ایران نے سعودی عرب کے اقوام متحدہ کے نام خط کو بے بنیاد قرار دے دیا

خبر کا کوڈ: 1189995 خدمت: ایران
جنگ یمن

سعودی حکام نے سلامتی کونسل کے نام ایک خط میں تہران کی جانب سے یمن کو اسلحہ فراہم کرنے کا دعویٰ کیا تھا جسے ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے نے سعودی عرب کی جانب سے سلامتی کونسل کےنام لکھے گئے خط کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی حکام نے سلامتی کونسل کے نام اپنے خط میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران یمنی عوام کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے سعودی حکام کے قرارداد 2216 کی خلاف ورزی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خط میں بے بنیاد الزامات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جنہیں کوئی بھی غیرجانبدار فریق ثابت نہیں کرسکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے اور سعودی عرب بڑے پیمانے پر یمنی عوام کے خلاف غیر مساوی اور غیرمعقول جنگ میں ملوث ہے اور نہتے شہریوں، بچوں اور خواتین کے خلاف ناقابل تردید جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے مزید کہا کہ سعودی عرب یمن کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے لئے بڑی بے شرمی کے ساتھ ہسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کرتا جارہا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ریاض حکومت اسلامی جمہوریہ ایران پر بین الاقوامی قراردادوں کی خلاف ورزی کا الزام لگا تا ہے جبکہ دستاویزی رپورٹوں کے مطابق، سعودی حکام خود متعدد مواقع پر بین الاقوامی قانون اور شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے کے بیان میں آیا ہے: تعجب کی بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں جب سعودی عرب یمن کے ساتھ جنگ میں لوگوں کے خلاف استعمال کرنے کے لئے اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کو خریدتا ہے اور انہیں بڑی بے دردی سے استعمال بھی کرتا ہے، سلامتی کونسل سے یمن میں ہتھیاروں کے بھیجنے کے بارے میں شکایت کرتا ہے!

اس بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران یمن میں فوجی حل پہ یقین نہیں رکھتا بلکہ ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے تنازعات اور کشیدگیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے اور تمام فریقین کو قانونی اور پرامن طریقے سے راہ حل کی دعوت دیتا رہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری