امام ہادی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے؛

امام علی نقی علیہ السلام منار نور الہی

خبر کا کوڈ: 1190200 خدمت: مقالات
امام هادی

امام علی نقی علیہ السلام، پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ کی حدیث مبارکہ "میرے بعد میرے بارہ امام ہوںگے" (ائمتی من بعدی اثنا عشر۔۔۔) کے مطابق، دسویں امام ہیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی: امام علی نقی علیہ السلام پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ کی حدیث میرے بعد میرے بارہ امام ہوںگےِ(ائمتی من بعدی اثنا عشر۔۔۔) کے مطابق،دسویں امام ہیں۔

امام علیہ السلام نے اپنے زمانے کے مختلف مکاتب اور فرقوں کے اکابرین کے ساتھ ایک اجلاس سے خطاب کرکے قرآن سے استناد کیا اور سب کو اپنی رائے قبول کرنے پر آمادہ کیا۔

آپ کا نام علی، والد کا نام محمد اور ابو الحسن کنیت ہے۔ علی نقی کے نام سے زیادہ معروف ہیں اور آپکو امام ہادی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ علیہ السلام سنہ 220 سے 254 ہجری تک یعنی 34 برس تک شیعیان اہل بیت علیہ، السلام کی امامت کے منصب پر فائز رہے۔

آپ علیہ السلام کی عمر کے اکثر ایام سامرہ میں عباسی حکمرانوں کے زیر نگرانی گزرے۔ آپ علیہ السلام متعدد عباسی حکمرانوں کے ہم عصر تھے جن میں اہم ترین متوکل عباسی تھا۔ آپ علیہ السلام کا مرقد شریف سامرہ میں واقع ہوا ہے۔

امام ہادی علیہ السلام سے اعتقادات، تفسیرِ قرآن، فقہ اور اخلاق میں متعدد احادیث منقول ہیں۔ زیارت جامعۂ کبیرہ، جو اعلی ترین شیعہ اعتقادی مضامین پر مشتمل اور امام شناسی کا ایک درس کامل ہے، آپ علیہ السلام ہی کی یادگار ہے۔

امام علی النقی اور قرآن کی بنیادی حیثیت

اہل تشیع کے درمیان غُلات کی سرگرمیوں کی وجہ سے معرض وجود میں آنے والے انحرافات کی وجہ سے دوسرے فرقوں نے مکتب تشیع کو اپنی یلغار کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ ان انحرافات میں سے ایک تحریف قرآن کا مسئلہ تھا جس کا تصور البتہ تشیع تک محدود نہیں ہے بلکہ اہل سنت کی بعض کتب و مآخذ میں بھی تحریف کے سلسلے میں بعض غلط روایات نقل ہوئی ہیں۔

اس تہمت کا ازالہ کرنے کے لئے آئمۂ شیعہ نے قرآن کو بنیاد قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو روایت قرآن سے متصادم ہو وہ باطل ہے۔

امام ہادی علیہ السلام نے ایک مفصل رسالہ لکھا جس میں آپ علیہ السلام نے قرآن کی بنیادی حیثیت پر زور دیا اور قرآن ہی کو روایات کی کسوٹی اور صحیح اور غیر صحیح کی تشخیص کا معیار قرار دیا۔ قرآن کو ایک باضابطہ طور پر ایک ایسا متن قرار دیا کہ تمام اسلامی مکاتب فکر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ رسالہ ابن شعبہ حرانی نے نقل کیا ہے۔

امام علیہ السلام نے اپنے زمانے کے مختلف مکاتب اور فرقوں کے اکابرین کے ساتھ ایک اجلاس سے خطاب کرکے قرآن سے استناد کیا اور سب کو اپنی رائے قبول کرنے پر آمادہ کیا۔

عیاشی کی روایت میں ہے کہ "کان ابو جعفر وابو عبد الله علیهما السّلام لا یصدّق علینا إلا بما یوافق کتاب الله وسنّة نبیه"، ترجمہ: امام ابوجعفر و امام ابو عبداللہ علیہما السلام ہمارے لئے صرف ان روایات کی تصدیق فرمایا کرتے تھے جو قرآن و سنت کی موافق ہوتی تھی۔

اسی بناپرامام علیہ السلام جب سامرہ گئے تو وہاں اس قدر صاحب عظمت و رأفت تھے کہ سب آپ علیہ السلام کے سامنے سر تعظیم خم کرتے تھے اور نہ چاہتے ہوئے بھی آپ علیہ السلام کے سامنے منکسرالمزاجی کا اظہار کرتے اور آپ علیہ السلام کا احترام کرتے تھے۔

امام علی نقی علیہ السلام سامرہ میں جبری اقامت 20 سال اور 9 ماہ کی مدت کے دوران ظاہری طور پر آرام کی زندگی گزار رہے تھے مگر متوکل انہیں اپنے درباریوں میں لانا چاہتا تھا تاکہ اس طرح وہ امام کی مکمل نگرانی و جاسوسی کر سکے نیز لوگوں کے درمیان امام علیہ السلام کے مقام کو گرا دے۔

متوکل کو خبر دی گئی کہ امام علیہ السلام کے گھر میں جنگی اسلحہ اور شیعوں کی جانب سے امام کو لکھے گئے خطوط موجود ہیں۔ اس نے ایک گروہ کو امام علیہ السلام کے گھر پر غافل گیرانہ حملے کا حکم دیا۔ حکم پر عمل کیا گیا جب اس کے کارندے امام کے گھر داخل ہوئے تو انہوں نے اس گھر میں امام علیہ السلام کو ایسے کمرے میں تنہا پایا جس کا دروازہ بند تھا اور اس کے فرش پر صرف ریت اور ماسہ موجود تھا۔ امام علیہ السلام پشم کا لباس زیب تن کئے اور سر پر ایک رومال لئے قرآنی آیات زمزمہ کر رہے تھے۔ امام علیہ السلام کو اسی حالت میں متوکل کے حضور لایا گیا۔

جب امام علیہ السلام متوکل کے پاس حاضر ہوئے تو متوکل کے ہاتھ میں ایک کاسۂ شراب تھا۔ اس نے امام علیہ السلام کو اپنے پاس جگہ دی اور شراب کا پیالہ امام علیہ السلام کو پیش کیا۔ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: "میرا گوشت و پوست شراب سے ابھی تک آلودہ نہیں ہوا ہے". اس نے امام علیہ السلام سے تقاضا کیا کہ وہ اس کے لئے اشعار پڑھیں جو اسے وجد میں لے آئے۔ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ میں اشعار کم کہتا ہوں۔ متوکل کے اصرار پر امام نے درج ذیل اشعار پڑھے:

باتوا علی قُلَلِ الأجبال تحرسهم  غُلْبُ الرجال فما أغنتهمُ القُللُ
ترجمہ: انہوں نے پہاڑوں کی چوٹیوں پر رات بسر کی تا کہ وہ ان کی محافظت کریں  لیکن ان چوٹیوں نےان کا خیال نہ رکھا۔

واستنزلوا بعد عزّ عن معاقلهم  فأودعوا حُفَراً، یا بئس ما نزلوا
ترجمہ: عزت و جلال کے دور کے بعد انہیں نیچے کھینچ لیا گیا  انہیں گڑھوں میں جگہ دی گئی اور کتنی ناپسند جگہ اترے ہیں۔

اشعار اختتام پذیر ہوئے تو متوکل سمیت تمام حاضرین سخت متاثر ہوئے یہاں تک کہ متوکل کا چہرہ آنسؤوں سے بھیگ گیا اور اس نے بساط مےنوشی لپیٹنے کا حکم دیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری