تسنیم؛ اردو زبان بولنے والوں کی خدمت میں اسلام کے خدام کے ہمراہ/ استکبار کے مقابلے اور پاک ایران بہترین تعلقات کا خواہاں


خبررساں ادارے تسنیم کے شعبہ اردو کے ڈائریکٹر نے اس ادارے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاکید کی کہ تسنیم نیوز ایجنسی اردو زبان بولنے والوں کی خدمت میں اسلام کے خدام کے ساتھ مکمل تعاون جبکہ استکبار سے مقابلے اور پاک ایران کے درمیان بہترین تعلقات استوار کرنے کی انتھک کوشش کریگی۔

خبررساں ادارے تسنیم کے شعبہ اردو کے ڈائریکٹر نے اس ادارے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالم اسلام میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینے اور تفرقہ پھیلانے والے عناصر کا مقابلہ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ خبررساں ادارہ تسنیم اردو زبان بولنے والوں کی خدمت میں اسلام کے خدام کے ساتھ مکمل تعاون کریگی جبکہ استکبار سے مقابلے اور پاک ایران کے درمیان بہترین تعلقات استوار کرنے کی انتھک کوشش کریگی۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، تسنیم نیوز ایجنسی شعبہ اردو کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر تقی صادقی صاحب نے سب سے پہلے محترم مہمانوں، بالخصوص تہران سے آئے ہوئے تسنیم نیوز کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر محترم جناب آقای مقدم فر اور مینیجنگ ڈائڑیکٹر تسنیم محترم جناب آقای قلی زادہ کو اس پر نور محفل میں خوش آمدید کہا۔

اردو شعبے کے ڈائریکٹر نے افتتاحی تقریب میں خبررساں ادارے تسنیم کی حمایت کا عملی مظاہرہ کرنے پر قونصل جنرل پاکستان جناب یاورعباس صاحب کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے تقریب سے خطاب اردو زبان میں ہی کیا جو کہ کسی بھی ایرانی کا اردو زبان پہلا خطاب تھا۔

ڈکٹر صادقی کا کہنا تھا کہ اردو زبان کا ایرانی اور برصغیر پاک و ہند کی ثقافت و تاریخ سے گہرا اور مضبوط رشتہ ہے کیونکہ اردو زبان کی اہم اصطلاحات اور ضرب الامثال کی جڑیں فارسی زبان سے ہی ملتی ہیں جبکہ بعض ادبا نے اردو کو فارسی کی خوبصورت بیٹی کا عنوان بھی دیاہے۔

صادقی نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ استعمار کی دشمنیوں اور برصغیر کے مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے، فارسی زبان جو کئی عشروں سے خطے کی سرکاری زبان تھی، ختم کردی گئی جس کے بعد اردو زبان بھی جنوبی ایشیاء میں اپنی جگہ اور اہمیت کھو بیٹھی ہے یہی وجہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے بعض نوجوان اردو زبان سے واقفیت نہیں رکھتے۔

زبانوں کا آپس میں لاتعلق رہنا دوسرے عوامل، جیسے حکومتوں کی غلط پالیسیاں اور ملت اسلامیہ کے مشترک دشمنوں کی سازشوں میں سے ایک ہے جو ایران اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے درمیان غلط فہمیوں اور غلط تصورات کا باعث بنا ہے۔

آج پاکستان اور ایران کے عوام مشترکہ طویل سرحد کے باوجود ایک دوسرے کو اچھی طرح سے نہیں جانتے جب کہ دونوں ممالک کے عوام ماضی میں بہت سے تاریخی، ثقافتی اور سماجی رشتوں کے ذریعے سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔

انہوں نے دونوں ہمسایہ اور دوست ممالک کے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دونوں ممالک کے عوام کے تعلقات تمام شعبوں میں بدقسمتی سے مطلوب نہیں ہیں اور ہمارے مشترکہ دشمن ممالک اس خلا سے ناجائز فائدہ اٹھا کر دوریاں پیدا کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے۔

انہوں نے اسلامی میڈیا کی رسالت اور مشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی میڈیا کا فریضہ اس آیت سے مکمل طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ؛

"الذین یبلغون رسالات الله و یخشونه و لایخشون احدا الا الله و کفی بالله حسیبا" (سورہ احزاب/39)

ترجمہ: وہ لوگ اللہ کے پیغام کو پہنچاتے ہیں اور دل میں اس کا خوف رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ہیں اور اللہ حساب کرنے کے لئے کافی ہے۔

اس آیت کے پیش نظر، اسلامی میڈیا کو چاہئے کہ الٰہی مشن کو لوگوں تک پہنچائے۔

یقینا حقائق کو لوگوں تک پہنچانا ہی الہی مشن کہلاتا ہے، حق و باطل کو بیان کرنا ہی الہی مشن ہے۔ مظلوموں اور محروموں کی حقوق کا دفاع کرنا الہی مشن میں سے ہے۔ لوگوں کی خدمت کرنا بنیادی الہی مشن ہے۔

انہوں نے الہی مشن کی تشریح بیان کرتے ہوئے مزید کہا: اسلام کے دشمنوں اور حقیقی دوستوں کی نشاندہی کرنا بھی الہی مشن ہے۔ اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینا اور اختلاف اور تفرقہ پھیلانے والے عناصر کا مقابلہ کرنا الہی مشن کے اہم ترین اھداف میں سے ہے۔

امت اسلامی کے خادموں اور خائنوں کی شناخت کرانا بھی اسلامی میڈیا کے الہی مشن میں سے ایک ہے۔ عالم اسلام کے درمیان شکوک و شبہات اور غلط فہمیوں کو دور کرنا اور تمام مسلمانوں کے درمیان محبت و اخوت کو فروغ دینا بھی الہی مشن ہے۔

انہوں نے اسلامی میڈیا کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی میڈیا کو صرف ایک اللہ سے ڈرنا چاہئے اور اللہ کے سوا کسی سے بھی خوفزہ نہیں ہونا چاہئے۔

اسلامی میڈیا کی حقائق بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صادقی کا کہنا تھا کہ اسلامی میڈیا کسی بھی قسم کی دھمکیوں اور طاقت کے سامنے سر خم نہیں کرتا اور نہ ہی کسی لالچ یا دھوکے میں آتا ہے بلکہ اپنے علم و آگاہی اور معرفت کے ساتھ امت اسلامی کی مصلحت کے پیش نظر سچائی اور بہادری سے حقائق بیان کرتا ہے۔

اسلامی میڈیا استعماری طاقتوں کی انحرافی سازشوں کے سامنے آہنی دیوار کی حثیت رکھتا ہے اور ہمیشہ سے امت اسلام کو اسلام دشمن عناصر کے ساتھ مقابلہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ بین الاقوامی خبررساں ادارہ تسنیم اس بات پر فخر کرتا ہے کہ پاک و ہند کے عوام اور میڈیا کے تعاون سے اتحاد بین المسلمین اور امت مسلمہ کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے ایک اہم قدم اٹھا رہا ہے تاکہ اردو زبان بولنے والوں کے لئے ایک قابل اعتماد ادارہ بن سکے۔

صادقی نے تسنیم نیوز ایجنسی کے اھداف بیان کرتے ہوئے کہا کہ تسنیم اردو سیکشن کی توجہ کا مرکز پہلے مرحلے میں خاص طور پر پاکستان کی خبروں اور مختلف موضوعات پر ہی مرکوز ہوگا جبکہ انشاءالله اگلے مرحلے میں ہندوستان سے متعلق خبریں نشر کریگا۔

تسنیم نیوز ایجنسی کا شمار، ایران کی ان معروف ترین سائٹوں میں ہوتا ہے جن کے مقاصد میں عالمی سطح پر اسلام مخالف استکباری پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ تسنیم نیوز ایجنسی کے منشور میں اسلامی بیداری کو ترجیح حاصل ہے جو کہ موجودہ دور میں استکبار کے ساتھ سرد جنگ کیلئے ناگزیر ہے۔

تسنیم نیوز اتحاد بین المسلمین کا سبب بننے والی تمام سیاسی، ثقافتی، سماجی، اقتصادی، سائنسی، علمی اور دینی خبروں کو اہمیت دیتا ہے اور ان تمام قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے جو مسلمانوں کے مابین کسی بھی قسم کے تفرقے کا باعث بنتے ہیں۔

ڈاکٹر صادقی کا کہنا تھا کہ تسنیم نیوز ایجنسی کا شعبہ اردو، بالعموم جنوبی ایشیا و عالم اسلام جبکہ بالخصوص پاکستان کیلئے مختص ہے جس کی پالیسی، پاکستان کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی، حکومتوں کے ساتھ تعامل اور پاکستان و ایران کے ''شیعہ، سنی'' عوام کے حقوق کے لئے کوشاں رہنا ہے۔ البتہ یہ ادارہ بغیر کسی فرقہ واریت کے اہل سنت برادری سے شیعوں کے مسلمہ حقوق کی پاسداری کرنے کی بھی توقع رکھتا ہے۔

خبررساں ادارے کے شعبہ اردو کے ڈائریکٹر نے پاک ایران تعلقات میں اس ایجنسی کے کردار کے بارے میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کےلئے کوشاں رہنے کےعلاوہ دونوں ملکوں کے مادی اور معنوی صلاحیتوں کی نشاندہی کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قارئین و صارفین کو اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسیوں اور اتحاد بین المسلمین کے سلسلے میں ترجیحات واضح کرنا ہمارے دیگر اہداف میں سے ایک ہے۔

ایران اور پاکستان کے درمیان تاریخی اور ثقافتی رشتوں کو نقصان پہنچانے والے تمام عوامل کی نشاندہی اور دونوں ممالک کے عوام کے دشمنوں کی استعماری سازشوں کے خلاف تجزیے، رپوٹس اور انٹرویوز لینا، تسنیم نیوز ایجنسی کا ایک اور اہم ہدف ہے۔

پاکستانی میڈیا سے اچھے تعلقات قائم کرکے معلومات اور تجربات کا تبادلہ بھی تسنیم کی اہم پالسیوں میں سے ہے۔

یہ ادارہ سیاسی جماعتوں کی جماعتی تشہیر و تبلیغ میں معاونت نہیں کرے گا، اس لئے کہ تسنیم کے صارفین یہ ہرگز محسوس نہ کریں کہ یہ ادارہ کسی خاص تنظیم یا جماعت کی ترجمانی کررہا ہے بلکہ یہ تو پاکستانیوں کی دل کی آواز ہے جو ان کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ تسنیم نہ صرف عالمی سطح پرمسلمانوں کی ترقی کا خواہاں ہے بلکہ اس کا عزم استعمار اور استکبار یعنی امریکہ، اسرائیل اور تکفیریوں کی اسلام دشمن پالیسیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

کشمیر کے مسئلے میں یہ ادارہ، وہاں کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور دفاع کرتا ہے اور اس کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔

جہاں جہاں پاکستان اور ایران کی پالیسی کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت کرے گی وہاں وہاں تسنیم بھی ان کے ساتھ بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف آواز بلند کرے گا۔

پاکستان میں مقیم ایرانیوں اور ایران میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ زائرین امام رضا علیہ السلام کی مشکلات کی نشاندہی اور مسائل کا حل تسنیم نیوز کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

دہشت گردی، بدعنوانی اور متعلقہ مسائل کے خلاف حکومتی اور فوجی کارروائیوں کی کوریج بھی تسنیم کیلئے اہمیت کی حامل ہے۔

مشہد مقدس میں تسنیم نیوز کے اردو شعبے کے قیام کا مقصد  پاکستان، ایران اور افغانستان کے مشترکہ مسائل کی طرف پاکستانی صارفین و قارئین کی توجہ مبذول کرانا ہے۔