علماء و مشائخ کونسل پاکستان کے چیئرمین کی تسنیم نیوز سے خصوصی گفتگو؛

سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ فساد فی الارض کا باعث بن سکتا ہے

خبر کا کوڈ: 1182304 خدمت: انٹرویو
غلامہ حسین احمد سعیدی

علماء و مشائخ کونسل پاکستان کے چیئرمین نے حالیہ سعودی مفتی اعظم کے فتوے کے رد عمل میں کہا ہے کہ ایرانی ہمارے اسلامی برادر ہیں اور مفتی اعظم صاحب کا فتویٰ فساد فی الارض اور امت مسلمہ اور خود آل سعود کے لئے بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

علماء و مشائخ کونسل پاکستان کے چیئرمین علامہ حسین احمد سعیدی نے تسنیم نیوز کے نمائندے سے گفتگو کے دوران ہمارے ادارے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں تسنیم نیوز ایجنسی کو پاکستان کی قومی زبان اردو میں کام کا آغاز کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور خوش آمدید کہتا ہوں۔

علماء و مشائخ کونسل پاکستان کے چیئرمین کی تسنیم نیوز سے خصوصی گفتگو کا متن ذیل میں پڑھئے۔

آل سعود اور انکے پیچھے موجود استکبار معاملات میں بگاڑ کا خواہش مند دکھائی دیتا ہے

تسنیم :ایران اور آل سعود کا دراصل مسئلہ کیا ہے؟ کیا امت مسلمہ میں اتفاق نہیں ہو سکتا؟

علامہ حسین احمد سعیدی: بہت اچھا سوال کیا ہے آپ نے،  آپ نے سوال میں ہی آل سعود کا ذکر کر دیا ہے۔ جی بالکل یہ آل سعود کا ہی مسئلہ ہے۔ ایران کو جہاں تک میں جانتا ہوں یہ امت مسلمہ کو ایک جگہ اکٹھے کرنے والے لوگ ہیں نہ کہ انتشار پھیلانے والے۔ پاکستان کے علمائے کرام بھی امت میں اتحاد کے خواہاں ہیں۔ آل سعود اور انکے پیچھے موجود استکبار معاملات میں بگاڑ کا خواہش مند دکھائی دیتا ہے۔ یہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔ آج کا مسلمان بہت سمجھدار اور باشعور ہے۔ وہ یہ سمجھ چکا ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔ اب یہ صرف وقت کی بات ہے کہ جب آل سعود بھی ایران کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے۔ مفتی اعظم سعودیہ کا ایرانیوں کے بارے میں فتوی اسی مبہم پیغام کو لئے ہوئے ہے وگرنہ فتوی کی کیا ضرورت تھی؟ وقت لگے گا لیکن میرا خیال ہے کہ معاملات بہتری کی جانب چل نکلیں گے۔ ہمیں بحیثیت مسلمان پر امید رہنا چاہئے۔

سعودی بادشاہی نظام میں آزادانہ تحقیقات کا کوئی امکان نہیں

تسنیم:منیٰ سانحے کو ایک سال مکمل ہو چلا ہے،  آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟ کیا آپکو لگتا ہے کہ آل سعود آزادانہ تحقیقات ہونے دیں گے؟

علامہ حسین احمد سعیدی: امت مسلمہ کے لئے ایک انتہائی دلسوز اور تکلیف دہ واقعے کی جانب آپ نے اشارہ فرمایا ہے۔ ہم نے بھی بہت سے پیارے اس واقعہ میں کھوئے ہیں۔ جہاں تک بد انتظامی کا تعلق ہے تو اس کا کوئی علاج نہیں۔ یہ کہیں بھی وقوع پذیر ہو سکتی ہے اور کبھی بھی۔ اور جہاں تک تحقیقات کا تعلق ہے تو یاد رہے کہ سعودیہ عرب میں آل سعود کی بادشاہت ہے۔ بادشاہت میں آزادانہ تحقیقات نہیں ہوا کرتیں۔ تاریخ اس پر شاہد ہے۔ خود ایران میں شاہ ایران کے دور کو دیکھ لیں کہ کس طرح کے مظالم ہوئے اور اصل حقائق کو باہر آنے ہی نہیں دیا گیا۔ تحقیقات ہو جائیں تو بہت بڑی بات ہے۔ آزادانہ تو بہت دور کی بات ہے لیکن میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اس سے پہلے ماضی میں بھی بھگدڑ مچ جایا کرتی تھی اور قیمتی جانوں کی شہادت ہو جاتی تھی لیکن یہ معاملہ تو تحقیقات سے ہی واضع ہوگا اور تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ امت کو مزید انتشار سے بچایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پاک فوج کے باقی تمام کارناموں پر فوقیت حاصل ہے

تسنیم: داعش کے پاکستان میں کردار کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور کیا داعش کا پاکستان میں کوئ مستقبل ہے؟

علامہ حسین احمد سعیدی: پاکستان میں کیا، پوری دنیا میں داعش کا کوئی مستقبل نہیں۔ قرآن کریم واضح طور پر فرماتا ہے کہ قل جاء الحق وزحق الباطل, ان الباطل کان زحوقا۔

ترجمہ: فرما دیجئے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے کے لئے ہی تھا،  کے مصداق باطل کو مٹنا ہی ہو گا اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ داعش آج کے دور کا باطل ہے۔ یہ ایک ایسا فتنہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

ہماری پاک فوج نے اس فتنہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے جس پر جنرل راحیل شریف اور انکی پوری ٹیم بلا شبہہ تعریف کے مستحق ہیں۔ یہ ایک اکیلا ایسا کام ہے جو کہ پاک فوج کے باقی تمام کارناموں پر فوقیت رکھتا ہے۔

ایران اور پاکستان کی باہمی تعاون اور مخلص کوشش یقیناً اسرائیل کو نابود کر سکتی ہے

تسنیم:بیت المقدس پر کیا پاکستان اور ایران ایک ہی صفحہ پر ہیں اور کیا بیت المقدس کی آزادی کی مہم ان ممالک کے باہمی تعاون سے ممکن ہے؟

علامہ حسین احمد سعیدی: اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پاکستانی افواج اور تجزیہ نگار اس مسئلے پر وہی مؤقف رکھتے ہیں جو کہ ایران کا ہے۔ باہمی تعاون اور مخلص کوشش یقیناً اسرائیل کو نابود کر سکتی ہے لیکن استعمار نے ان دونوں ممالک کو اس برے طریقہ سے مسائل میں جکڑ دیا ہے کہ اس اہم ترین مسئلے پر فوکس واجبی سا رہ گیا ہے۔ گو کہ ایران بیت المقدس پر بہت سنجیدہ ہے لیکن اکیلے ایران کے لئے آزاد کرا سکنا آج کے دن تک ممکن نہیں ہے۔ میرا خیال غلط بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر پاکستان، ایران اور باقی تمام اسلامی ممالک جس طرح فوجی تعاون بڑھا رہے ہیں اور خطے میں اپنی عمل داری مضبوط کر رہے ہیں واقعتاً وہ وقت دور نہیں جب ہم فلسطین کو آزاد ہوتا دیکھیں گے۔

ایران، ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات کے پیش نظر مسئلہ کشمیر میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے

تسنیم:کیا آپکو لگتا ہے کہ ایران کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی کچھ امداد کر سکتا ہے؟

علامہ حسین احمد سعیدی: میرے خیال میں ایران دنیا میں ایک ایسے گروہ کی نمائندگی کرتا ہے جو مکمل طور پر مسلم امہ کے مسائل پر فکر مند رہتے ہیں۔ ایران بجا طور پر کشمیر پر پاکستان کی امداد کر سکتا ہے اور اس مسئلے میں ایک ثالث کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے کیونکہ مودی کے دورے سے اندازہ ہوا کہ ایران اور ہندوستان کے اچھے تعلقات ہیں اور پاکستان میں یہ تاثر عمومی ہے کہ ہندوستان ایران کی بات مانتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ تاثر کس حد تک درست ہے لیکن بہر حال ایران ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ فساد فی الارض کا باعث بن سکتا ہے

تسنیم:مفتی اعظم سعودیہ کے اس فتویٰ پر کہ ایرانی مسلمان نہیں، آپ کا کیا مؤقف ہے؟

علامہ حسین احمد سعیدی: ہم فساد فی الارض کے قائل نہیں اور ہم اپنے آقا نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کے تابع ہیں کہ جسکا مفہوم ہے کہ کسی کے خدا کو جھوٹا نہ کہو خواہ وہ جھوٹا ہی کیوں نہ ہو کہ اس سے وہ تمہارے خدا کو جھوٹا کہے گا اور اس سے فساد فی الارض پھیلنے کا اندیشہ ہو گا۔ یہاں تو ایرانی ہمارے اسلامی برادر ہیں اور مفتی اعظم صاحب کا فتویٰ فساد فی الارض کا باعث بن سکتا ہے جو کہ امت مسلمہ اور خود آل سعود کے لئے بھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

میں شکر گزار ہوں کہ حافظ مسعود چوہدری نمائندہ تسنیم نیوز اردو کا اور انکی ٹیم کا کہ جنہوں نے اتنا سیر حاصل انٹرویو کیا اور مسلک اہل سنت کو تمام دنیا تک پہنچانے کا کام سر انجام دیا۔ بلا شبہ تمام ٹیم جو کہ تسنیم نیوز کے ساتھ کام کر رہی ہے، کی امت کی فلاح اور امت واحدہ کی جانب سفر کی کاوشیں قابل تحسین و افتخار ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری