عید الاضحی کی مناسبت سے

آل سعود منیٰ حادثے کا مجرم ہے۔

خبر کا کوڈ: 1184813 خدمت: ایران
نماز عید قربان - دانشگاه تهران

اگر رہبر معظم آل سعود کو دھمکی نہ دیتے تو ایک بھی ایرانی حاجی کا جنازہ ایران کے حوالے نہیں کیا جاتا۔

عید الاضحی کی نماز کے خطیب نے اسلامی جمہوری ایران کے وزارت خارجہ پر زور دیا ہے کہ وہ منیٰ حادثے کے المیہ کا نوٹس لے، اگر رہبر معظم آل سعود کو دھمکی نہ دیتے تو ایرانی حجاج کا ایک بھی جنازہ ایران نہ آتا۔

خبررساں ادارے تسنیم کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران میں آج عید سعید الاضحی پوری عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ نماز عید کا سب سے بڑا اجتماع تہران میں ہوا جہاں آیت اللہ خاتمی کی امامت میں نماز عید ادا کی گئی۔

آیت‌الله سیداحمد خاتمی نے عید الاضحی کی نماز کے خطبوں میں حادثہ منی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج شہدائے منی کا عاشورا ہے۔ میں یقین کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ ایرانی اکثر شہدا کے لبوں پر آخری لمحات میں یاحسین (ع) اے حسین (ع) جان جیسے الفاظ تھے اور وہ بھی امام حسین علیہ السلام کی طرح پیاسے ہی شہید ہوگئے۔

آیت اللہ خاتمی نے عید الاضحی سے عید غدیر تک کے ایام کو ''دہہ امامت'' نام دینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوری ایران ان دو عناصر کی بہتر طریقے سے تبلیغات کرے گا۔ ہم ایسے دشمنوں کے مقابلے میں کھڑے ہیں جو کسی بھی صورت اسلام کو پسند نہیں کرتے ہیں۔

عید الاضحی کی نماز کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خاتمی کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دو عناصر ''تقریب اور ولایت'' ہیں جن کو ہم نے ایک دوسرے کے ساتھ اکھٹے لے کر چلنا ہے۔

انہوں نے11 ستمبر کے حادثے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے اس حادثے کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈال دی۔ تقریب کا معنی یہ ہے کہ مسلمان امریکہ کے خلاف آپس میں ایک ہوکر امریکہ مردہ باد جیسے نعروں کو بلند کریں۔

انہوں نےعید غدیر اور علم ولایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہم غدیری ہیں، غدیر ہماری پہچان ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ہم غدیری ہونے کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین نہیں کرتے ہیں ہمارے تمام مراجع نے بھی اس بات کی کھل کر وضاحت کی ہے کہ دوسرے مذاہب کے مقداسات کی توہین جائز نہیں ہے۔

عید قربان کے خطیب نے منی حادثے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ آل سعود حادثہ منی کا مجرم ہے۔ وہ کیمروں کے ذریعے سے منی میں مسلمانوں کے تڑپ تڑپ کر جان دینے کے تمام مناظر دیکھ رہے تھے۔ وہ حاجیوں کے لئے  ہیلی کاپٹر کے ذریعے پانی پہنچا کر بہت سارے مسلمانوں کی جانیں بچا سکتے تھے۔ آل سعود نے نہ تو ایرانی جوانوں کو مدد کرنے کی اجازت دی اور نہ ہی خود نے کچھ کیا۔

انہوں نے کہا منی کے حادثے کا اسلامی عدالتوں کے ذریعے فیصلہ ہونا چاہئے آل سعود بعض زخمی حاجیوں کو مردوں کے ساتھ کنٹینر میں ڈال کر ان کے بھی قتل کا مرتکب ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا: آل سعود حرمین شریفین کے انتظامات کی اہلیت نہیں رکھتی ہے حج کے انتظامات عالم اسلام کے حوالے کر دینے چاہئیں۔

آیت اللہ خاتمی نے کہا: اس حادثے میں 37 ممالک کےحاجی شہید ہوئے لیکن تنہا ایران تھا جس نے اس مسئلے کی طرف توجہ دی۔

اسلامی برادری کب تک ان جرائم کے سامنے خاموش رہے گی؟ اگر یورپ کے کسی ملک میں ہزاروں میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوتا تو ان کی فلک شگاف فریاد سے کان بہرے ہوجاتے لیکن منی میں 7 ہزار انسانوں کی جان گئی کسی یورپ ملک کو احساس تک نہ ہوا۔

خاتمی نے آل سعود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر تم مجرم نہیں ہوتو پھر آزاد تحقیقات کرانے سے کیوں گھبراتے ہو؟
انہوں نے ایرانی وزارت خارجہ سے کہا کہ اس جرم کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی  کی کوششیں تیز کرے۔

یہ منی کے شہدا کے وارثین کا حق ہے کہ ایک آزاد اور حقیقت یاب کمیٹی کے ذریعے اس مسئلے کی قانونی کارروائی کرائی جائے۔

خطیب نے رہبر معظم کے خطاب کی طرف مقرر اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر رہبر کی طرف سے آل سعود کو دھمکی نہ ملتی تو وہ ایرانی شہدا کا ایک جنازہ بھی ایران کے حوالے نہ کرتے۔

اللہ تعالی رہبر معظم کے سایے کو ہمارے سروں پر امام زمان (عج) کے ظہور تک  قائم رکھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری