امریکہ کا اقوام متحدہ کے اجلاس میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ


اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکہ نے پاکستان اور بھارت میں سے کسی کی بھی حمایت نہ کرتے ہوئے غیرجانبدار رہنے کا اعلان کیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق، امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مکمل طور پر غیرجانبدار رہے گا۔

ڈان نیوز نے خبر دی ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کشمیر کے حوالے سے امریکی پالیسی واضح کرتے ہوئے بتایا کہ ہم یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت اس مسئلے کو باہمی طور پر حل کریں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک طرف جہاں پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے وہیں بھارت نے بلوچستان کا معاملہ تیار کر رکھا ہے تاہم امریکا نے واضح کردیا ہے کہ وہ اس تناظر میں کسی کی حمایت نہیں کرے گا اور غیر جانبدار رہے گا۔

یاد رہے کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا اقوام متحدہ کی قرارداد ہے جس پر ابھی تک بھارت کی جانب سے عمل نہیں کیا گیا۔

تاہم گزشتہ دہائیوں کے دوران امریکہ کے موقف میں تبدیلی آگئی ہے اور اب وہ کہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر پر دوطرفہ بات چیت کر کے اس مسئلے کو حل کرنا چاہیئے۔

لیکن بھارت اس پر بھی راضی نہیں ہے اور امریکہ کی تاکید کے باوجود پاکستان کی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے بامقصد اور پرامن مذاکرات کی مخلصانہ پیشکش کو مسلسل ٹھکراتا آیا ہے۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان بھرپور طریقے سے کشمیر کا معاملہ اٹھائے گا۔

جبکہ دوسری جانب بھارت بلوچستان کے معاملے کو اپنے خطاب کا حصہ بناتے ہوئے یہ موقف اپنائے گا کہ بلوچ قوم پاکستان سے آزادی چاہتی ہے اور انہیں عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔

فریقین ممالک امریکہ سے یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کے موقف کی حمایت کرے گا تاہم امریکہ نے کسی کی بھی طرف داری نہ کرتے ہوئے مکمل طور پر غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم نواز شریف 21 ستمبر کو جبکہ ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج 26 ستمبر کو خطاب کریں گی۔