نیویارک ٹائمز میں ایرانی وزیر خارجہ کے یادداشت کی اشاعت پرآل سعود سیخ پا/

«الجبیر»، «ظریف» کے آرٹیکل سے پریشان ہے یا «مردہ باد آمریکہ»کے نعرے سے؟

خبر کا کوڈ: 1191033 خدمت: مشرق وسطی
جبیر

ایرانی وزیرخارجہ کے نیویارک ٹائمز میں شائع شدہ نہایت اہم تنقیدی کالم پر سعودی وزیر خارجہ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک امریکی اخبار میں اسلامی انقلاب کے بنیادی نعروں میں سے ایک پر آل سعود کے غصے کی داستان سنادی.

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، سعودی وزیر خارجہ «عادل الجبیر» نے اخبار "وال سٹریٹ جرنل" کے اتوار کو شائع ہونے والے نسخے کے ایک مضمون میں محمد جواد ظریف کے سعودی عرب اور وہابیت کے خلاف تنقیدی یادداشت پر رد عمل کا اظہار کیا ہے اور غصے میں تہران کے خلاف بہت پرانے الزامات کو دہرایا ہے۔

جبیر، جن کا ملک کھلم کھلا شام اور یمن میں مسلح دہشت گرد گروہوں کی حمایت کر رہا ہے، نےعام طور پر مغرب والوں کی جانب سے ایران کے خلاف اٹھائے جانے والے پرانے الزامات کو دہرانے کی کوشش کی۔

ظریف نے اپنے یادداشت میں لکھا تھا: اگرچہ وہابیت نے مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے حصے کو اپنے کنٹرول میں لیا ہے لیکن بہت زیادہ تباہ کن آثار وجود میں لایا ہے۔

تقریبا تمام دہشت گرد گروہ جو اسلام کے نام سے غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں (شام میں  القاعدہ اور اس کی شاخوں سے لے کر نائیجیریا میں بوکو حرام تک تمام دہشت گرد گروہ)، اس مہلک فرقے سے متاثر ہوئے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا تھا کہ 11 ستمبر کے بعد کئی بار عسکریت پسند وہابیت نے بھیس بدل دیا ہے اور خوفناکترین خونریزیوں کا مرتکب ہوا ہے۔

لیکن سعودی وزیر خارجہ بظاہر"مردہ باد امریکہ" کے نعرہ سے بھی پریشان ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے مضمون میں اس کی نشاندہی بھی کی ہے۔ جس کا مقصد بے شمار دہشت گرد کارروائیاں کرنے والے انتہا پسند وہابیوں کی سعودی حمایت سے رائے عامہ کی  توجہ ہٹانے کے لئے ایران کے اسلامی انقلاب کے نچوڑ «مردہ باد امریکہ »کے نعرے کو خطے اور دنیا کے امن کو متاثر کرنے والا قرار دینا ہے۔

یادداشت کے اختتام پر، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا  تھا کہ وہ کسی طور پر بھی دہشت گردی سے نمٹنے کی کوششوں میں سعودی عرب کو حذف کرنے کی تجویز نہیں دیتا بلکہ اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ یہ ملک انتہا پسندی اور پروپیگنڈے کو ترک کر کے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی برادری سےتعاون کرے۔

جبیر نے بھی غصے سے بھرے مضمون کے آخر میں دعویٰ کیا ہے کہ ریاض، تہران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا خیر مقدم کرتا ہے اگرچہ ان کے گمان کےمطابق، ایران کے ساتھ تعلقات ماضی میں بھی بہت حوصلہ افزا نہیں رہے ہیں۔

سعودی وزیر خارج کےمضمون کے شائع ہونے سے پہلے سعودی ذرائع ابلاغ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کے قاطع اور سلجھے ہوئے مضمون پر ردعمل ظاہر کیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں