جماعۃ الدعوۃ کے زیر اہتمام ''پاک چین اقتصادی راہداری، خوشحالی کے افق'' سیمنار/ تصویری رپورٹ

خبر کا کوڈ: 1176081 خدمت: پاکستان
پروفیشنلز فورم1

جماعت الدعوہ کے زیر اہتمام''پاک چین اقتصادی راہداری، خوشحالی کے افق'' سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت اور امریکہ پاک چین راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے عالمی سطح پر پاکستان مخالف سازشیں شروع کئے ہوئے ہیں۔

خبررساں ادارے تسنیم کے نمائندے نے اسلام آباد سے رپورٹ دی ہے کہ جماعت الدعوہ نے ''پاک چین اقتصادی راہداری، خوشحالی کے افق'' کے عنوان سے ایک سیمنار کا انعقاد کیا جس میں مختلف مقررین نے خطاب کیا۔

سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیاں معاہدے پاکستان کی معاشی و دفاعی قوت کو کمزور کرنے کیلئے کئے گئے ہیں۔

امریکہ بھارت سرکار کی سرپرستی کر کے خطے کے امن کو برباد کر رہا ہے، آرمی چیف کے بیان سے قوم کو حوصلہ ملا ہے، پاک چائنہ راہداری منصوبہ صرف دو ملکوں کا منصوبہ نہیں بلکہ یہ تمام امت مسلمہ کو ایک لڑی میں پرو دے گا، پوری دنیا میں ایسے ممالک ہیں جنہیں چائنہ اقتصادی راہداری قبول نہیں، گلگت، بلتستان، بلوچستان اور جنوبی پنجاب سمیت تمام علاقوں کے افراد کے تحفظات کو دور کرنا ہو گا۔

پاکستانی حکومت کو ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس پر پابندی لگانی چاہئے، بلوچستان میں بھارت کے عزائم بے نقاب ہو چکے ہیں۔

پاکستان کے خارجہ ڈیسک بھارت کی ان شر انگیزیوں کو عالمی فورمز پر بے نقاب کرے۔

مقامی ہوٹل میں ہونے والے اس سیمینار میں جماعت الدعوہ کے سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، مسلم لیگ نواز کے رہنما سابق سینیٹر ظفر علی شاہ، معروف تجزیہ نگار احمد قریشی، پاک پروفیشنلز فورم کے صدر انجینئر حارث ڈار، ڈاکٹر عبدالصبور ڈین آف سوشل سائنسز ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی و دیگر نے خطاب کیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا کہ حکومت پاکستان دونوں ملکوں کے مابین حالیہ معاہدوں پر خاموشی اختیار نہ کرے بلکہ بین الاقوامی سطح پر امریکی و بھارتی مذموم عزائم کو کھل کر بے نقاب کیا جائے۔

غیور پاکستانی قوم امریکہ و بھارت کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
مسلم دنیا میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار امریکا و بھارت کو برداشت نہیں ہے، امریکا بھارت معاہدے پاکستان کے خلاف خوفناک سازش ہیں۔ وطن عزیز کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

بھارت اور امریکہ پاک چین راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے عالمی سطح پر پاکستان مخالف سازشیں شروع کئے ہوئے ہیں۔ پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے ایٹمی قوت ہے اور ہر بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا جانتا ہے۔ ملکی سلامتی کو درپیش خطرات پر کسی صورت خاموشی اختیار نہیں کر سکتے، امریکہ بھارت معاہدہ بھارتی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔

افغانستان میں شکست کھانے والے اب بھارت کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں، کشمیر میں جاری تحریک برصغیر کا نقشہ بدل دے گی، امریکہ بھارت کو افغانستان میں پاکستان کے خلاف کھڑا کرنے کے لیے کردار دے رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں بھارت کے کسی کردار کو برداشت نہیں کرتے، بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر اڈوں کے معاہدوں کے ساتھ پاکستان کے خلاف شرارت کر رہا ہے، جس دن بھارتی اڈے سے امریکہ فضائیہ کا ایک بھی حملہ ہوا تو اللہ کے شیر دہلی کو بھی اپنے پاؤں تلے روند دیں گے۔

حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے تمام صوبوں کے مفادات کا تحفظ کر کے نظریہ پاکستان کی بنیاد پر پاکستان کو پرامن بنانا ہے، غیر ملکی اشاروں پر تکفیری دہشت گردوں نے پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن پاک فوج نے قوم کے ساتھ مل کر ان کے شر انگیز منصوبوں کو ناکام بنا دیا، انہوں نے کہا کہ اب ضرورت ہے کہ بھارت کو بتایا جائے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ نہیں ہے اور ان کا قانون متنازعہ ہے۔

حکومت پاکستان سید علی گیلانی سمیت کشمیر کے تمام رہنماؤں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما سابق سینیٹر سید ظفر علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ پاکستان اور چائنہ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ 46 ارب ڈالر کے مختلف منصوبوں کا مجموعہ ہے، یہ منصوبہ خطے میں گیم چینجر ہے، چائنا پاکستان کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے، دونوں ایک دوسرے کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، پاک چائنہ دوستی ہمالیہ کے پہاڑوں سے اونچی، شہد سے ذیادہ میٹھی سمندر سے زیادہ وسیع اور لوہے سے زیادہ مضبوط ہے۔

اسپیس ریسرچ کے مشترکہ منصوبوں پر معاہدے ہو چکے ہیں، پوری دنیا میں ایسے ممالک ہیں جنہیں چائنہ اقتصادی راہداری قبول نہیں، بھارت اس خطے میں اپنی تھانیداری قائم کرنا چاہتا ہے، اس منصوبے کی وجہ سے بہت سے ممالک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں آچکی ہیں۔

امریکہ کی دوستی کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ 60 ہزار سے زائد افراد اس دوستی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے ایک دوسرے کے ہوائی اڈے اور بحری اڈے استعمال کرنے کا معاہدہ خطے کے لیے بہت ہی خطرناک ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بھارت اور امریکہ یہ اڈے یا تو چائنہ کے خلاف استعمال کر سکتا ہے یا پاکستان کے خلاف۔ یہ معاہدہ پاک چائنہ کے علاوہ کسی اور ملک کے خلاف نہیں ہے، آرمی چیف کے بیان سے قوم کو حوصلہ ملا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہماری پاکستان کے خلاف بننے والے اندرونی و بیرونی ہر منصوبے پر نظر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کئی سالوں سے غیر سیاسی اور غیر قانونی کاموں میں ملوث ہے۔ میں نے ایم کیو ایم کو کبھی بھی سیاسی جماعت نہیں مانا۔ 22 اگست کو جو تقریر ہوئی اس سے پہلے بھی خطرناک تقاریر ہوتی رہیں لیکن جونہی ان کے خلاف کارروائی کی گئی تو ایم کیوایم نے پینترا بدلا، برطانیہ میں الطاف کے خلاف ریفرنس بھیجنا احسن اقدام ہے لیکن پاکستانی حکومت کو بھی ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے اور اس پر پابندی لگائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ راہداری منصوبے سے پاکستان کی سیکیورٹی بھی مضبوط ہوئی ہے۔

معروف تجزیہ نگار احمد قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے قیام پاکستان کے ساتھ ہی سازشوں کا آغاز کر دیا تھا، نوجوانوں کو بھارت کے عزائم سے آگاہ کرنا بہت ضروری ہے، پاکستانی بلائنڈ ٹیم کو تیزاب پلانے کی کوشش کی گئی۔

بھارت ایک ایسا ہاتھی ہے جو دنیا کو چوہے کی نظر سے دیکھتا ہے، پاکستان میں بھارت سے آنے والے کسی کے ساتھ بھی برا سلوک نہیں کیا گیا۔

بھارت پاکستانی نہروں پر غیر قانونی طور پر 600 ڈیم بنا چکا ہے، بھارت میں موجود ہندی سپیکنگ اقلیت جو اقتدار میں ہے، پاکستان کے خلاف دشمنی پھیلا رہی ہے۔

پاک پروفیشنلز فورم کے صدر حارث ڈار نے اس دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بلوچستان، گلگت اور بلتستان میں پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، پاک پروفیشنلز پاکستان کی حفاظت کے لیے ہر طرح کے چیلنجز کا مقابلہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ دشمن اس بات سے سخت خوفزدہ ہے کہ لوگ ایک بار پھر نظریہ پاکستان کی بنیادوں پر متحد و بیدار ہو رہے ہیں اور ان کے دلوں میں بھارت کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو رہی ہے۔ بھارت بھی واضح طور پر یہ دیکھ رہا ہے کہ آخر یہ دھوکے اور ظلم و ستم کب تک چلے گا، وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب اس خطے میں اس کے خلاف تحریک مزید زور پکڑے گی اور اس کے گہرے اثرات ختم ہوں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری