افغانستان کے مشرقی علاقوں میں داعش کی سرگرمیوں میں اضافہ


افغان حکام نے کہا ہے کہ ملک کے مشرقی صوبے ننگرہار کے مختلف حصوں میں داعش کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار کے بعض بزرگوں اور صوبائی کونسل کے اراکین نے کہا ہے کہ داعش سے تعلق رکھنے والے عناصر نے اس صوبے کے تین شہروں کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا ہے۔

ننگرہار صوبے کے ان قبائلی رہنماؤں کے مطابق، داعش کے حامیوں نے «اچین» شہر کے گردی، مردانه و نری اوبه نامی علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ ننگرہار کی صوبائی کونسل کے بعض ارکان کا بھی کہنا ہے کہ داعش کے خلاف کارروائی میں حکام کے ساتھ تعاون کرنے والے افراد نے بھی اپنے مفادات کی خاطر حکومت کی جانب سے قابل ذکر رقم وصول کی ہے۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ داعش سے تعلق رکھنے والے عناصر نے اچین، کوٹ اور ھسکہ مینہ کی بستیوں پر سرکاری فوج کے انخلاء کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔

ننگرہار صوبائی کونسل کے ایک رکن نے کہا کہ داعش کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کابل حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔

صوبہ ننگرہار سے افغان رکن پارلیمنٹ فریدون خان مومند  نے بھی اس سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں داعش کو کچلنے کے لئے حکومتی کوششوں پر شک ہے کیونکہ وہ لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

یہ بیانات ایسے وقت پر آرہے ہیں کہ ماضی میں بعض افغان ارکان پارلیمنٹ کابل حکومت پر داعش کی پشت پناہی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔