لاریجانی کی فرانسیسی قومی اسمبلی کے اسپیکر سے ملاقات:

بینکاری کے مسائل میں امریکہ کا دوہرا معیار/ مقابل فریق نے بدعہدی کی ہے

خبر کا کوڈ: 1181148 خدمت: دنیا
لاریجانی و فرانسه

ایرانی پارلیمانی اسپیکر نے زور دے کر کہا ہےکہ بین الاقوامی مبصرین کی ریفرنسز کی گواہی کے مطابق، جوہری معاہدے میں ایران نے اپنے ذمے تمام ذمہ داریوں کو پورا کر دیا ہے تاہم مقابل فریق نے اپنی ذمہ داریوں سے منہ چرایا ہے جبکہ یہ بدعہدی معاہدے کے حق میں بے حد نقصان دہ ہے۔

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، فرانس کی قومی اسمبلی کے اسپیکر کلاڈ بارٹلان ایک پارلیمانی وفد کے ہمراہ تہران کے دورے پر آئے ہیں جہاں انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب علی لاریجانی سے ملاقات اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

لاریجانی نےملاقات کے آغاز میں اسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ فرانس کے درمیان تعلقات کی تاریخ کی طرف اشارہ کیا اورکہا: اس دور میں ایران اور فرانس کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کی آمد و رفت باہمی تعلقات کو فروغ دینےمیں دلچسپی کی علامت ہے۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی کم سطح پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

لاریجانی نے اقتصادی تعلقات کے فروغ کو دونوں ممالک کے فائدے میں قرار دیتے ہوئے کہا: توانائی، ماحولیاتی مسائل، صحت، جوہری توانائی، نئی ٹیکنالوجی اور پیٹروکیمیکل دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے لئے نہایت مفید اور مناسب شعبے ہیں۔

فرانس کو ان دہشت گردوں کا بیس نہیں بننا چاہئے جو مذاکرات کرنے کے قابل بھی نہ ہوں

ایرانی پارلمنٹ کے اسپیکر نے مزید کہا کہ ایران کی پارلیمنٹ فرانسیسی قومی اسمبلی اور سینیٹ کےساتھ تعلقات اور تعاون کو فروغ دینا چاہتی ہے اور اس سے متعلق اقدامات کا خیر مقدم کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا: فرانس کو ان دہشت گردوں کا بیس نہیں بننا چاہئے جو بات کرنے کے قابل بھی نہ ہیں۔

فرانس ایران کے ساتھ جوہری تعاون کے مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے

اپنے گفتگو کے دوسرے مرحلے میں لاریجانی نے ایٹمی بجلی گھروں سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگلے چند دنوں میں ہم روس کے ساتھ مل کر دو نئے جوہری بجلی گھروں کی تعمیر کو شروع کرنے جارہے ہیں اور فرانس بھی اس میدان میں اتر سکتا ہے لیکن سب سے پہلے، ایرانی بینکوں کے فرانس کے بڑے بینکوں کےساتھ کام کرنے کے لئے حالات پیدا کئے جائیں۔

ایران نے ایٹمی معاہدے میں لاگو اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے

انہوں نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے اور فریقین میں سے بعض کا اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کر نےکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جوہری مذاکرات، میں طے ہوا تھا کہ دونوں فریقین اس معاہدے کو ایک ساتھ نافذ کریں گے، ہم نے جوہری سرگرمیوں پر محدودیتوں کوقبول کیا جبکہدوسرا فریق جو ایران سے پابندیاں اٹھانے، اقتصادی تعلقات کی سہولت فراہم کرنے کا پابند تھ، نے ابھی تک اپنے وعدوں کو نہیں نبھایا ہے۔

انہوں نے تاکید کہ بین الاقوامی مبصرین کی ریفرنسز کی گواہی کے مطابق، جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کر دیا ہے لیکن مقابل فریق نے اپنی ذمہ داریوں سے منہ چرایا ہے اور یہ بدعھدی طے شدہ معاہدے کے حق میں نہیں ہے۔

بینکاری کے مسائل میں امریکہ کا دوہرا معیار

پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اسی طرح  اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر ممالک کے درمیان تعاون کے راستے میں کچھ بینکاری کے مسائل کی نشاندہی کر تے  ہوئے کہا: امریکہ کا اس سلسلے میں دوہرا معیار ہے۔

لاریجانی نے اس ملاقات کے دوران  فرانس میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں دہشت گردی نے بین الاقوامی رنگ پکڑلیا ہے اور بدقسمتی سے آج دہشت گردوں کے پاس زمین اور جدید ہتھیار بھی ہیں۔

اس صورتحال کوتمام ممالک کے لئےنقصان دہ قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار ان ممالک کی جانب سے دہشت گردوں تک پہنچتے ہیں جو اسلحہ بنانے میں سرفہرست اور معروف ہیں جبکہ یہ اہم ممالک کسی سے ڈھکے چھپے بھی نہیں ہیں۔

پارلیمنٹ کے اسپیکرنے نشاندہی کی کہ موجودہ وقت میں علاقائی بحرانوں کی شدت ان کو حل کرنے کی سیاسی کوششوں سے کہیں زیادہ ہے۔

روس کے ساتھ فوجی تعاون کا مقصد شام میں فوجی حل کی حمایت نہیں بلکہ اس ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ ہے

لاریجانی نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران ہرگز شام اور یمن میں فوجی حل کو قبول نہیں کرتا اور روس کے ساتھ فوجی تعاون بھی شام میں فوجی حل کی حمایت نہیں بلکہ اس ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ہے۔

انہوں نے یادلایا کہ لیبیا میں دہرائی گئی غلطی کو شام میں نہی دہرانا چاہئے، غلط پالیسیوں کو اپنا کر شام کو بےتحاشا بڑھتی ہوئی دہشتگردی کا مرکز نہیں بننے دینا چاہئے جس کی وجہ سے علاقائی اور عالمی سلامتی خطرے میں پڑ چکی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران، عراق کا شیرازہ بکھیرنے کا مخالف ہے اور موصل کی آزادی کے لئے ہم عراقیوں کی مشاورتی مدد کر رہے ہیں۔

پارلیمانی اسپیکر نے عراق کی مختلف پارٹیوں کی وحدت کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے واضح مؤقف پر زور دیتے ہوئےکہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عراق کی تقسیم کا مخالف ہے اور عراق میں تمام جماعتوں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کے ساتھ ساتھ عراقی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ موصل کی آزادی کے لئے بھی عراقیوں کی مشاورتی مدد کر رہے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کا لبنان میں صدر کے انتخاب کے لئے لبنانی عیسائیوں کی موافقت کا خیر مقدم

لاریجانی نے ملاقات کے اختتام پر لبنان میں صدارتی انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کے اس مسئلے کو حل کرنے میں تعاون سے متعلق فرانس کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس بات کے پیش نظر کہ ایک عیسائی کو صدر ہونا ضروری ہے، اسلامی جمہوریہ ایران لبنان میں صدر کے انتخاب کے لئے لبنانی عیسائیوں کی موافقت کی حمایت کرتا ہے۔

کلاڈ بارٹلان: فرانس کے ایوان ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور تسلسل کو بڑھانےکا خیر مقدم کرتا ہے۔

فرانس کی قومی اسمبلی کے اسپیکر کلاڈ بارٹلان نے بھی ملاقات کے دوران، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئے باب کے آغاز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: فرانس اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کے لئے مناسب تیاریوں اور دلچسپی کے ساتھ بینکاری روابط سمیت، جامع تعاون کو تیار ہے۔

انہوں نے فرانس اور ایران کےصدور کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: فرانس اور ایران کے درمیان سرکاری دوروں کے علاوہ دونوں اقوام کے نمائندوں کے درمیان مشاورت اور مذاکرات کی سہولت دونوں ممالک کے تعلقات میں تیزی لانے لے لئے اہم ہے اور فرانس اس طرح کے تعلقات میں پیش رفت اور تسلسل کا خیر مقدم کرتا ہے۔

فرانس ایران میں اپنی سنجیدہ اور حقیقی موجودگی میں دلچسپی رکھتا ہے

کلاڈ بارٹلان نےاسلامی جمہوریہ ایران کو خطے میں ایک اہم ملک قرار دیتے ہوئےکہا: فرانس ایران میں اپنی سنجیدہ اور حقیقی موجودگی اور اس ملک کے ساتھ  وسیع عملی اور اقتصادی تعاون میں دلچسپی رکھتا ہے۔

کلاڈ بارٹلان نے فرانس میں دہشت گردی کے واقعات پر فرانسیسی قوم کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے پر اپنے ایرانی ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فرانس 2014ء کے بعد سے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے اور دہشت گرد گروہ داعش خطے اور شام میں ہمارا مشترکہ دشمن  ہے۔

فرانس العبادی کی حکومت کا حامی ہے

کلاڈ بارٹلان نے اس ملاقات میں عراق میں ہونے والی پیشرفتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فرانس العبادی کی حکومت کا حامی ہے اور ایسی حکومت جو لوگوں کی مؤثر طریقے سے مشکلات حل کرنے کی کوشش کرتی ہے، کی حمایت کرنی چاہئے۔

انہوں نے لبنان میں صدر کے انتخاب کے موضوع کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران اور فرانس کو لبنان میں تمام جماعتوں کی مشارکت کے ساتھ لبنانی صدر کے انتخاب کے مسئلے کوحل کرنے میں مدد کرنا چاہئے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری