کشمیر میں قتل وغارت کا سبب"برہان وانی" یا کچھ اور؟

خبر کا کوڈ: 1175641 خدمت: مقالات
’’کشمیر لہو لہو‘‘

اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جنگی صورتحال ہے، خاص طور پر جب پوری آبادی خود کو محصور اور مقہور سمجھ رہی ہو۔

پاکستانی تجزیہ نگار جی ایم جعفری نے تسنیم نیوز ایجنسی کو بھیجے گئے اپنے کالم میں کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کے سبب کو "برہان وانی" کی شہادت کے بجائے ہندوستانی حکام کا متعصب رویہ قرار دیا ہے۔

پاکستانی تجزیہ نگار نے اپنا کالم کچھ یوں تحریر کیا ہے:

بھارتی حکومت پوری شد و مد کے ساتھ یہ کہتی نظر آرہی ہے کہ کشمیر میں حالیہ خون خرابے کا اصل سبب برہان وانی کی موت ہے۔ بھارتی حکمرانوں کے بقول، وانی ایک دہشت گرد تھا اور اس کی حمایت میں نکلنے والے لوگ فورسز کے ساتھ الجھ گئے اور مارے گئے، لیکن زمینی حقائق ان کے 60 سالوں سے زائد جاری مظالم سے ملتے جلتے ہیں۔

ویسے تو مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام 1947ء سے اب تک ہر سال تقریبا ایک ہزار سے زائد معصوم جانوں کا نذرانہ پیش کرتے آرہے ہیں لیکن اس بار کیا خاص بات تھی؟

رواں سال کافی عرصے سے کشمیر کے حالات کشیدہ نظر آرہے تھے۔ جون کے مہینے میں فوجی چھاؤنیوں سے گھرے شمالی ضلع "کپواڑہ" میں ایک تصادم میں ہوا جس میں کئی کشمیری جوان  بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے تو لوگوں نے فوج کے ساتھ کام کرنے والے ایک مزدور کا گھر نذر آتش کردیا کیونکہ اس نے وہاں پر موجود بھارت مخالف کشمیریوں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی۔ اطلاع ملتے ہی فورسز نے بغیر کسی ملاحظے کے سب کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔

اسی سال اپریل میں ایک کشمیری مسلمان لڑکی کے ساتھ  بھارتی فوجی اہلکاروں کی عصمت دری کی کوشش پر کشمیریوں کے خون میں غیرت آئی اور پورا ضلع سراپا احتجاج بن گیا اور سرکاری فورسز کی کارروائی میں خاتون سمیت پانچ افراد شہادت کے درجے پر فائز ہوئے، بھارتی حکمرانوں میں سے کسی نے اف تک نہیں کہا۔

کشمیر میں سابق فوجیوں اور وادی چھوڑ کر جانے والے کشمیریوں کی جگہ ہندؤوں کے لیے علیحدہ کالونیاں تعمیر کرنے کےمنصوبے پرکشمیری عوام کے غم و غصہ میں اضافہ ہوا کیونکہ کشمیری عوام کو یہ ڈر ہے کہ بھارتی موجودہ حکومت اس منصوبے کے بہانے کشمیریوں کی شناخت ختم نہ کرے۔

اسی سال کشمیر میں یوم عاشور کے جلوس برآمد کرنے والے سینکڑوں عزاداروں پر بےدردی سے گولیاں بر سائی گئیں جس کے نتیجے میں کئی افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔

یاد رہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں عزاداری کے جلوسوں پر بیس سال سے پابندی ہے، مسلمانوں کی اکثریتی سرزمین پر گویا امام حسین (ع) کا نام لینا بھی جرم ہے۔

مقبوضہ جموں کشمیر سال بھر ایک فوجی چھاؤنی کا سماں پیش کرتا ہے کیونکہ بھارت نے اس چھوٹے سے خطے میں لاکھوں فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جس کی وجہ سے ہر کشمیری عدم تحفظ کا شکار ہو کر یہی سمجھتا ہے کہ اس کی عزت و آبرو کسی بھی وقت بھارتی فوج کے ہاتھوں پامال ہو سکتی ہے۔

اب صورت حال یہ ہے کہ بھارتی حکومت اپنے گریباں میں جھانکنے کے بجائے سارا کیچڑ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔

ھندو متعصب اہلکاروں نے کبھی بھی کشمیریوں کے زخموں پر مرحم رکھنے کی کوشش تک نہیں کی ہے اور جب بھی اس سلسلے میں بات کرتے ہیں تو طاقت کی زبان ہی استعمال کرتے ہیں۔

ہندوستانی وزیر داخلہ "راج ناتھ سنگھ" کا حالیہ دورۂ کشمیر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی حکام کی تمام تر کوششوں کے باوجود، صرف اور صرف "محبوبہ مفتی" نے ان کی حمایت میں حامی بھر لی ہے۔

بھارتی وزیرداخلہ نے کشمیریوں کو ایک بار پھر درجنوں جنازے ہی تحفہ میں دئیے، ان کے کشمیر میں دو روزہ قیام کے دوران مزید دو کشمیری نوجوان جان کی بازی ہار گئے۔

راج ناتھ سنگھ کے سرینگر پہنچتے ہی بھارتی فورسز نے جنوبی قصبہ "اونتی پورہ" میں مظاہرین پر فائرنگ کرکے کئی نوجوانوں کو زخمی کردیا جن میں سے ایک موقعے پر ہی شہید اور دوسرا ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں چل بسا۔

ستم ظرفی تو یہ ہے کہ اکثر صحافیوں نے جب بھارتی وزیر داخلہ سے پوچھا کہ آیا انھیں کشمیر میں ہوئی ہلاکتوں اور ظلم و زیادتیوں پر کوئی پچھتاوا یا افسوس ہے؟ تو اس نے جواب میں کہا کہ "افسوس جتانے سے کچھ نہیں ہوگا"۔

بھارتی فورسز نے نہتے کشمیریوں پر نہ صرف گولیاں چلائیں بلکہ 15 سے 20 سال تک کے جوانوں کی آنکھوں میں چھرے گھونپ کر بینائی سے ہی محروم کردیا۔

واضح رہے، سو سے زائد نوجوانوں کی آنکھوں میں چھرے فائر کیے گئے جن کی عمریں دو سے 30 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

15 سال سے کم عمر کے نصف درجن بچے ایسے ہیں جن کی دونوں آنکھیں متاثر ہوئی ہیں جبکہ کُل ملا کر 50 سے زائد نوجوان بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔

بھارتی وزیر داخلہ کی طرف سے شہداء کے پیاروں یا زخمیوں کے لیے کسی طرح کی کوئی مالی امداد کا وعدہ نہ کرنا اس بات کی غماضی کرتی ہے کہ بھارتی حکومت کشمیری قوم کو قابل سزا سمجھتی ہے۔

سماجی محقیقن کا خیال ہے کہ راج ناتھ سنگھ کے دورے سے کشمیریوں کو کوئی خاص پیکج نہیں ملا، ہاں! البتہ محبوبہ کا لہجہ بدل گیا اور اب وہ بھی حالات کا نزلہ پاکستان پر گرا رہی ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری