نائن الیون؛ افغانستان میں امریکی موجودگی افغان عوام، مغرب یا دہشت گرد گروہوں کے مفاد میں؟


نائن الیون؛ افغانستان میں امریکی موجودگی افغان عوام، مغرب یا دہشت گرد گروہوں کے مفاد میں؟

نائن الیون کے 15 سال گزرجانے کے بعد بھی عمومی طور پر اذہان میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ بالآخر یہ حملہ کس کے مفاد میں تھا؟ البتہ افغانستان میں بدامنی کے بے تحاشا اضافے کی وجہ سے یہ حملہ کم از کم افغان عوام کے حق میں ہرگز نہ تھا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، 11 ستمبر کے حملوں کو ہوئے 15 سال گذر گئے ہیں۔ امریکہ نےدہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بہانے افغانستان پر حملہ کر دیا جس کے باعث علاقے میں عدم تحفظ، منشیات کی اسمگلنگ، مہاجرت اور جانی نقصان میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔

اسی طرح کابل حکومت کے مخالف گروہ بھی اس کی نااہلی کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ نڈر ہوکر دندناتے پھر رہے ہیں۔

ماضی کی طرف صرف ایک نگاہ سے اس سوال کا جواب بڑی آسانی سے مل جائے گا کہ 11 ستمبر کا واقعہ کس کےحق میں تھا؟

سابقہ سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کی وجہ سے سخت مشکلات اور عدم تحفظ نے لوگوں کے لئے طالبان کی اسلامی حکومت کے نعروں کو قبول کرنا آسان بنا دیا تھا اور افغان عوام کو نسبتا پرامید کر دیا۔ ایک ایسی امید کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ  افغان عوام کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی اور ایک بار پھر اس ملک کے عوام ایک اور نجات دہندہ کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔ 2001ء میں11 ستمبر کا واقعہ رونما ہوا جس کے بعد امریکہ نے افغانستان پر لشکر کشی کر دی۔

افغان عوام کے اس دن کے یقین کے مطابق ملک کے لئے امید کا ایک نیا دریچہ کھل گیا تھا۔

واشنگٹن نےنیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد طالبان سے بن لادن کو واشنگٹن کے حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ طالبان کی جانب سےامریکہ کے مطالبہ کے مسترد کر دئے جانے کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے دہشت گردی کو ختم کرنے، خاص طور پر القاعدہ کے خاتمے، افغانستان میں جمہوریت، امن اور استحکام، بدعنوانی اور پوست کی کاشت کے خاتمے کےنعرے کے ساتھ امریکی فوجیوں کی بڑی تعداد (اور اس کے بعد جلد ہی نیٹو افواج) کے ساتھ افغانستان میں قدم رکھا۔

افغانستان میں امریکی فضائی حملوں میں بہت سے شہری اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ڈیٹا بیس، مارک ہیرالڈ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق، 7 اکتوبر2001ء  سے 3 جون 2003ء  تک 3100 سے 3600 کے درمیان شہری ہلاک ہوئے۔

افغانستان میں طالبان کے زوال کے ساتھ اس ملک کے لئےامیدیں واپس لوٹ آئیں اور اس طرح افغانستان نے مختلف شعبوں میں خاص طور پر خواتین کے لئے اہم بنیادی تبدیلیوں کا تجربہ کیا۔

افغان خواتین نے اسکولوں، یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں میں تعلیم، گلیوں اور عوامی مقامات میں آمدورفت اور ذرائع ابلاغ جیسے ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں روزگار کی طرح کے حقوق حاصل کئے۔

دیگرممالک کی جانب سے ابتدائی امداد نےافغانستان کی اقتصادی صورتحال کو نسبتا تقویت بخشی۔

یہاں تک کہ یہ خیال کیا جانے لگا کہ افغانی عوام خوشحالی کی طرف گامزن ہے اور ان کا ملک بھی صحیح راہ پر چل پڑا ہے۔ لیکن افغانستان میں جنگ کے طویل ہونے کے باعث امداد گھٹ گئی۔ غیرملکیوں کے تعاون کا جوش ٹھنڈا پڑ گیا اور شہریوں کی ہلاکتوں میں ایک بڑا اضافہ ہوا۔

دس لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر افغانستان میں نسبتا محفوظ علاقوں میں پناہ لے لی یا خیموں میں رہنے لگے.

افغانستان میں منشیات اور عسکریت پسند حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ کار خوف و ہراس کی وجہ سے افغانستان میں رہنے کو پسند نہیں کرتے اسی لئے دیگر ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

15سال کے بعد یہ افغانستان کے عوام کی خوشحالی کے سراب کا پتہ چلنےلگتا ہے۔ افغان عوام ابھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 11 ستمبر اور امریکہ کے حملے بھی ان کے حق میں نہیں تھے۔

سابق امریکی سفارت کار میتھیو ہوجن نے اوائل میں کہا تھا کہ افغانستان میں واشنگٹن کے حکام سیاسی مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔

رشیہ ٹوڈے کے مطابق، اس امریکی سفارتکار نے 2009ء میں افغانستان میں جاری جنگ کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

انہوں نے اس بات پر زوردیا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی سے عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے اور اس موجودگی نے نہ صرف القاعدہ اور دیگر گروہوں کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں لائی بلکہ اب اس ملک میں لوگ داعش کے نام سے ایک نئے دشمن کےخطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

میتھیو ہوجن کے بقول، جو امریکی رہنما افغانستان میں جیتنا چاہتے تھے انہوں نے اپنے آپ کو ایک سراب کے پیچھے لگا دیا تھا اور افغانستان پر حملہ کر کے صرف اس ملک میں جنگ کو شدت بخشی ہے۔

سابق امریکی سفارتکار کا افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کے قانونی جواز کے بارے کہنا ہے کہ 11 ستمبر کا واقعہ ابھی رونما نہ ہوا تھا کہ جارج بش پر افغانستان پر حملہ کرنے کا زبردست سیاسی دباؤ تھا ۔

15سال بعد، یہ کہنا آسان ہے کہ ہمیں اس ملک پر حملہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔

انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ 11 ستمبر سے قبل افغانستان میں ہمارا کردار خانہ جنگی کی حمایت، 11 ستمبر سے قبل امن کوششوں کی حمایت نہ کرنا، 1980ء کی دہائی میں القاعدہ جیسے گروہوں کی حمایت کرنا تھا. یہ تمام ایسےموضوعات ہیں جن کے بارے میں لوگ اور دنیا آج پوچھ رہے ہیں اوربات کر رہے ہیں۔

افغان ماہرین اور عوام اب اس یقین تک پہنچے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی عسکری موجودگی مغرب والوں اور القاعدہ، انتہا پسند اور دہشت گرد گروہوں کے ہی مفاد میں ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری