امام خامنہ ای نے اپنے پیغام میں آل سعود کو کیوں "شجرہ ملعونہ"سے تعبیر فرمایا؟


امام خامنہ ای نے اپنے پیغام میں آل سعود کو کیوں "شجرہ ملعونہ"سے تعبیر فرمایا؟

رھبر معظم کے دفتر کی ویب سائٹ نے رہبر انقلاب کے آل سعود کو "شجرہ ملعونہ"سے تعبیر فرمانے کی وجہ کو موضوع بنایا ہے اور اس کی وضاحت کی ہے۔

تسنیم پریس کلب کی رپورٹ کے مطابق، رھبر معظم کے دفتر کی ویب سائٹ نے رہبر انقلاب کے آل سعود کو "شجرہ ملعونہ" سے تعبیر فرمانے کی وجہ کو موضوع بنایا ہے اور اس کی وضاحت کی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، رہبرمعظم کے حج کے پیغام کے ایک حصے میں انہوں نے آل سعود کو "شجرہ ملعونہ" سے تعبیر فرمایا ہے، یہ اصطلاح قرآن سے لی گئی ہے جہاں پیغمبرﷺ کے ایک خواب کی طرف اشارہ ہے اور وہ سورہ اسرا کی آیہ 60 میں یوں موجود ہے کہ؛ وَ إِذْ قُلْنا لَکَ إِنَّ رَبَّکَ أَحاطَ بِالنَّاسِ وَ ما جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْناکَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِی الْقُرْآنِ وَ نُخَوِّفُهُمْ فَما یَزِیدُهُمْ إِلَّا طُغْیاناً کَبِیراً :

ترجمہ: اور جب ہم نے کہہ دیا کہ آپ کا پروردگار تمام لوگوں کے حالات سے باخبر ہے اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ صرف لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہے جس طرح کہ قرآن میں قابل لعنت شجرہ بھی ایسا ہی ہے اور ہم لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں لیکن ان کی سرکشی بڑھتی ہی جارہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ شجرہ ملعونہ کیا ہے جس کو خدا نے لوگوں کو آزمانے اور امتحان میں ڈالنے کا ذریعہ بنایا ہے؟ خاص طور پر، اس لئے بھی کہ قرآن کی آیات میں سے کسی اور آیت میں کہیں ایسا درخت اور شجرہ نہی ملتا ہے جس پرخدا کی طرف سے لعنت کی گئی ہو۔

کچھ مفسرین سمجھتے ہیں کہ یہ درخت، شجرہ زقوم ہے اور سورہ صافات کی آیت 62، 63 کا حوالہ دیتے ہیں کہ"أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ إِنَّا جَعَلْناها فِتْنَةً لِلظَّالِمِینَ"

ترجمہ: ذرا بتاؤ کہ یہ ن نعمتیں مہمانی کے واسطے بہتر ہیں یا تھوہڑ کا درخت جسے ہم نے ظالمین کی آزمائش کے لئے قرار دیا ہے۔

اس آیت میں واضح طور پر زقوم کے صرف لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہونے کا حوالہ دیا گیا ہے اور مزید مورد لعنت قرار نہی پایا ہے۔

اس وجہ سے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ لفظ "شجرہ" کے لغوی معنی نہیں کرنا چاہئے بلکہ آیت کے مفہوم کے مطابق، ہم سمجھ سکتے ہیں کہ خدا کا اس شجرہ کے بیان سےکچھ اور ہی مقصد ہے۔ اس طرح کا موضوع سورہ ابراہیم کی آیات 24 اور 26 میں بھی آیا ہے کہ خداوند نے دوعبارتوں "شجرہ طیبہ" اور "شجرہ خبیثہ" کو حق اور باطل کی دو قوتوں کو بیان کرنے کے لئے استعمال کیا ہے: أَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا کَلِمَةًۭ طَیِّبَةًۭ کَشَجَرَةٍۢ طَیِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌۭ وَفَرْعُهَا فِى ٱلسَّمَآءِ» و «وَمَثَلُ کَلِمَةٍ خَبِیثَةٍۢ کَشَجَرَةٍ خَبِیثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍۢ۔(24)

ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ سے بیان کی ہے جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخ آسمان تک پہنچی ہوئی ہے۔

ترجمہ آیت(25): یہ شجرہ ہر زمانہ میں حکم پروردگار سے پھل دیتا رہتا ہے اور خدا لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے کہ شاید اسی طرح ہوش میں آجائیں۔

ترجمہ آیت(26): اور کلمہ خبیثہ کی مثال اس شجرہ خبیثہ کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور اس کی کوئی بنیاد نہ ہو۔

اوپر والی آیات میں بھی مفسیرین خاص طور پر مرحوم علامه طباطبائی کی تشریح کےمطابق، شجرہ کو خاندان اور نسب کے معنی میں لینے کی ضرورت ہے جو کہ عربی زبان میں بھی بڑے پیمانے پر اسی معنی پر اطلاق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، کہا جاتا ہے کہ ایک فلانی کا شجرہ مبارک ہے اس کا مطلب ہے یہ مبارک خاندان اور اصل حسب ونسب رکھتا ہے۔

ائمہ علیہم السلام کی روایات میں بھی خاندان کے لئے درخت استعمال ہوا ہے۔ مثال کے طور پر پیغمبر ﷺ نے امیرالمؤمنین سے فرمایا: أنا و أنت من شجرة واحدة۔۔۔ ترجمہ: میں اور آپ ایک درخت سے ہیں یعنی ایک نسل سے ہیں۔

پس حقیقت میں اس آیت میں بھی شجرہ ملعونہ سے مراد وہ خاندان ہے جو اپنے کردار کی وجہ سے خدا کی طرف سے لعنت کا مستحق قرار پایا ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ خاندان کونسا خاندان ہے ؟

تفسیر نمونہ میں آیا ہے کہ شیعوں اور سنیوں کے بہت سے مفسرین نے روایت کیا ہے: وہ خواب آیت کے شروع میں ذکرہوا ہے، اشارہ ہے اس مشہور واقعےکی طرف جس میں پیغمبر ﷺ نے خواب دیکھا کہ ان کے منبر سے بندر اوپر اور نیچے ہو رہے ہیں پیغمبر اس خواب کے بعد، اتنے غمگین اور اداس ہوئے کہ بہت کم ہنستےتھے۔

اس خواب کو کئی ممتاز سنی علماء بشمول خطیب بغدادی، ترمذی، ابن جریر، امام طبرانی، بیہقی، ابن مردویہ اور اس طرح شیعہ علماء من جملہ شیخ کلینی اور دیگر نے نقل کیا ہے۔ اسی بنیاد پر، شیعہ اور سنی مفسرین (مثال کے طور پر قرطبی نے تفسیر الجامع میں اور فخعرازی نے تفسیر کبیر میں) اس خواب کو پیغمبر کی رحلت کے بعد بنی امیہ کے تخت نشین ہونے کی طرف اشارہ قرار دیا ہے، ایسا خاندان کہ اپنے اعمال کی وجہ سے جہان اسلام میں فتنہ وفساد کے سبب بنے اور تاریخ اسلام کو اس کی اصل راہ سے موڑ دیا ہے۔

اب رہبر انقلاب کے پیغام میں آل سعود کے لئے شجرہ ملعونہ کا استعمال اس انحراف کا اظہار ہے جسے آل سعود نے جہان اسلام میں پیدا کیا ہے اور اپنے کردار اور گفتار سے مسلمانوں کے درمیان فتنوں کے اسباب مہیا کئے ہیں۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ تعاون اور روابط، داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد گروہوں کی مالی اور لاجسٹک سپورٹ، یمن کےمعصوم لوگوں کا قتل عام اور حج کے معاملے میں نااہلی جس کے نتیجے میں گذشتہ سال مسلم دنیا کے 6000 سے زائد حجاج کی شہادت ہوئی، یہ سارے اس خاندان کے ملعون ہونے کی نشانیاں ہیں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری