خصوصی دستاویزی رپورٹ/

خدمت کے ذریعے دلوں پر حکومت کرنے والا "عبدالستار ایدھی"

خبر کا کوڈ: 1175675 خدمت: پاکستان
ایدھی 4

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کو بیان کرنے کے لئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ ایدھی کا نام بھی چند ایسے ہی لوگوں کی فہرست میں شامل ہے کہ جن کا ذکر سن کر روح میں ایک شادابی پھیل جاتی ہے، بدن میں سکون سا اتر آتا ہے۔

خبررساں تسنیم ادارے کے مطابق، یہی ایدھی، عبدالستار ایدھی چند سال گردوں کے عارضہ میں مبتلا رہنے کے بعد 88 سال کی عمر میں 8 جولائی 2016 کو پاکستان کو یتیم کر گئے۔

اہل دل اور اہل قلم ان کے انتقال کو قائداعظم کی رحلت کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا نقصان قرار دے رہے ہیں لیکن بات یہیں ختم ہو جاتی تو اور بات تھی، ایدھی کی وفات صرف ان کے خاندان کا ہی نہیں، ان کی ایدھی فاؤنڈیشن کا ہی نہیں، یہاں تک کہ پاکستان کا ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کا بھی نقصان ہے، ناجائز قرار دئے جانے کے بعد قتل کا فتوی پانے والے نوزائیدہ معصوموں کا، بےسہارا یتیموں کا، بے آسرا بیواوں کا، لاوارث بوڑھوں کا، اپنے ہی گھر سے دھکے دے کر نکالے جانے والے بزرگوں کا، تعفن زدہ لاشوں کا نقصان ہے۔ ایدھی کی موت، انسانیت کا نقصان ہے۔

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کو بیان کرنے کے لئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، ایسے لوگوں کو دنیا والے کئی ناموں سے، کئی القابات سے یاد کرتے ہیں۔

عبدالستار ایدھی کو بھی بہت سے القابات ملے۔ کوئی ان کو پاکستانی مدر ٹریسا کہتا تھا تو کوئی بابائے خدمت، کوئی فرشتہ رحمت کہہ کے پکارتا تھا تو کوئی ڈاکٹر۔ مولانا، حاجی صاب، مسیحائے انسانیت، قومی ہیرو، امیر ترین غریب انسان، فخر پاکستان، یہ تمام طرز تخاطب عبدالستار ایدھی سے محبت کرنے والوں کی عقیدت کے عکاس ہیں۔

لیکن اس قدر محبت اور عزت سے معمور نام اور القابات پانے کے بعد بھی ان کا یہ جملہ قلم نور سے لکھنے کے قابل ہے کہ بچے، نوجوان، عورتیں سب مجھے ابو کہہ کے پکارتے ہیں جو مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔

آج بھی ایدھی فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے یتیم خانوں میں کم و بیش 20 ہزار بچوں کی ولدیت میں عبدالستار ایدھی لکھا ہوا ہے۔

48 سال کی عمر تک انہوں نے ایمبولینس کے علاوہ کوئی اور گاڑی نہیں چلائی۔ ایک ایمبولینس سے اپنا سفر شروع کرنے والے عبدالستار ایدھی دنیا کا سب سے بڑا نجی فلاحی ایمبولینس کا نیٹ ورک چلانے والے سماجی رہنما تھے۔

اس کا اعتراف گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے بھی کیا لیکن عبدالستار ایدھی کی ذات بھی عجیب بےطلب سی تھی۔ ان کو نہ تو کسی کی قدردانی سے غرض تھی نہ ہی کسی ایوارڈ کی بھوک۔

یہی وجہ ہے کہ تقریبا 20 قومی اور بین الا قوامی اعزازات بھی ان کی انسانیت کے خدمت کے جنون کو نہ کم کر سکے نہ زیادہ۔

ان کو کئی مرتبہ نوبل پرائز کے لئے بھی نامزد کیا گیا۔ جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنی مخصوص زیرلب مسکراہٹ کے ساتھ کہا، نوبل پرائز مل جائے تو ٹھیک ہے نہ ملے تو بھی ٹھیک ہے۔

حاصل کردہ اعزازات کے بارے میں کہا، میں یہ تو نہیں جانتا کہ مجھے کتنے ایوارڈ ملے ہیں البتہ اتنا معلوم ہے کہ ان سے میری بیٹی کی الماری بھر گئی ہے۔

عبدالستار ایدھی سادگی کی معراج تھے۔ نہ صرف یہ کہ وہ ایدھی فاؤنڈیشن کے دفتر سے متصل ایک سادہ سے 2 کمروں پر مشتمل فلیٹ میں اپنی اھلیہ کے ساتھ رہتے تھے بلکہ ان کے پاس ملیشیاء کے سستے ترین 2 جوڑے تھے، ایک میلا ہو گیا تو دوسرا پہن لیا۔ پچھلے 20 سال سے جوتوں کا ایک ہی جوڑا ان کے زیر استعمال تھا۔

ان کے رہن سہن اور عادات و اطوار کے ساتھ ساتھ ان کی باتوں اور لہجے سے بھی بےپناہ سادگی جھلکتی تھی۔

انہوں نے زیادہ پڑھائی نہیں کی تھی، ابھی دوسری جماعت میں ہی تھے کہ تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ دنیا کے غم میرے استاد ہیں۔

ان کو اپنی جھولا سروس سے بہت لگاؤ تھا، ایدھی فاونڈیشن کے دفاتر کے باہر ایک جھولا نصب ہوتا ہے جس پر یہ عاجزانہ اور سادہ سی عبارت لکھی ہوتی ہے کہ قتل نہ کریں، بچہ اس جھولے میں ڈال دیں۔

عبدالستار ایدھی کی محبت اور محنت کی بدولت، ان جھولے میں ڈالے جانے والے کتنے ہی نومولود بچے آج اعلی عہدوں پر فائز ہو کر پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

آج کے اس پرآشوب زمانے میں جہاں بھائی بھائی پر قلیل رقم کے معاملے تک میں اعتبار نہیں کرتا، وہاں لوگوں کا بنا رسید طلب کے ایدھی کو لاکھوں روپے کا عطیہ دے دینا ایک عام سی بات تھی۔

چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا ہے کہ خواتین نے سڑک کنارے کھڑے عبدالستار ایدھی کی جھولی میں اپنا سونے کا زیور اتار کے ڈالا ہے۔

ایسے نوجوان بھی ہیں جنہوں نے اپنی موٹر سائیکل عبدالستار ایدھی کے حوالے کی، وہاں سے پیدل روانہ ہو گئے اور مڑ کر تک نہیں دیکھا۔

ایک مرتبہ رات کی تاریکی میں چند ڈاکوؤں نے ان کو لوٹ لیا۔ بھاگنے سے پہلے ایک ڈاکو نے ان کو پہچان لیا اور اپنے ساتھیوں کو ان کے پیسے لوٹانے کی تاکید کی۔ ساتھی ڈاکوؤں نے حیرت سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ کل جب پولیس مقابلے میں مارے جاؤگے اور تمہارے گھر والے تک تم کو پہچاننے سے انکار کر دیں گے اور تمہاری لاشوں کو لاوارث قرار دے دیا جائے گا تب یہی بندہ آگے بڑھے گا اور اپنے ہاتھوں سے تمہارا کفن دفن کرے گا۔ ارے پہچانو یہ ایدھی ہے۔

ڈاکوؤں نے نہ صرف عبدالستار ایدھی سے لوٹی ہوئی رقم لوٹا دی بلکہ اپنی جانب سے بھی ان کو کچھ چندہ دیا۔

لیکن اب پاکستان کی وہ پہچان، پاکستان کا وہ فخر اس دنیا میں نہیں۔

ان کی انسانیت کی خدمت کا سلسلہ ان کی موت کے بعد بھی ختم نہ ہوا۔ اپنی وصیت میں عبدالستار ایدھی نے اپنی آنکھیں کسی نابینا کو ہدیہ کر دی تھیں۔ ان کے اس نیک عمل سے متاثر ہو کر ملک میں تقریبا 2 ہزار افراد نے اپنے اعضا عطیہ کرنے کی وصیت کر دی۔

عبدالستار ایدھی کی آنکھیں ان کی وفات کے بعد بھی روشن ہیں کیونکہ ان کی آنکھوں نے 2 نابیناوں کی تاریک دنیا کو روشن کر دیا ہے۔

اس دنیا سے کوچ کرنے سے قبل وہ ایدھی فاؤنڈیشن کی ذمہ داری اپنے فرزند فیصل ایدھی کے کاندھوں پر ڈال گئے ہیں۔

فیصل ایدھی کو پاکستان کے عوام کی دعائیں، حمایت، محبت اور اعتماد حاصل ہے۔ انہوں نے ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں سے اپنے والد محترم کی انسانیت کی خدمت کے 6 دہائیوں پر محیط سفر کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ایک مختصر سا جامع جملہ کہا، ابھی ہمیں بہت کام کرنا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ عبدالستار ایدھی اب اس دنیا میں نہیں، آج وہ ہم میں موجود نہیں، ان کو منوں مٹی تلے دفن کر دیا گیا ہے۔ لیکن کیا وہ خاک تھے کہ خاک میں مل کر خاک ہو جائیں؟ یا وہ ایک بیج تھے کہ زمین میں ایک ایدھی دفن ہو اور اس سے سینکڑوں ہزاروں عبدالستار ایدھی پیدا ہوں۔

اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ اپنے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر فقط تماشائی بنیں یا آستینیں الٹ کر میدان میں اتریں اور فیصل ایدھی کے ہاتھ مضبوط کریں، ان کو نوبل پرائز نہ دینے پر مغرب کی مذمت کریں یا ان کے خدمت کے مقصد کو عملی طور پر آگے بڑھائیں، شاہراہوں اور چوراہوں کا نام ایدھی کے نام پر رکھ کرمطمئین ہو جائیں یا ایدھی فاؤنڈیشن کی مالی امداد کریں اور اگر ہم سب مل کر بھی تعاون کریں تب بھی عبدالستار ایدھی کا 6 دہائیوں پر محیط پاکستان اور پاکستانیوں پر کیا گیا احسان اتار نہیں پائیں گے، فقط تسلیم کریں گے۔

عبدالستار ایدھی نے اپنی آنکھیں اپنی موت کے بعد بھی زندہ رکھیں، ان کے باقی وجود کو زندہ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر ان کا مقصد زندہ، ان کی تحریک زندہ، تو ان کی ذات بھی زندہ۔ 

بقول اقبال،

یہ نکتہ میں نے سیکھا بوالحسن (ع) سے
کہ  جان  مرتی  نہیں  مرگ  بدن  سے

اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ عبدالستار ایدھی کو خاک بنا دیں یا امر کر دیں۔ بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کو بیان کرنے کے لئے الفاظ واقعی کم پڑ جاتے ہیں، عبدالستار ایدھی، عبدالستار ایدھی تھے۔

سید عدنان قمر جعفری

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری