموں خریدے جانے والے جدید ترین امریکی میزائل استعمال کرتے ہیں۔

الکعبی نے شام میں "علامتی جنگ بندی" کے اصل منظرنامے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد ٹولوں کو شام میں جنگ بندی اور امن و سکون پر یقین ہی نہیں ہے اور وہ جنگ بندی کے نتیجے میں فراہم ہونے والے مواقع سے ناجائز فائدہ اٹھا کر نئے علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انھوں نے آخر میں مختلف ممالک کی طرف سے دہشت گردوں کی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمارے پاس ایسی دستاویزات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کے 140 ممالک شام میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں اور ہم درحقیقت محض دہشت گردوں کے خلاف نہیں لڑرہے بلکہ ہم آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی قیادت میں 140 ممالک کا مقابلہ کررہے ہیں اور شام میں عظیم کامیابیاں حاصل کرچکے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری